میٹا نے دی وائر کی لارنس بشنوئی سے متعلق ویڈیو رپورٹ اور فلم ’چوہان‘ پر ایک ٹیکسٹ رپورٹ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے انسٹاگرام اور فیس بک سے ہٹا دیا ہے۔ دونوں معاملوں میں کوئی صاف وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب دی وائر کی خبروں، ویڈیو اور طنزیہ مواد تک رسائی کومحدود کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
پریس کی آزادی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرزنے اپنی’پریس فریڈم پریڈیٹرز’یعنی آزادی صحافت کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد اور تنظیموں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دو ہندوستانی ادارے -اڈانی گروپ اور ہندوتوا ویب سائٹ اوپ انڈیا کو شامل کیا گیا ہے۔
پچیس جون کو ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘سمودھان ہتیا دِیوَس’ مناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 1975 میں جمہوریت کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت کے گزشتہ گیارہ سال کے بارے میں بھی یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حوالے سےسینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کا تبادلہ خیال۔
دنیا کے کئی میڈیا اداروں نے حالیہ دنوں میں اندرونی ایڈوائزیز جاری کرکے اپنے صحافیوں کو ہندوستانی میڈیا کا حوالہ دےکر خبریں فائل کرتے وقت انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ویڈیو: 18 ویں لوک سبھا کے اسپیکر بنے اوم برلا پر تعصب کے الزام لگتے رہے ہیں۔ کیا اس بار ان کے رویے میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ کیا براڈکاسٹ بل کی طرح پریس کو کنٹرول کرنے والے بل منظور ہوتے رہیں گے؟ دی وائر کی نیشنل افیئر کی ایڈیٹر سنگیتا بروآ اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر گوتم لاہری کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ایڈیشنل سیشن جج پون سنگھ راجاوت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا، نچلی عدالت نے دہلی پولیس کو دی وائر کے عملے سے ضبط کیے گئے الکٹرانک آلات واپس کرنے کو کہا تھا۔ پولیس نے اکتوبر 2022 میں بی جے پی کے ایک رہنما کی جانب سے دی وائر کے خلاف شکایت کے بعد ان آلات کو ضبط کیا تھا۔
نیوز کلک کے صحافیوں اور اس سے وابستہ افراد کے یہاں چھاپے ماری، پوچھ گچھ اور گرفتاری کے بعد ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا آرگنائزیشن کی اٹھارہ تنظیموں نے ملک کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو ایک خط لکھ کر صحافیوں سے پوچھ گچھ اور فون وغیرہ ضبط کرنے کے لیے رہنما اصول تیار کرنے کی گزارش کی ہے۔
کشمیر میں صحافیوں اور رپورٹنگ کی صورتحال پر بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں وادی کےبعض صحافیوں اور مدیران سے بات چیت کی ہے، جنہوں نے بتایا ہے کہ وہ واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سےحکام کی طرف سے پیدا کیے گئے ‘خوف اور دھمکی’ کے ماحول کی وجہ سے ‘گھٹن’محسوس کر تے رہے ہیں۔
ہر دو تین ماہ بعد سیکورٹی ایجنسیاں کشمیر میں کسی نہ کسی صحافی کےدروازے پر دستک دینے پہنچ جاتی ہیں،اور یہ منظر خود بخود دوسروں کےذہنوں میں خوف پیدا کر دیتا ہےکہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے۔
ویڈیو: اتر پردیش میں ‘4پی ایم’ اخبار کے چیف ایڈیٹر سنجے شرما نے پریس کی آزادی پر حملے اور اپنے اخبار کے یوٹیوب چینل کو بندکیے جانے کےحوالے سے دی وائر سے بات چیت کی۔
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے شائع ہونے والے اخبار ‘4 پی ایم’کے ایڈیٹر نے کہا ہےکہ انہوں نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرانے کے ساتھ صدر رام ناتھ کووند کومعاملے کا نوٹس لینے کے لیے خط لکھا ہے۔ اس کے علاوہ اخبار کا ایک نیا یوٹیوب چینل بھی شروع کیا گیا ہے۔
شوپیاں کےایگزیکٹیو مجسٹریٹ نےگرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوہر گیلانی لگاتارعوامی امن وامان کو متاثرکر رہے ہیں۔ انہیں 7 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔
انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کےمطابق میکسیکو مسلسل دوسری بار پہلے نمبر پر ہے جہاں اس سال سات صحافی مارے گئے۔ اس کے بعدہندوستان اور افغانستان کا نمبر آتا ہے جہاں چھ-چھ صحافیوں کو مارا گیا۔
دی وائر نے اپنی متعدد رپورٹ میں بتایا ہے کہ کس طرح اسرائیل واقع این ایس او گروپ کے تیار کردہ ملٹری گریڈاسپائی ویئر پیگاسس کا استعمال کرکے ہندوستان کے صحافیوں، کارکنوں، سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔
مغربی بنگال کا کولکاتہ ٹی وی ایک بنگلہ نیوز چینل ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ چونکہ وزارت داخلہ نے اسے ‘سیکیورٹی کلیئرنس’دینے سے انکار کیا ہے،اس لیے ان کا لائسنس رد کیا جا سکتا ہے۔یہ چینل مودی حکومت کے بارے میں تنقیدی رپورٹنگ کے لیےمعروف ہے۔
پولیس کی جانب سےیہ کارروائی سخت یو اے پی اے قانون کے تحت پچھلے سال درج ایک معاملے کو لےکر کی گئی ہے، جو کشمیر کے صحافیوں اور کارکنوں کو جان سے مارنے کی دھمکی سے متعلق ہے۔
انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر باربرا ٹرونفی نے کہا کہ دی وائر ہندوستان کے ڈیجیٹل نیوزکے شعبے میں آئی تبدیلی کا رہنما نام ہے ۔اس کی معیاری اورآزادانہ صحافت سے وابستگی دنیا بھر کے آئی پی آئی ممبران کے لیےباعث تحریک ہے۔
جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح ایف آئی آر درج کرنا صحافی کو ‘چپ کرانے’ کا طریقہ تھا۔ صحافی کی ایک رپورٹ 19اپریل2018 کو جموں کےایک اخبار میں شائع ہوئی تھی، جو ایک شخص کو پولیس حراست میں ہراساں کرنے سے متعلق تھی۔ اس کو لےکر پولیس نے ان پر کیس درج کیا تھا۔
رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس نے پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37ممالک کے سربراہوں یاقائدکی فہرست جاری کی ہے، جس میں شمالی کوریا کے کم جونگ ان اور پاکستان کے عمران خان کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سب وہ ہیں جو ‘سینسرشپ کا میکانزم بناکر پریس کی آزادی کو روندتے ہیں،صحافیوں کو من مانے ڈھنگ سے جیل میں ڈالتے ہیں یا ان کے خلاف تشددکو ہوا دیتے ہیں۔
جمہوریت کو اپنےٹھینگے پر رکھے گھوم رہے لٹھیتوں کے اس دور میں46 سال پہلے کی ایمرجنسی کے 633 دنوں پر خوب ہائےتوبہ مچائیے،مگر پچھلے 2555 دنوں سے بھارت ماتا کی چھاتی پر چلائی جا رہی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی چکی کے پاٹوں کونظرانداز مت کریے۔
کشمیر گھاٹی کے باندی پورہ قصبہ کے رہنے والے صحافی ساجد رینا نے سال 2006 میں ایک ناؤ حادثے میں ہلاک ہوئے 22 بچوں کی تصویر اپنے وہاٹس ایپ پر لگاتے ہوئے انہیں‘وولر جھیل کے شہید’ کہا تھا، جس کو لےکر ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہےکہ تشدد کو پھیلنے سے روکا جا سکےکیونکہ انکاؤنٹرسائٹ سے رپورٹنگ کرنے پر ‘ملک مخالف جذبہ’بیدار ہوتا ہے۔ حالانکہ ایڈیٹرس گلڈ نے کہا ہے کہ سچائی بتانے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔
نیوز ویب سائٹ ‘ملت ٹائمز’نے9 اپریل کو مہاراشٹر میں کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج پر ایک ویڈیو رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کے چیف ایڈیٹر نے بتایا کہ اکثر مظاہرین یومیہ مزدور تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے پاس احتجاج کر رہے تھے اور ان مسائل کے بارے میں بول رہے تھے، جن کا سامنا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کریں گے۔
اتر پردیش کے للت پور ضلع کا معاملہ۔ نیوز پورٹل بندیل کھنڈ ٹائمس ٹی وی کے لیے کام کر رہے ونئے تیواری کا الزام ہے کہ رپورٹنگ کے وقت پردھان کے رشتہ داروں نے ان سے بحث کی اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ ونئے پر غیرقانونی شراب کے کاروبارکی رپورٹنگ کے لیے بھی حملہ ہو چکا ہے۔
جموں وکشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں ریاست کی نئی میڈیا پالیسی کو منظوری دی ہے، جس کے تحت وہ شائع اورنشرہونے والےمواد کی نگرانی کرےگا اور یہ طے کرےگا کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل رپورٹنگ’ہے۔ پریس کاؤنسل نے اس بارے میں انتظامیہ سے جواب مانگا ہے۔
دو جون کو جاری جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کے مطابق، سرکار اخباروں اور دوسرے میڈیا چینلوں پر آنے والے مواد کی نگرانی کر کےیہ طے کرےگی کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل’ ہے۔ ایسا پائے جانے پر متعلقہ ادارے کو سرکاری اشتہار نہیں دیےجا ئیں گے، ساتھ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔
ایک دوسرے معاملے میں پنجاب کے ایک وزیر کے جیوتش کے تئیں رجحانوں کو لےکر رپورٹ لکھنے پر ایک صحافی کے خلاف مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
یو اے پی اے کے تحت ملزم بنائے گئے کشمیری صحافی اور قلکار گوہر گیلانی کی گرفتاری سے عبوری تحفظ اورایف آئی آر رد کرنے کی مانگ والی عرضی پرشنوائی کرتے ہوئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کرکے 20 مئی سے پہلے جواب داخل کرنے کاحکم دیا۔
واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ جیسےانٹرنیشنل میڈیااداروں کے ساتھ کام کرنے والی 26 سالہ خاتون فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرہ کشمیر کی دوسری صحافی ہیں جن پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔
پریس کی آزادی کے لیے مولانا کی جدو جہد یہ احساس دلاتی ہے کہ صحافت ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کسی بھی مشن سے کم نہیں ۔