‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

دیپک کمار۔ فوٹو : ایکس / راہل گاندھی
نئی دہلی: 70 سالہ مسلم بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی بھیڑ کے سامنے کھڑے ہونے والے اتراکھنڈ کےکوٹ دوار کے دیپک کمار جہاں ایک طرف دادوتحسین حاصل کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اس واقعہ کے بعد ان کے جم میں کئی لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے۔
دیپک نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کوٹ دوار میں کرایہ کی عمارت میں چل رہے ان کے ہلک جم میں پہلے تقریباً 150 لوگ آتے تھے، لیکن اب روزانہ آنے والوں کی تعداد گھٹ کر صرف 15 رہ گئی ہے۔
واضح ہو کہ 26 جنوری کو پارکنسن کی بیماری میں مبتلا 70 سالہ مسلمان دکاندار کو ان کی دکان کے نام سے’بابا ‘لفظ ہٹانے کے لیے کچھ شدت پسند ہندوتوا عناصر پریشان کر رہے تھے۔ اس وقت دیپک نے ان لوگوں کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ اس دوران ہجوم نے جب ان سے ان کا نام پوچھا، تو انہوں نے اپنا نام ’محمد دیپک‘بتایا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا اور دیپک سرخیوں میں آ گئے۔
واقعہ کے چند دن بعد، بجرنگ دل کے 40 سے زائد کارکنوں کا ایک گروپ کوٹ دوار میں دیپک کے خلاف احتجاج کرنے اکٹھا ہوا۔ دیپک کے مطابق، پولیس صرف تماشادیکھتی رہی اور گھنٹوں تک کھڑے اس ہجوم نے ان کے خاندان کے خلاف دھمکیاں دیں اور گالیاں دیں۔
اس کے بعد معاملے میں تین ایف آئی آر درج کی گئیں۔ پہلی ایف آئی آر محمد دیپک اور وجئے راوت کے خلاف درج کی گئی، جو 26 جنوری کے واقعہ کے دوران وہاں موجود تھے۔ یہ شکایت وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے دو ارکان گورو کشیپ اور کمل پال نے درج کرائی۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ دونوں نے ان پر حملہ کیا، پیسے، گھڑی اور موبائل چھین لیے اور ڈرانے کے لیے ذات کو نشانہ بناتے ہوئے گالیاں دیں۔
دوسری ایف آئی آر دکاندار نے درج کرائی، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ مقامی لوگ ان کی دکان ’بابا اسکول ڈریس‘کا نام بدلوانے کے لیے انہیں دھمکا رہے تھے۔
تیسری ایف آئی آر 30 سے 40 ’نامعلوم افراد‘کے خلاف درج کی گئی ہے، جن پر فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کا الزام ہے۔ اس میں قومی شاہراہ کو بلاک کرنے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے جیسی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
دو حصوں میں کوٹ دوار
کوٹ دوار میں اس وقت حالات ایسے ہیں کہ شہر دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک حصہ ان لوگوں کا ہے جو دیپک کے ساتھ کھڑے ہیں، اور دوسرا ان کا جو ان سے ناراض ہیں۔ دیپک نے کہا، ’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
اس کا اثر ان کے جم پر صاف نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ لوگ خوفزدہ ہیں، اور میں اسے سمجھتا ہوں۔ لیکن جم پورے ایک فلور پر چلتا ہے، جس کا کرایہ 40 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ ہمارے خاندان کی آمدنی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ میں نے حال ہی میں گھر بنایا ہے، جس کے لون کی 16 ہزار روپے ماہانہ قسط بھی ادا کرنی ہے۔‘
دیپک کے مطابق، جو لوگ اب بھی آ رہے ہیں، انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ جم نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اخبار کو بتایا، ’ یہاں لوگوں کے جم چھوڑنے کی شرح پہلے ہی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک بار کوئی چلا جائے تو اسے واپس لانا مشکل ہوتا ہے۔‘
اتوار کو راجیہ سبھا میں سی پی آئی (ایم) کے لیڈر جان برٹاس نے بابا ڈریس کے مالک وکیل احمد اور دیپک سے ملاقات کی تھی۔ سی پی آئی (ایم) نے ایکس پر بتایا کہ برٹاس نے جم کا دورہ کیا اور رکنیت بھی لی، کیونکہ یہ اب ’فرقہ وارانہ عناصر کی دھمکیوں ‘ کے سبب تقریباً خالی ہو گیا ہے۔
“Deepak Kumar, now known as ‘Muhammad’ Deepak… is a beacon of hope in the struggle against the Hindutva communalism .
Deepak Kumar entered the scene in Kotdwar, in the foothills of the Himalayas, when Bajrang Dal activists began harassing an elderly man named Muhammad. This… pic.twitter.com/ZVuA5VwgGb
— John Brittas (@JohnBrittas) February 8, 2026
دیپک نے کہا، ’ مجھے اب بھی نہیں لگتا کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے۔ باہر سے لوگ میری حمایت کر رہے ہیں، لیکن شہر کے لوگ ابھی پوری طرح ساتھ نہیں آئے ہیں۔ حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آگے چیزیں بہتر ہوں گی۔‘
اس دوران مقامی پولیس نے دیپک کو سیکورٹی فراہم کی ہے اور شہر میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
Categories: خبریں
