خبریں

کشمیر میں فوج کی حراست میں شہریوں کی موت سے متعلق ’کارواں‘ کی رپورٹ کو حکومت نے ہٹانے کو کہا

’کارواں‘ میگزین کو آئی ٹی ایکٹ کے تحت موصولہ  ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر وہ اپنی ویب سائٹ سے جموں و کشمیر میں فوج کے ہاتھوں عام شہریوں کی مبینہ ہلاکت سے متعلق رپورٹ کو نہیں ہٹاتی ہے ، تو پوری ویب سائٹ ہٹا دی جائے گی۔میگزین نے اسے عدالت میں چیلنج کرنےکی بات کہی ہے۔

کارواں میگزین کا لوگو۔

کارواں میگزین کا لوگو۔

نئی دہلی: ایک میڈیا ہاؤس کے خلاف متنازعہ انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ – جس کے قوانین میں 2021 میں اور پھر 2023 میں ترمیم کی گئی تھی – کے استعمال کی ایک مثال کے طور پر ، کارواں میگزین کو جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں ہندوستانی فوج پر مظالم اور قتل کے الزامات  پر  اپنی رپورٹ ہٹانے کو کہاگیا ہے۔

سوشل سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کارواں نے اعلان کیا کہ اسے آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اے کے تحت نوٹس موصول ہوا ہے، اور وہ اس حکم کو چیلنج کرےگا۔ میگزین نے کہا کہ ‘آرڈرکے مندرجات خفیہ ہیں۔’

Carvan Report

میگزین سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی ویب سائٹ سے رپورٹ کو ہٹانے میں ناکام رہتی ہے تو پوری ویب سائٹ کو ہٹا دیا جائے گا۔ یہ رپورٹ میگزین کے پرنٹ ایڈیشن میں بھی شامل ہے، جسے سبسکرائبرز کو میل کیا جاتا ہے اور نیوز اسٹینڈز پر فروخت کیا جاتا ہے۔

میگزین کے فروری کے شمارے میں شائع ہونے والی اور صحافی جتندر کور طور کی تحریر کردہ رپورٹ ‘اسکریمس رام دی آرمی پوسٹ’، ایک جامع رپورٹ تھی۔

یہ رپورٹ 22 دسمبر 2023 کو مبینہ طور پر نامعلوم فوجیوں کے ہاتھوں تین شہریوں کے قتل پر مرکوز تھی  ۔ ان ہلاکتوں کو میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں فوج کی حراست میں مارا گیا تھا اور ان کے ساتھ تشدد کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے تھے۔ فوج نے صرف اتنا کہا ہے کہ معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔

دی کارواں نے اپنی رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے بات کی، جس میں ایک مثال بھی شامل ہے، جہاں فوج نے موت کے بعد بغیر کسی وضاحت کے ایک خاندان کو 10 لاکھ روپے ادا کیے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں تین افراد مارے گئے تھے، وہیں بڑی تعداد (25)میں  لوگوں کو فوج نے اٹھا لیا تھا اور ان پر’شدید تشدد’ کیا تھا۔ رپورٹ میں ایک بریگیڈیئر کا نام بھی آیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا، اس کے احکامات انہوں نے ہی دیے تھے۔’

رپورٹر کو جو بھی ہاتھ لگا،اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کارواں نے پولیس، فوج اور ضلع انتظامیہ کے کئی افسروں سے رابطہ کیا۔ ان میں سے کسی بھی افسر نے میگزین کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

آئی ٹی کے متنازعہ قوانین وزارت اطلاعات و نشریات کو ناشر کو سنے بغیر، نیوز ویب سائٹس سمیت ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے مواد ہٹانے کے ہنگامی اختیارات دیتے ہیں۔ دی وائر سمیت کئی میڈیا ہاؤس اور دیگر نے ان قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور اس پر سماعت جاری ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں  ۔