آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے منگل (27 جنوری) کو کہا کہ ریاست میں ایس آئی آرکے عمل کے دوران ‘ چار سے پانچ لاکھ میا ں ووٹر’ کے نام ووٹرلسٹ سے ہٹائے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘ہمنتا بسوا شرما اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔’
انہوں نے لوگوں سے میاں کمیونٹی کو ‘پریشان کرنے’ کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک انہیں پریشانی نہیں ہوگی، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے۔’
قابل ذکرہے کہ ‘میاں’ ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ آسام کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکثر اس کمیونٹی کو ‘درانداز’ کہا ہے اور ان پر مقامی لوگوں سے وسائل، نوکریاں اور زمین ہڑپ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
تنسکیا ضلع کے ڈگبوئی میں ایک سرکاری تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کو پریشان کرناان کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا،’ووٹ چوری کا مطلب یہ ہے کہ ہم کچھ میا ں ووٹ چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثالی طور پر، انہیں آسام میں ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،بلکہ بنگلہ دیش میں ووٹ دینا چاہیے۔’
ووٹر لسٹ کے ایس آرکے دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے کے دوران ہزاروں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بھیجے گئے نوٹس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سی ایم نے کہا،’ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ آسام میں ووٹ نہ ڈال سکیں۔’
معلوم ہو کہ جہاں الیکشن کمیشن 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کاایس آئی آرکر رہا ہے، وہیں آسام میں ایس آرمشق جاری ہے، جو کہ ایک ریگولر اپڈیٹ کی طرح ہے۔
اس فرق کا تذکرہ کرتے ہوئے شرما نے کہا، ‘یہ (ایس آر) صرف شروعات ہے۔ جب ایس آئی آر آسام میں آئے گا تو آسام میں چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹ ہٹانے ہوں گے۔’
انہوں نے کہا،’کانگریس مجھے جتنا چاہے گالی دے، میرا کام میاں لوگوں کی زندگی کو مشکل بنانا ہے۔’ انہوں نے اپنے تبصروں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کرے گی۔
اس کے بعد شرما نے منگل کی شام کو بھی اسی طرح کا بیان دیا۔
انہوں نے کہا، ‘تمام شکایتیں میرے حکم پر کی گئی ہیں، میں نے خود بی جے پی کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ میاں کمیونٹی کے خلاف لگاتارشکایت کرتے رہیں۔ اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ میں نے میٹنگ کی ہیں، ویڈیو کانفرنس کی ہیں اور لوگوں سے کہا ہے کہ جہاں بھی ممکن ہوفارم 7 بھریں، تاکہ انہیں تھوڑا ادھر ادھر بھاگنا پڑے، انہیں پریشانی ہو اور انہیں سمجھ آئے کہ آسامی لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔ اگر کانگریس کو اعتراض ہے، تو ہونے دیں۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘کوئی بھی جو کسی بھی طرح سے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، انہیں ایسا کرنے دیں – آپ بھی اس میں شامل ہیں۔ اگر رکشہ کا کرایہ 5 روپے ہے تو انہیں 4 روپے دیں۔ جب تک انہیں ہراساں نہیں کیا جاتا، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے… یہ مسائل نہیں ہیں۔ ہمنتا بسوا شرما اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں؟ ہمیں یہ بتانے کا کیا مطلب کہ یہ مسائل ہیں ؟ ہم یہ کھل کر کہہ رہے ہیں، چھپا نہیں رہے ہیں۔ پہلے لوگ ڈرتے تھے؛ اب میں ذاتی طور پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوں کہ اگر آپ انہیں ہراساں نہیں کرتے، تو کل میں نے دیکھا کہ وہ دلیاجان (مشرقی آسام کے ایک شہر) تک پہنچ گئے ہیں، اس لیے آپ سب بھی انہیں پریشان کریں اور ایسی خبریں نہ کریں جس سے ان کے لیے ہمدردی ظاہر ہو۔ آپ کے اپنے گھر میں لو جہاد ہو جائے گا۔’
اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پر آئین کو غیر مؤثر کرنے کا الزام لگایا
اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعلیٰ کے تبصروں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رائجور دل کے صدر اور ایم ایل اے اکھل گگوئی نے کہا کہ آسام کے لوگوں نے شرما کو میا ں کمیونٹی کومسلسل دباؤ میں رکھنے کے لیے منتخب نہیں کیا ہے۔
کانگریس لیڈر امن ودود نے وزیر اعلیٰ پر ریاست میں آئین کو غیر مؤثر بنانے کا الزام لگایا اور کہا، ‘وزیر اعلیٰ نے آسام میں آئین کو مکمل طور پر غیر مؤثر کر دیا ہے۔’
گزشتہ 27دسمبر کو شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق، آسام میں فی الحال 2.51 کروڑ ووٹر ہیں۔ اس میں 4.78 لاکھ نام مردہ کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں، 5.23 لاکھ لوگوں کے منتقل درج کیے گئے ہیں اور 53,619 ڈپلیکیٹ اندراجات کو ہٹا دیا گیا ہے۔
الیکشن حکام کا دعویٰ ہے کہ 61 لاکھ سے زیادہ گھروں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے 100 فیصد کوریج ہوئی ہے۔
گزشتہ 25جنوری کو کانگریس، رائجور دل، آسام جاتیہ پریشد، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی (ایم ایل) سمیت چھ اپوزیشن جماعتوں نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔
اس میں انہوں نے ایس آر مشق کے دوران وسیع پیمانے پر قانونی خلاف ورزیوں، سیاسی مداخلت اور حقیقی ووٹروں کو چن کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور اسے ‘من مانی، غیر قانونی اور غیر آئینی’ قرار دیا۔
ہمنتا اس سے قبل بھی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہےہیں
بتادیں کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست کی مقامی کمیونٹی ‘ایک مذہب’ کے لوگوں کے ‘حملے’ کا سامنا کر رہی ہے، جو مبینہ طور پر مختلف علاقوں میں زمین پر قبضہ کر رہے ہیں اور ان علاقوں کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شرما نے 25 جنوری 2026 کو دعویٰ کیا کہ ریاست میں بے دخلی مہم میں صرف ‘میاں’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، آسامی لوگوں کو نہیں۔
اس سے قبل گزشتہ سال جولائی میں انہوں نے کہا تھا کہ مردم شماری میں آسامی کے بجائے بنگالی منتخب کرنے سے بنگلہ دیشیوں کی شناخت میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے یہ بیان ریاست میں اقلیتی برادری کے ایک حصے کی طرف سے مردم شماری میں بنگالی کو اپنی مادری زبان کے طور پر درج کرنے کے مطالبے کے جواب میں دیا تھا۔
جولائی 2025 میں، دھبری ضلع انتظامیہ نے آسام حکومت کی طرف سے تجویز کردہ 3,400 میگاواٹ کے تھرمل پاور پلانٹ پر2,000 سے زیادہ میاں مسلمانوں کے مکانات کو مسمار کر دیا ۔ شرما نے اقلیتوں کے خلاف ‘لڑائی ‘ جائز قرار دیا تھا، چاہے وہ ‘غیر ملکی’ نہ ہوں، جب انہوں نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا تھا،’ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے مت روکو، ہمارے لیے یہ ہمارے وجود کی آخری لڑائی ہے۔’
اس سال کے شروع میں مئی میں ہمنتا کی زیرقیادت کابینہ نے مسلم اکثریتی علاقوں میں رہنے والے ‘مقامی لوگوں’ کو بندوق کے لائسنس دینے کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔ اس اقدام کو صحیح گردانتے ہوئے شرما نے کہا تھا،’بندوق ضروری ہے۔ بندوق کے بغیر، آپ جنوبی سلمارہ اور منکاچر جیسی جگہوں پر کیسے زندہ رہیں گے؟ جب آپ وہاں جائیں گے تو آپ کو سمجھ آجائے گا۔’
فروری 2025 میں آسام اسمبلی نے مسلم ایم ایل اے کو جمعہ (جمعہ) کو نماز پڑھنے کے لیے دو گھنٹے کا وقفہ دینے کی 90 سالہ پرانی روایت کو ختم کردیا تھا ۔
گزشتہ سال جولائی میں سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے لیے ‘میاں’ لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے ہمنتا بسوا شرما کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر سبزیوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے لیے ‘میاں’ کسانوں اور تاجروں کی اجارہ داری کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ نیز، آسامی نوجوانوں سے ‘میاں’ کو کاروبار سے باہرکرنے کے لیے کھیتی باڑی اور دیگر کاروباری سرگرمیاں اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔
