جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

السٹریشن: کینوا
نئی دہلی: جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ان دنوں کئی قومی اخبارات سے وابستہ وادی کے صحافیوں کو طلب کیے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں ۔ دی وائر کو پتہ چلا ہے کہ سری نگر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی پیرزادہ عاشق، جو ملک کے مؤقرقومی اخبار دی ہندو کے لیے کام کرتے ہیں، کو 20 جنوری کو جموں و کشمیر کے ایک پولیس افسر کا فون آیا، جس میں انہیں پولیس سے ملنے کے لیے بلایاگیا۔
جب انہوں نے اس ملاقات کے مقصد کے بارے میں پوچھا تو پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر کہا کہ انہیں اس کی جانکاری نہیں ہے۔
ذرائع نے دی وائر کو بتایا کہ عاشق اس دن شہر سے باہر تھے، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں آ پائیں گے۔ پولیس اہلکار نے اس کے بعد کہا کہ وہ سری نگر واپس آنے کے بعد آ سکتے ہیں۔
دی وائر نے پیرزادہ عاشق سے اس پیش رفت کے حوالے سے معلومات مانگی ہیں۔ ان کا جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں دی وائر نے تبصرے کے لیے چنئی واقع ہندو کے ہیڈکوارٹر سے بھی رابطہ کیا ہے۔
غور طلب ہے کہ اس سے قبل دی وائر نے خبر دی تھی کہ سری نگر میں قومی اخبارات کے لیے کام کرنے والے متعدد صحافیوں کو پولیس نے بغیر کوئی وجہ بتائے پوچھ گچھ کے لیے ‘سمن’ جاری کیا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے عاشق حسین، دونوں کو ایک جیسےفون آئے تھے۔ مسعود، جو گزشتہ دو دہائی سے وادی سے رپورٹنگ کر رہے ہیں، کو چار دنوں میں 15 گھنٹے سے زیادہ وقت تک پولیس تھانے میں بٹھا کر رکھا گیا اور ان سے ایک مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
تھانے جانے کے بعد بھی مسعود کو یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیوں بلایا گیا تھا۔
صحافی کو کئی دن اور کئی گھنٹے تھانے میں بٹھایا گیا
اس حوالے سے انڈین ایکسپریس نے بتایا ہے کہ ‘پولیس نے انہیں پورے وقت انتظار کروایا اور انہیں پولیس اسٹیشن بلانے اور گھنٹوں تک وہاں بٹھائے رکھنےکی وجہ نہیں بتائی’۔
اخبار کے مطابق، انہیں جو بانڈ دیا گیا تھا اس میں محض ایک اشارہ موجود تھا – یہ اس خبر سے منسلک تھا جومسعود نے وادی میں مساجد اور ان کے منتظمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پولیس کے حالیہ کریک ڈاؤن پر سیاسی رد عمل کے بارے میں رپورٹنگ کی تھی۔
اسی طرح ایک اور قومی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نامہ نگار عاشق حسین کو بھی پولیس نے ’طلب‘ کیا تھا،لیکن وہ پولیس اسٹیشن نہیں گئے۔ ہندوستان ٹائمز نے جموں و کشمیر پولیس سے تحریری سمن جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
اس حوالے سے دی وائر نے تفصیلی معلومات کے لیے عاشق حسین سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم عاشق نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
ذرائع نے دی وائر کو بتایا کہ حال ہی میں طلب کیے گئےکئی صحافیوں کو ایک ہی معاملے پر رپورٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا۔
دی وائر نے اس معاملے پر کچھ اور مقامی صحافیوں سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھی صحافیوں نے صورتحال کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا، انہیں ڈر ہے کہ ان کے فون پہلے سے ہی پولیس کی نگرانی میں ہو سکتے ہیں۔
مقامی صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ میڈیا اداروں کے ساتھ کئی دہائیوں سے وابستہ ہونے کے باوجود صحافیوں کے لیے کوئی عوامی اقدام اٹھانے میں تاخیر سے بے حد پریشان ہیں۔
میڈیا اداروں نے جموں و کشمیر پولیس کی کارروائی کی مذمت کی
اس پورے واقعہ کے بارے میں جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اہم قومی اپوزیشن پارٹی کانگریس، سینئر صحافیوں اور مدیران اور میڈیا اداروں نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔
بدھ کو ایک بیان میں ڈیجیٹل نیوز آرگنائزیشنز کی ایک تنظیم ڈی جی پب نے کہا، ‘اس طرح کی مفاد عامہ کی صحافت کو جرم بنا دینا اور صحافیوں کو بغیر کسی مناسب عمل کے بانڈ پر دستخط کرنے کو مجبور کرنا آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے۔’
میڈیا اداروں نے جموں و کشمیر پولیس سے اس طرح کی کارروائی کو فوراً روکنے کی اپیل کی ہے۔
وہیں، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے بھی کہا ہے کہ جمہوریت میں، جس کا میڈیا ایک اہم ستون ہے، اس طرح کی من مانی کارروائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔’
مبصرین نے بتایا ہے کہ سمن کا یہ تازہ ترین دور کشمیر میں میڈیا کو ڈرانے -دھمکانے اور دبانے کے وسیع ترپیٹرن کا حصہ ہے، یہ پیٹرن اگست 2019 کے بعد سے اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جب نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔
