خبریں

گجرات ہائی کورٹ نے احمد آباد کی تاریخی درگاہ کی بے دخلی کے فیصلے پر روک لگائی

ریلوے نے احمد آباد کے کالوپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع 500 سال سے زیادہ قدیم حضرت کالو شہیددرگاہ کو بے دخلی کا نوٹس دیا ہے۔ درگاہ کے منتظمین نے اس نوٹس کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خاطر خواہ شواہد ہیں کہ یہ 1947 سے پہلے کا ایک تسلیم شدہ اور قانونی ڈھانچہ ہے۔

احمد آباد شہر کےکالوپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع درگاہ حضرت کالو شہید۔ (تصویر: تاروشی اسوانی)

احمد آباد شہر کےکالوپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع درگاہ حضرت کالو شہید۔ (تصویر: تاروشی اسوانی)

احمد آباد: گجرات کے احمد آباد شہر کے کالوپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع 500 سال سے زیادہ قدیم حضرت کالو شہیددرگاہ کو ریلوے حکام نے ریلوے اسٹیشن کی از سر نو تعمیر کے لیے راستہ بنانے کے لیے بے دخلی کا نوٹس دیا ہے۔

درگاہ انتظامیہ نے اس نوٹس کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ریلوے حکام کی اس دلیل کو مسترد کرنے کے لیے ضروری دستاویز موجود ہیں کہ یہ‘غیرقانونی تعمیر’ ہے۔

گزشتہ 10 نومبر کو کیس کی سماعت کے دوران گجرات ہائی کورٹ کی جسٹس ویبھوی ناناوتی نے تمام فریقین کو صورتحال کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 16 جنوری 2024 کو ہوگی۔

ریل لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ایل ڈی اے) احمد آباد اور ویسٹرن ریلوے کے سینئر سیکشن انجینئر کی طرف سے 26 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ احمد آباد اسٹیشن کی تعمیر نو کا کام جلد شروع کیا جائے گا اور درگاہ انتظامیہ کو 14 دنوں کے اندر ڈھانچہ ہٹانے کی ہدایت کی جائے گی۔

نوٹس میں درگاہ کو ‘غیرقانونی’ ڈھانچہ قرار دیا گیا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ اسٹیشن کے احاطے میں واقع ہے۔

معلوم ہو کہ یہ حضرت کالو شہید کی درگاہ ہی ہے، جس کی وجہ سے قریبی ریلوے اسٹیشن اور آس پاس کے علاقوں کو ان کے نام ملے ہیں، جیسےکہ کالوپور ریلوے اسٹیشن اور کالوپور بستی۔

‘درگاہ آزادی سے بھی پہلے کی ہے’

درگاہ کے محافظ منظور مالک نوٹس سے حیران ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ‘حضرت کالو شہید کی مقدس زیارت گاہ 500 سال سے زیادہ قدیم ہے۔ ہر روز کم از کم 500 لوگ یہاں آتے ہیں۔ یہ صرف درگاہ  نہیں ہے،مسلمان درگاہ کے احاطے میں موجود مسجد میں نماز بھی پڑھتے ہیں اور صدیوں سے ایسا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ درگاہ راتوں رات غیر قانونی کیسے ہو گئی؟’

مالک اور مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی سالوں سے متعلقہ افسران سے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور بجلی کے کنکشن سمیت متعدد اجازت نامے مانگ رہے ہیں، جو ان کے بقول انہیں دی گئی ہے۔

جہاں آر ایل ڈی اے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ درگاہ کالوپور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو میں مداخلت کرتی ہے، وہیں درگاہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈھانچے کو ہٹائے یا تبدیل کیے بغیراسٹیشن کو توسیع اور ترقی دی گئی ہے۔

ایک این جی او سنی عوامی فورم کے فیروز خان امین کا کہنا ہے کہ درگاہ کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں کہ یہ 1947 سے پہلے کا ایک تسلیم شدہ اور قانونی ڈھانچہ ہے اور اسے ‘وکاس’ کے نام پر گرایا نہیں جانا چاہیے۔

درگاہ کے پاس تمام دستاویزات ہیں

نوٹس کے جواب میں درگاہ انتظامیہ نے سرکاری دستاویزوں کے ساتھ مختلف مثالوں کی طرف اشارہ کیا ہے ،جنہوں نے درگاہ کے وجود کی تصدیق کی ہے اوراسے اتھارائزڈ کیا ہے۔ خاص طور پر، انتظامیہ کے پاس 1912 کی ایک دستاویز ہے، جو اس عمارت اور اس سے منسلک احاطے کی توثیق کرتی ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ 1965 میں ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے درگاہ کے مجاور کو خط لکھ کر مطلع کیا تھا کہ ریلوے بورڈ نے ریلوے کی زمین پر کھڑی مذہبی عمارتوں کے لیے سالانہ 1 روپے لائسنس فیس وصول کرنے کافیصلہ لیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر درگاہ ‘غیر قانونی’ ہوتی تو حکام کبھی لائسنس فیس وصول نہ کرتے۔

انتظامیہ کے مطابق، سال 1972 میں ایک خط میں ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (ورکس) نے کالو شہید درگاہ کے چیئرمین کو مطلع کیا تھا کہ 1965کے بعدسے لائسنس کی فیس 1 روپے سے بڑھا کر 20 روپے سالانہ کر دی گئی ہے۔

اس کے مطابق، جب 23 جولائی 2022 کو وقف ایکٹ، 1995 نافذ ہوا، تو درگاہ کو ‘حضرت کالو شہید (رح) درگاہ’ کے طور پر رجسٹر کیا گیا اور گجرات اسٹیٹ وقف بورڈ کے ذریعہ اسے رجسٹریشن نمبر (056-احمد آباد) دیا گیا۔

سماجی کارکن اور وکیل شمشاد پٹھان نے الزام لگایا کہ اسٹیشن کی ‘تعمیر نو’ سے ‘متاثر’ ہونے والے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو فیصلہ سازی کے عمل سے ‘سائیڈ لائن’ کر دیا گیا ہے۔ پٹھان کہتے ہیں،‘پالیسی ان لوگوں کے جذبات کو مدنظر رکھ کر بنائی جانی چاہیے جو حکومت کے فیصلے سے دراصل متاثر ہوں گے۔’

انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔