The Wire
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire

تازہ ترین

  • پی ایم مودی پر مزاحیہ ویڈیو کے حوالے سے دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ دو گھنٹے تک بلاک کیا گیا
  • اتراکھنڈ: ’محمد دیپک‘ کے مسلمان بزرگ کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد کئی لوگوں نے چھوڑا ان کا جم
  • آسام سی ایم کے مسلم مخالف اور فرقہ وارانہ ویڈیو پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لے: ہائی کورٹ کے سابق جج
  • کرناٹک: گاندھی کو منفی انداز میں پیش کرنے والے سیاسی اشتہارات پر گاندھی اسمارک ندھی کا اعتراض
  • روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے ٹرمپ کے دعوے پر مودی حکومت اب تک خاموش

ٹاپ اسٹوریز

  • فرقہ وارانہ منافرت سے تباہ حال ملک میں دیپک کی جرأت خوش خبری کی طرح ہے
    فرقہ وارانہ منافرت سے تباہ حال ملک میں دیپک کی جرأت خوش خبری کی طرح ہے
  • آسام سی ایم کے مسلم مخالف اور فرقہ وارانہ ویڈیو پر سپریم کورٹ از خود نوٹس  لے: ہائی کورٹ کے سابق جج
    آسام سی ایم کے مسلم مخالف اور فرقہ وارانہ ویڈیو پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لے: ہائی کورٹ کے سابق جج
  • مقبول بٹ اور افضل گرو  کے ساتھ دوہرا معیار کیوں؟
    مقبول بٹ اور افضل گرو کے ساتھ دوہرا معیار کیوں؟
  • جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے؟
    جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے؟
  • روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے ٹرمپ کے دعوے پر مودی حکومت اب تک خاموش
    روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے ٹرمپ کے دعوے پر مودی حکومت اب تک خاموش
خاص خبر

پی ایم مودی پر مزاحیہ ویڈیو کے حوالے سے دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ دو گھنٹے تک بلاک کیا گیا

دی وائر اسٹاف 10/02/2026

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔

بلاک کیے گئے طنزیہ کارٹون ویڈیو کا اسکرین شاٹ۔

نئی دہلی: دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ سوموار، 9 فروری کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ 13 لاکھ سے زائد فالوورز والا یہ اکاؤنٹ خبروں، خیالات، تجزیے، اور طنز  ومزاح کے لیے سوشل میڈیا پر سب سے مقبول اور وسیع پیمانے پر فالو کیے جانے والے نیوز پلیٹ فارم میں شامل ہے۔

سوموار کی شام جب قارئین نے دی وائر کا انسٹاگرام پیج کھولنے کی کوشش کی تو انہیں ایک مختصر پیغام نظر آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ اکاؤنٹ ‘ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے کیونکہ مواد کو محدود کرنے کے لیےایک قانونی درخواست  پر عمل کیا گیا ہے۔’

تاہم، وہ صارفین جو وی پی این استعمال کر رہے تھے یا ہندوستان سے باہر موجود تھے، وہ دی وائر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر پا رہے تھے۔

اس معاملے پر رابطہ کیے جانے پر وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی) کے حکام نے دی وائر کو بتایا،’ہم نے آپ کا اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا ہے۔’

دی وائر کو غیر رسمی طور پر یہ اطلاع ملی ہے کہ وزارت نے میٹا سے انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو بلاک کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا کمپنی نے مبینہ طور پر غلطی سے دی وائر کا پورا انسٹاگرام ہینڈل ہی بلاک کر دیا۔

رات تقریباً 8:30 بجے تک اکاؤنٹ کی رسائی بحال کر دی گئی، تاہم وہ کارٹون اب بھی انسٹاگرام پر دستیاب نہیں تھا۔ فیس بک پر بھی اس کارٹون کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ ہندوستان کے انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) قانون کے تحت کسی بھی مواد کو بلاک کرنے سے پہلے متعلقہ ناشر کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے، سوائے ہنگامی حالات کے۔ یہ طنزیہ کارٹون 7 فروری کو شام 6:30 بجے انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پر پوسٹ کیا گیا تھا، لیکن اب تک دی وائر کو اس حوالے سے کوئی تحریری اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ کارٹون اس وقت یوٹیوب اور بلیو اسکائی پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا؛


میں تمام قارئین سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کارٹون کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ نریندر مودی نے کبھی کہا تھا، ‘میں چاہتا ہوں کہ اس حکومت پر تنقید ہو۔ تنقید سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔’ لیکن’56 پروڈکشنز’ کی جانب سے دی وائر میں شائع کیا گیا یہ کارٹون واضح طور پر ‘ڈئیر لیڈر’ کو ناگوار گزرا، اسی لیے انہوں نے اشونی ویشنو کےسےاسے انسٹاگرام پر بلاک کروانے کا آرڈر دلوایا، جہاں یہ تیزی سے وائرل ہو رہا تھا۔


بانی مدیر نے مذکورہ کارٹون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا،’آئی ٹی قانون کے تحت، ہنگامی حالت کے علاوہ حکومت کے لیے کسی بھی مواد کو بلاک کرنے سے پہلے ناشر کو اطلاع دینا لازمی ہے۔ دی وائر کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اس کا مطلب یہی ہے کہ مودی حکومت کے لیے اب ہنسی اور طنز بھی ‘ہنگامی حالت’ بن چکے ہیں۔’

I call upon all readers to widely share this cartoon. “I want this government to be criticised. Criticism makes democracy stronger”, @narendramodi once claimed. But this cartoon in The Wire by ‘56 Productions’ has obviously unnerved the Dear Leader because he got @AshwiniVaishnaw… https://t.co/Vfl2IQHg53

— Siddharth (@svaradarajan) February 9, 2026

بتادیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دی وائر کو اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مئی 2025 میں دی وائر کی ویب سائٹ کو من مانی طور پر پورے ایک دن کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات نے ویب سائٹ  کوبحال کر دیا تھا، لیکن اس خبر کو ہٹانے کی شرط پر، جس میں سی این این کی جانب سے پاکستان کے اس دعوے کی رپورٹ کی گئی تھی کہ آپریشن سیندور کے دوران اس نے ایک ہندوستانی رافیل لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔

وزارت کی جانب سے 9 مئی 2025 کو رات 9:41 بجے بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا گیا تھا کہ دی وائرڈاٹ ان کو اس ویب پیج پر شائع مضمون کے سلسلے میں موصول ہونے والی ایک بلاکنگ درخواست کی بنیاد پر روکا گیا ہے۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تکنیکی حدود کی وجہ سے ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس کے معاملے میں کسی ایک ذیلی صفحے کے بجائے پورا ڈومین ہی بلاک کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ دی وائر سے متعلقہ مواد پر مناسب کارروائی کرنے اور کی گئی کارروائی کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا تھا، تاکہ ویب سائٹ کو ان-بلاک کیا جا سکے۔

تازہ پیش رفت کے حوالے سے دی وائر نے وزارت اطلاعات و نشریات اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو خط لکھ کر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ایک مقبول، معتبر اور معلوماتی پلیٹ فارم کو بلاک کیے جانے پر وضاحت طلب کی ہے۔

تازہ ترین

  • پی ایم مودی پر مزاحیہ ویڈیو کے حوالے سے دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ دو گھنٹے تک بلاک کیا گیا
  • اتراکھنڈ: ’محمد دیپک‘ کے مسلمان بزرگ کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد کئی لوگوں نے چھوڑا ان کا جم
  • آسام سی ایم کے مسلم مخالف اور فرقہ وارانہ ویڈیو پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لے: ہائی کورٹ کے سابق جج

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

Related

Categories: خاص خبر, خبریں

Tagged as: Censorship, content blocking, featured, Freedom of Expression, Instagram account blocked, IT Act, meta, Ministry of Information and Broadcasting, Modi criticism, News, press freedom, satirical cartoon, social media regulation, The Wire, The Wire Urdu

Post navigation

اتراکھنڈ: ’محمد دیپک‘ کے مسلمان بزرگ کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد کئی لوگوں نے چھوڑا ان کا جم

Support Free & Independent Journalism

Contribute Now
  • Top categories: خبریں/فکر و نظر/ویڈیو/ادبستان/عالمی خبریں/گراؤنڈ رپورٹ/الیکشن نامہ/حقوق انسانی/خاص خبر
  • Top tags: The Wire/ اردو خبر/ News/ Urdu News/ دی وائر اردو/ The Wire Urdu/ BJP/ دی وائر/ Narendra Modi