خاص خبر

نیو انڈیا میں ہی ’اسکولی طالبعلم‘ کے روبوٹ بنانے کا دعویٰ قومی سلامتی کے ’خطرے‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے

جس طرح نئے آئی ٹی قوانین کا قہر ’محبوب لیڈر‘ کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے لطیفوں پر نازل ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ مودی حکومت کے سنسرشپ راج کے شروعاتی دن ہیں … آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

تصویر بہ شکریہ: پی ایم او

ملک کے نئے ’ڈیلیشن بابا‘اشونی ویشنو کی جانب سے لائی گئی نئی سنسرشپ پالیسی کو آئے بہ مشکل  ہفتہ بھر ہی گزرا ہے، لیکن ابھی سے صاف نظر آنے لگا ہے کہ ان کی آئی ٹی وزارت کی طرف سے جاری کیے جا رہے تمام’کنٹینٹ بلاکنگ‘ احکامات کا اصل مقصد ہندوستان کو کسی حقیقی یا خیالی خطرے سے بچانا نہیں، بلکہ ’محبوب لیڈر‘کو مذاق اور لطیفوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس بات کو یوں سمجھیے؛

گزشتہ23فروری کو ’کلام سینٹر‘کی جانب سے ایکس پر خاصی مضحکہ خیز پوسٹ ڈالی گئی، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے طالبعلموں سے بات چیت کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ جب وہ اسکول میں پڑھتے تھے، تو انہوں نے ایک روبوٹ بنایا تھا۔ پوسٹ میں لکھا تھا؛

’بات چیت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بچپن کے ایک دلچسپ واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے اپنی اسکولی زندگی میں طالبعلم کی حیثیت سےایک روبوٹ بنایا تھا اور اس کے لیے انہیں اپنے اسکول سے میڈل بھی ملا تھا۔ اس بات نے فوراً عوام کی توجہ حاصل کی، خصوصی طور پر نوجوان طالبعلموں اور ٹکنالوجی سے دلچسپی رکھنے والوں کے درمیان، کیونکہ یہ جدت اور تخلیقی صلاحیت کے لیے ان کے ابتدائی رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ان کے اسکول کے دنوں کا ہے، جب انہوں نے ایک سادہ روبوٹک ماڈل بنانے کا تجربہ کیا تھا۔‘

اب، مجھے نہیں لگتا کہ مودی نے حقیقت میں ایسا کوئی (مضحکہ خیز) دعویٰ کیا  اور مجھے کلام سینٹر کی اس بات کی تصدیق کے لیے کوئی خبر یا لنک بھی نہیں ملا۔ ایکس پر کلام سینٹر کے دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، لیکن ’ڈیلیشن بابا‘اس فرضی خبر کی وسیع رسائی سے بالکل بھی مضطرب نہیں ہوئے۔ فی الحال، ہندوستان میں ایکس کے صارفین اس پوسٹ کو اس مضمون کے لکھے جانے تک ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر جن لوگوں نے مودی کے اس (عجیب و غریب) دعوے کا مذاق اڑایا، ان کے پوسٹ ایکس سے ہٹا دیے گئے!

مثال کے طور پر، 25 فروری کو پرساربھارتی کی سابق چیئرپرسن، مدیر اور مصنفہ مرنال پانڈے نے ایکس پر ایک طنزیہ لطیفہ پوسٹ کیا تھا۔ انہوں نے یہ پوسٹ ایٹ دی ریٹ کامن بی ایس 786او ایم نامی اکاؤنٹ کے پوسٹ کے حوالے سے لکھی تھی، جس میں پوچھا گیا تھا کہ مودی 1960 کی دہائی میں روبوٹ کیسے بنا سکتے تھے، جبکہ ہندوستان میں پہلا روبوٹ 1982 میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ نے بنایا تھا۔

اس کے بعد مرنال پانڈے کو 26 فروری کی شام 7:56 بجے ایکس کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ’شفافیت کے مفاد میں ہم آپ کو مطلع کر رہے ہیں کہ’ایکس‘ کو انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ، 2000 کی دفعہ 69 اے کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی سے آپ کے ایکس اکاؤنٹ کے حوالے سے ایک بلاکنگ آرڈر موصول ہوا ہے۔‘

آئی ٹی وزارت کی ہدایات پر مرنال پانڈے کی اس پوسٹ  کوایکس پر بلاک کر دیا گیا۔ جب تک میں نے اس لنک پر کلک کیا، تب تک آدھی رات گزر چکی تھی اور ایکس ’ڈیلیشن بابا‘کے احکامات پر عمل کر چکا تھا۔

یاد رہے، نئے قوانین انہیں (سوشل میڈیا کمپنیوں کو) سرکاری حکم کی تعمیل کے لیے محض تین گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں، ورنہ انہیں کسی فوجداری کارروائی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میں نے وی پی این استعمال کر کے اس لنک کو دیکھا اور سوچ میں پڑ گیا کہ پانڈے کی پوسٹ نے آخر کس قانون  کوتوڑا تھا۔ چونکہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 اے حکومت کو ’ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت، ہندوستان کے دفاع، ریاست کی سلامتی، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا عوامی نظم کے مفاد میں، یا کسی قابل دست اندازی جرم کو روکنے کے لیے‘مواد ہٹانے کا اختیار دیتی ہے، تو مجھے لگا کہ معاملہ واقعی کافی سنگین رہاہوگا۔

ان کا پوسٹ پڑھیے؛

’دیکھیے، چیک مصنف کارل چاپیک نے 1920 میں ایک سائنس فکشن ڈراما ’آر۔یو۔آر‘لکھا تھا۔ اسی ڈرامے نے انگریزی زبان اور سائنس فکشن کی دنیا کو ’روبوٹ‘ کا لفظ دیا۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ 1982 میں ٹاٹا کے اصلی روبوٹ بنائے جانے سے بہت پہلے گجرات میں اس ڈرامے کوانگریزی میں اسٹیج کیا گیا ہو۔‘

صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے صرف’ طنز‘کی حد پار کی تھی—جو’نیو انڈیا‘ کا غیر تحریری قانون ہے کہ آپ’وشو گرو’ کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔ ظاہر ہے، یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا کہ لوگ اس تصور پر قہقہہ لگائیں کہ ’بال نریندر‘کسی چیک ڈرامے کا گجراتی ترجمہ پڑھ رہے ہیں اور اسے پڑھ کر (روبوٹ بنانے کے لیے) اپنا ٹول باکس لے کر نکل پڑے ۔

فطری بات ہے کہ جس پوسٹ کے جواب میں مرنال نے یہ لکھا تھا، اسے بھی ایکس نے غائب کر دیا ہے۔

یہاں یہ سوال لازمی ہے کہ ’ڈیلیشن بابا‘نے ایکس سے کلام سینٹر کی اس پوسٹ کو ہٹانے کے لیے کیوں نہیں کہا؟ میرا خیال ہے اس کے پیچھے دو باتیں ہو سکتی ہیں—پہلا، یہ کہ وہ پوسٹ مودی کے بچپن کے روبوٹ بنانے والے دعوے کو بہت مثبت اور حوصلہ افزا انداز میں پیش کرتی ہے۔ اور دوسرا، یہ کہ ویشنو خود بھی اس بارے میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ان کے باس نے ایسا دعویٰ کیا ہےیا نہیں۔

اس سے قطع نظر ایک بات یہ بھی ہے کہ شاید حکومت نے ایکس سے یہ کہا ہے کہ وہ عوامی طور پر یہ نہ کہے—جیسا کہ وہ پہلے بلاک کی گئی پوسٹ کے لنک پر جانے پر کہتا تھا—کہ ان پوسٹس کو ’قانونی مطالبے‘کے جواب میں روکا گیا ہے۔ چونکہ مودی کے خلاف ہنسنے کو جرم قرار دینے والا تاحال کوئی قانون نہیں ہے، اس لیے ایکس نے اس پیغام کو بدل کر کچھ مبہم اور غیر فوجداری سا کر دیا ہے، اور اب لنک پر جانے پر لکھا ملتا ہےکہ ’یہاں فی الحال دیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ‘

مودی حکومت کے اس نئے سنسرشپ راج کے یہ ابتدائی دن ہیں۔ میرتقی میر کے لفظوں میں کہیں تو؛

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔