خاص خبر

سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک بغیر وجہ بتائے مسترد، 193 اراکین پارلیامنٹ نے کیے تھے دستخط

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک پر پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے 193 اراکین نے دستخط کیے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں نے سوموار کو اس تحریک کو مسترد کر دیا۔ تاہم، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمارکو ہٹانے کے لیے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں لائی گئی مواخذے کی تحریک سوموار (6 اپریل) کو مسترد کر دی گئی۔ اس تحریک پر 193 اراکین نے دستخط کیے تھے۔

لوک سبھا اسپیکراوم برلا اور راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدرسی پی رادھا کرشنن نے اس تحریک کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، اس کو  مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

راجیہ سبھا میں یہ نوٹس 12 مارچ کو 63 اراکین کے دستخط کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، اور اسی دن لوک سبھا میں 130 اراکین کا دستخط شدہ ایک الگ نوٹس بھی پیش کیا گیا۔

سوموار کی شام دونوں ایوانوں نے تقریباً ایک جیسے بلیٹن جاری کر کے ان نوٹس کے مسترد ہونے کی اطلاع دی۔

راجیہ سبھا کے بلیٹن میں کہا گیا،’نوٹس پر قانونی طور پر غور و فکر اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا محتاط اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے بعد، راجیہ سبھا چیئرمین نے ججز (انکوائری) ایکٹ، 1968 کی دفعہ 3 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس نوٹس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔‘

لوک سبھا کے بلیٹن میں بھی تقریباً یہی الفاظ دہرائے گئے اور کہا گیا کہ اسپیکر نے متعلقہ دفعات کے تحت اس نوٹس کو قبول نہیں کیا۔

چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر (تقرری، خدمات کی شرائط اور مدت کار) ایکٹ، 2023 کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کو صرف اسی عمل اور بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے،جیسےسپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔

ججز (انکوائری) ایکٹ، 1968 کے تحت، اگر لوک سبھا میں مواخذے کا نوٹس دیا جاتا ہے تو اس پر کم از کم 100 اراکین کے دستخط ہونے چاہیے، جبکہ راجیہ سبھا میں یہ تعداد کم از کم 50 ہونی چاہیے۔ اس کے بعد اسپیکر یا چیئرمین طے کرتے ہیں کہ تحریک کو منظور کیا جائے گایا نہیں۔

اپوزیشن کا ردعمل

نوٹس مسترد ہونے کے بعد اپوزیشن اراکین نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر پارلیامنٹ کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا۔

ترنمول کانگریس کی ایم پی ساگریکا گھوش نے کہا کہ تفصیلی نوٹس دینے کے باوجود اسے بغیر وجہ بتائے مسترد کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا،’چیف الیکشن کمشنر کی مبینہ بدانتظامی کے حوالے سے واضح قواعد اور حقائق کے ساتھ تفصیلی نوٹس پیش کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں مواخذے کےنوٹس کو بہت مختصر انداز میں مسترد کر دیا گیا۔ مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ہمیں اس پر حیرانی کیوں نہیں ہو رہی؟‘

ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن نےایکس پر لکھا،’راجیہ سبھا کے اراکین کے ذریعے سی ای سی کو ہٹانے سے متعلق نوٹس مسترد۔ وجہ؟ کوئی وجہ نہیں دی گئی۔ بی جے پی ہماری پارلیامنٹ کا مذاق اڑا رہی ہے۔ شرمناک۔ ‘

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں سابق چیئرمین اور نائب صدرجگدیپ دھنکھڑکا ذکر کرتے ہوئے کہا،’ہمیں پتہ ہے کہ پچھلی بار راجیہ سبھا کے صدر کے ساتھ کیا ہوا تھا، جب انہوں نے اپوزیشن اراکین کی طرف سے لائی گئی تحریک کو منظور کرلیا تھا۔ ‘

پس منظر

پچھلےمہینے دی وائرنے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تحریک کا یہ غیر معمولی قدم الیکشن کمیشن کی جانب سے کرائے جا رہے اسپیشل انٹینسیو ریویژن  (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے بعد اٹھایا گیا تھا۔

گزشتہ سال اگست میں گیانیش کمارنے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’عوام کو گمراہ کرنے‘ اور’آئین کی توہین‘قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بھی اپوزیشن جماعتیں مواخذے کی تحریک لانے پر غور کر رہی تھیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔