دفاعی امور کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ملک بھر کے سینک اسکولوں کے آپریشن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے رول پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کچھ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے منسلک نجی ادارے اب کئی سینک اسکولوں کو چلا رہے ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
نریندر مودی حکومت کے تیسرے دور کے دو سال پورے ہونے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے ’پرچار بنام حساب‘کے نام سے 75 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سال’بڑے بڑے اعلان‘والے رہے ہیں، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت خاطر خواہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی اور نریندر مودی کے دورحکومت میں روپیہ سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک رہا۔
سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخابی عمل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کوئی ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے امیدواروں کی 360 ڈگری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، اور اجلاس کے دوران ہی 69 امیدواروں کی تفصیلات دی گئیں۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیامان راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر عدالت جانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کے فراڈ کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہے۔ خود کو بی جے پی کا رکن بتانے والے ششیر پر غبن اور زمین سے متعلق فراڈ کے الزامات ہیں۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت بھلے ہی ایل پی جی کی قلت سے انکار کر رہی ہے، لیکن گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ رہےہیں۔ وہیں، دہلی میں کچھ اٹل کینٹین بند ہیں، کئی ہاسٹل میس اور گردواروں کے لنگر بھی سلنڈر کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔
لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘
حال ہی میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کو دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے خلاف دیپک کمار نامی شخص نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے لوگ بڑی تعداد میں دیپک کے جم پراحتجاج کرنے پہنچے تھے۔ اب پولیس نے دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی چارج شیٹ کے چھ ماہ بعد گاندھی فیملی کے خلاف نئی ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ کیا ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں؟ اس معاملے کو سیاسی طور پر اتنا حساس کیوں مانا جا رہا ہے؟ دی وائر کی یہ رپورٹ اس پورے معاملے کی پرتیں کھولتی ہے۔
راہل گاندھی کے اس الزام کے بعد کہ کرناٹک کے آلند میں ووٹر لسٹ سے نام غلط طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے پورٹل اور ایپ پر ایک نئی ‘ای-سائن’ کی سہولت شروع کی ہے،جس کےتحت اب درخواست دہندہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ پر موجود نام ایک ہیں اور جس موبائل نمبر کااستعمال کیا جا رہا ہے ، وہ آدھار سے لنک ہے۔
کانگریس ایم پی اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات لگائے۔ مختلف دستاویزات دکھاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر ناموں کو حذف کیا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن ایسا کرنے والوں کو بچا رہا ہے۔
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے حوالے سے راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ میں ہیر اپھیری کا الزام لگانے سے 146دن پہلے مہاراشٹر کے سابق ایم ایل سی بلرام پاٹل نے ریاست کے ایک انتخابی حلقے کے بارے میں الیکشن کمیشن سے ایسی ہی شکایت کی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔
سوموار کو اپوزیشن لیڈروں نے بہار ایس آئی آر کے خلاف پارلیامنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا تھا۔ اس دوران راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف ملیکارجن کھڑگےاور راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انتخابات کے دوران ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے اپنے الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ایک ریلی میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپوزیشن لیڈروں کو دھمکی دینے کے بجائے مشین ریڈ ایبل فارمیٹ ووٹر لسٹ دستیاب کرانی چاہیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کوضائع نہیں کرنا چاہیے۔
راہل گاندھی نے مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں فرضی پتے، ڈپلیکیٹ ووٹر اور’ووٹ چوری’ کے الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاندھی یا کسی دوسرے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ زبانی جمع خرچ کرنےکے بجائے ان الزامات کا جائزہ لے اور واضح جواب دے۔
کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے انتخابات کے دوران ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں ووٹر لسٹ فراہم نہ کرنے پر بھی الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا اور حکمراں جماعت بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے لیےمنتخب 106 امیدواروں میں سے صرف 40 طلبہ کو پروویزنل اسکالرشپ لیٹر دیے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ باقی امیدواروں کے لیے ‘فنڈز کی دستیابی کے مطابق ‘سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔
راہل گاندھی نے 10جون کو لکھے اپنے خط میں پی ایم مودی سے کہاہے کہ دلت، شیڈول ٹرائب (ایس ٹی)، انتہائی پسماندہ طبقہ (ای بی سی)، دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) اور اقلیتی طلبہ کے ہاسٹلوں کی حالت ‘قابل رحم’ ہے۔ اس کے علاوہ ان طلبہ کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سرکاری انشورنس کمپنی ایل آئی سی نے اڈانی پورٹس کو 15 سال کے لیے 5000 کروڑ روپے کا قرض دیا ہے، جس پر ہر سال 7.75 فیصد سود ملےگا۔ راہل گاندھی نے اسے عوام کے پیسے کا استعمال کرکے ایک پرائیویٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانے کا اقدام قرار دیا ہے۔ خبروں کے مطابق، یہ ڈیل نجی طور پر اوپن مارکیٹ سے باہر کی گئی ہے۔
دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے طلبہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ڈی یو میں 60 فیصد سے زیادہ پروفیسر کے ریزرو عہدوں کو ‘ناٹ فاؤنڈ سوٹیبل’ (این ایف ایس) قرار دے کر خالی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پسماندہ طبقات کے اہل امیدواروں کو جان بوجھ کر ‘نااہل’ ٹھہرایا جا رہا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کے ایک ڈچ براڈکاسٹرکو دیے گئےانٹرویو کی ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ پاکستان کی مذمت کرنےمیں کسی دوسرے ملک نے ہندوستان کی حمایت کیوں نہیں کی اور کس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے جنگ بندی میں ثالثی کرنے کو کہا تھا۔
تشدد سے متاثرہ منی پور میں ریلیف کیمپوں کی صورتحال اس قدر دلدوز ہے کہ کئی لوگ خودکشی کر چکے ہیں یا میڈیکل ایمرجنسی میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف دو وقت کا کھانا فراہم کرنا کافی نہیں ہے، انہیں تشدد سے پہلے جیسی معمول کی زندگی واپس چاہیے۔
مارچ 2023 میں لندن میں راہل گاندھی کی تقریر کے خلاف وی ڈی ساورکر کے ایک رشتہ دار نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اب شکایت کنندہ نے راہل گاندھی کی جانب سے اپنے بیان کی حمایت میں تاریخی حقائق اور تفصیلی شواہد پیش کرنے کی درخواست پر اعتراض کیا ہے۔
بی جے پی نے 19 دسمبر کو جو کچھ بھی کیا اس کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تشدد کے بعد ہمیشہ شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دو فریق بن جاتے ہیں۔ دوسرے فریق کو وضاحت پیش کرنی پڑتی ہے۔ بی جے پی ہر عوامی تحریک یا اپوزیشن کے احتجاج کے دوران تشدد کا سہارا لےکر یہی کرتی ہے۔
گزشتہ 29 جولائی کو لوک سبھا میں یونین بجٹ پر اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے مہابھارت کے چکرویوہ کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جس طرح ابھیمنیو کو چکرویوہ میں پھنسایا گیا تھا، اسی طرح آج ملک بھی حکومت کے چکرویوہ میں پھنس گیا ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اپنی بجٹ اسپیچ میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان کے نوجوانوں، کسانوں، ماؤں-بہنوں، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے ساتھ وہی کر رہی ہے جو مہابھارت میں ابھیمنیو کے ساتھ چکرویوہ میں کیا گیا تھا۔