ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس نے جمعہ کو عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس سے وابستہ اپوزیشن رہنماؤں کی جائیدادوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی مرکزی ایجنسیوں اور حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کا بھی استعمال کر رہی ہے۔

بائیں سے: سنجیو اروڑا، دیباشیش کمار اور میراج میراج شاہ (تصویر: آفیشیل ویب سائٹس)
نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کے ماتحت کام کرنے والی مرکزی ایجنسیاں-انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور محکمہ انکم ٹیکس (آئی ٹی)-نے جمعہ (17 اپریل) کو عام آدمی پارٹی (عآپ) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے وابستہ اپوزیشن رہنماؤں کی جائیدادوں پر چھاپے ماری کی۔
پنجاب
ای ڈی نے پنجاب کے وزیر سنجیو اروڑا کے لدھیانہ واقع گھر اور ان کے رشتہ داروں و ساتھیوں سے متعلق جائیدادوں کی تلاشی لی۔ خبروں کے مطابق، اروڑا کے بیٹے کاویہ، لدھیانہ میں ان کے کاروباری پارٹنر ہیمنت سود اور جالندھر میں چندرشیکھر اگروال کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے ماری کی گئی۔
یہ ایک ہفتے میں دوسری بار ہے کہ ای ڈی نے عام آدمی پارٹی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس سے پہلے 15 اپریل کو ای ڈی نے راجیہ سبھا کے رکن اشوک کمار متل اور ان کی قائم کردہ لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے کیمپس کی تلاشی لی تھی۔
حال ہی میں عام آدمی پارٹی نے رکن پارلیامنٹ راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر یہ ذمہ داری اشوک متل کو سونپی تھی۔ اس فیصلے کے چند ہی دن بعد ای ڈی کی یہ کارروائی سامنے آئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی کے رہنما پہلے بھی مالیاتی انٹلی جنس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے نشانے پر رہے ہیں۔
معلوم ہو کہ گزشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ میں بتایا تھا کہ پچھلے 10 برسوں میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف ای ڈی کے 190 سے زائد معاملوں میں سے صرف دو میں ہی سزا سنائی گئی ہے۔
بنگال
وہیں،انتخابی ریاست مغربی بنگال میں انکم ٹیکس حکام نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے قریبی میراج شاہ اور ٹی ایم سی کے سینئر رہنما دیباشیش کمار کے گھروں پر چھاپے مارے۔ کمار کولکاتہ کی راش بہاری اسمبلی سیٹ سے پارٹی کے امیدوار ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جب ممتا بنرجی بھابنی پور سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے گئی تھیں، تو شاہ ان کے پروپوزر میں سے ایک تھے۔
ٹی ایم سی رہنما پر چھاپے ماری کے بعد ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے مرکزی ایجنسیوں کی اس کارروائی کی سخت تنقید کی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ بنرجی نے کہا کہ بی جے پی رہنما زیڈ پلس سکیورٹی میں گھومتے ہیں اور ’مرکزی فورسز کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے ہیں، پھر بھی ان کی سکیورٹی کبھی واپس نہیں لی جاتی۔‘
ٹی ایم سی سربراہ نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی انتخابی فائدے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کا بھی استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا،’میں جاننا چاہتی ہوں کہ بی جے پی کے کتنے رہنماؤں کے گھروں کی تلاشی لی گئی ہے۔‘
بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا،’وہ کالے دھن کے ساتھ بنگال میں بیٹھے ہیں اور میرے امیدوار کے گھر اور پارٹی دفاتر پر چھاپے مار رہے ہیں! انہوں نے میرے پرواز کی بھی تلاشی لینے کی کوشش کی۔ وہ میرے سکیورٹی عملے پر بھی چھاپے مار رہے ہیں۔ شرمناک! وہ آمنے-سامنے کی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔ وہ بزدل ہیں۔‘
غور طلب ہے کہ حال ہی میں 13 اپریل کو ای ڈی نے مغربی بنگال میں کوئلہ گھوٹالے سے متعلق ایک کیس میں منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت انڈین پولیٹکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) کے شریک بانی ونیش چندیل کو گرفتار کیا ہے۔ حکمراں ٹی ایم سی کے رہنماؤں نے اسے انتخابات سے عین قبل سازش قرار دیا ہے۔
آئی-پیک اس وقت ترنمول کانگریس کی انتخابی مہم کی نگرانی کر رہی ہے۔ ریاست میں ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو ہونا ہے۔
