خاص خبر

کشمیری شال فروشوں پر حملے کے بعد ہماچل پردیش اور ہریانہ میں ایف آئی آر درج

ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کشمیری شال فروشوں پر حملوں کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے شمالی ہندوستان میں کشمیری تاجروں کے خلاف ہراسانی اور تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دہشت کا ماحول قرار دیا ہے۔

کشمیری پشمینہ شال، جس پر سوئی اور ریشم سے ہاتھ سے کڑھائی کی گئی ہے۔تصویر: وکی میڈیا کامنس

نئی دہلی: کشمیری شال فروشوں پر حملے کے واقعات کےبعد ہماچل پردیش اور ہریانہ میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، یہ اس طرح کے واقعات کی ایک اور کڑی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہماچل پردیش میں یہ ایف آئی آر جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے تعلق رکھنے والے شال فروش عبدالاحد خان کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم نقاب پہنے ہوئے تھے اور موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ اس حملے میں شال فروشوں کے سامان کانقصان ہوا ہے۔

اس سلسلے میں بلاس پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سندیپ دھول نے اخبار کو بتایا،’تین مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ملزمان اور ان کی موٹر سائیکل کا پتہ لگانے کے لیے گھماروین مین بازار کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے ۔’

قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے مداخلت کا مطالبہ کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ جے کے ایس اے نے کہا کہ 2025 میں ریاست میں اس طرح کا یہ 17 واں واقعہ ہے۔

اس معاملے کو لے کر جے کے ایس اے کے قومی کنوینر ناصر کہویہامی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ‘ہماچل پردیش میں 25-30 سالوں سے کام کرنے والے درجنوں کشمیری شال فروشوں کو بلاس پور کے گھماروین علاقے میں دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے، ان پرحملہ کیا جا رہا ہے اور انہیں ریاست چھوڑنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ یہ اس سال ہماچل پردیش میں پیش آیا 17 واں ایسا واقعہ ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘انہیں دھمکی دی گئی ہے اور ریاست چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ انہیں اپنی شال فروخت کرنے کی اجازت نہیں  دی جا رہی ہے۔ ان کے سامان  میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے، اور حتیٰ کہ جب انہوں نے ان واقعات کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تو ان کے موبائل فون بھی توڑ دیے گئے۔ مناسب تصدیق اور درست دستاویز کے باوجود انہیں اپنا کاروبار کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور ان کے مکان مالکان پر ان کو بے دخل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔’

کیتھل ضلع میں ایک کشمیری شال فروش پر حملہ

دریں اثنا، ہریانہ کے کیتھل ضلع میں ایک کشمیری شال فروش پر حملے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔

کیتھل ضلع کے کلایت سے ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے، جس میں ایک مقامی شخص مبینہ طور پر ایک شال فروش کو ‘وندے ماترم’ بولنے پر مجبور کرتا نظر آ رہا  ہے۔

اخبار کے مطابق، مقامی شخص نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا اور شال فروش  کو فوراً وہاں سے نکل جانے کو کہا، ساتھ ہی انہیں  آگ لگانے کی دھمکی بھی دی۔

ایس پی (کیتھل) اپاسنا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیا اور مقدمہ درج کر لیا ہے۔

وہیں، فتح آباد میں ایک اور واقعہ کا ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جس میں ایک شخص ایک کشمیری شال فروش کو کالر سے پکڑ کر ‘بھارت ماتا کی جئے’ کا نعرہ لگانے کو کہہ رہا ہے۔

فتح آباد کے ایس پی سدھانت جین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شال فروش اور اس شخص کو پولیس اسٹیشن لایا گیا اور اس شخص کوسمجھایا گیا، جبکہ شال فروش کو باضابطہ شکایت درج کرنے کو کہا گیا۔

بدھ کے روز جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کہویہامی نے کہا کہ شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کشمیری شال فروشوں اور تاجروں کے خلاف دہشت کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا،’شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں بشمول ہماچل پردیش، ہریانہ، اور اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروشوں اور تاجروں کے خلاف دہشت کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔ پچھلے دس دنوں میں ہی ڈرانے دھمکانے، ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور تشدد کے ایک درجن سے زیادہ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ نشانہ بنانے کا ایک منصوبہ بند اور خطرناک طریقہ ہے۔’

وزیر داخلہ شاہ سے مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں کشمیری تاجروں کے خلاف ہراساں کرنے اور تشدد کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جانا چاہیے اور’ان حملوں کو روکنے کے لیے ذمہ داروں کی شناخت اور انہیں جلد گرفتار کیا جانا چاہیے۔’

اس ہفتے کے شروع میں دی وائر نے خبر دی تھی کہ اتراکھنڈ میں ایک کشمیری شال فروش پر وحشیانہ حملے کے سلسلے میں بجرنگ دل کے ایک مشتبہ شخص کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، جس نے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا تھا۔