گزشتہ ہفتے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ایک ہیڈ کانسٹبل نے مبینہ طور پر بہاری پہچان کو لے کر 22 سالہ ڈیلیوری بوائے پانڈو کمار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حالیہ دنوں میں ہندوستان میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس میں علاقائی امتیاز پر مبنی تشدد کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں اور بہاری مہاجرین دہائیوں سے اس طرح کے تشدد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔

پانڈو کے گھر کے باہر ان کے لیے منعقد تعزیتی پروگرام۔ (تصویر: وپل کمار / دی وائر)
نئی دہلی: دہلی کے دوارکا کے جعفرپور کلاں میں 26 سالہ روپیش کمار کے گھر 26 اپریل کی رات خوشی کا موقع تھا۔ پیشے سے الکٹریشن روپیش اپنے دو سالہ بیٹے کی سالگرہ منا رہے تھے۔ چھوٹے سے گھر میں دوست جمع ہوئے تھے، کھانا تیار تھا، ہنسی مذاق جاری تھا اور جشن کا ماحول تھا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کچھ ہی دیر میں یہی رات ماتم میں بدل جائے گی۔ پارٹی ختم ہونے کے بعد جو کچھ ہوا، اسے یاد کرتے ہوئے روپیش کمار کہتے ہیں،’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔ ‘
پارٹی ختم ہونے کے بعد روپیش کے دوست گھر کے نیچے ٹیکسی کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں اکثر بہار کے متھلا علاقہ سے تھے اور آپس میں میتھلی میں بات کر رہے تھے-اپنی زبان میں۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہی بات پڑوس میں رہنے والے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ہیڈ کانسٹبل نیرج بلہارا کو ناگوار گزری۔ الزام ہے کہ اس نے پہلے گالیاں دیں، بہاری پہچان اور ’بہاری زبان‘کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے اور پھر روپیش کے 22 سالہ دوست پانڈو کمار کو گولی مار دی۔
چند منٹ پہلے جہاں سالگرہ کی خوشی تھی، وہاں اب خون، چیخیں اور افراتفری تھی۔ پانڈو نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ یہ صرف ایک قتل نہیں تھا بلکہ اس شدید سماجی نفرت کی کہانی بھی تھی، جس میں کسی کی زبان، علاقائی شناخت اور مہاجر ہونا جان لینے کی وجہ بن سکتا ہے۔
’میرے بھائی نے میری گود میں دم توڑا‘
موقع پر موجود کچھ لوگوں نے دی وائر کو بتایا کہ دوستوں کی بات چیت کی آواز سن کر نیرج باہر آئے اور روپیش کے ساتھیوں کو گالیاں دینے لگے۔ موقع پر موجود دیپک کہتے ہیں،’وہ ہمیں ماں بہن کی گالیاں دینے لگا اور صرف بہاری ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے لگا۔‘
’وہ بول رہا تھا کہ تم بہاری لوگ 1200 کلومیٹر دور دہلی آ کر یہاں گندگی پھیلاتے ہو، ہم لوگ پوری زندگی سرکاری نوکری کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس دو فٹ زمین نہیں ہے اور تم لوگ یہاں زمین لے رہے ہو، گھر بنا رہے ہو۔‘
پانڈو کے بھائی وکاس بتاتے ہیں،’گالیاں دینے کے بعد کانسٹبل نے اپنی پسٹل لوڈ کی اور میرے بھائی کی اسکوٹی کا پیچھا کرتے ہوئے اسے گولی مار دی۔‘

چشم دید دیپک۔ (فوٹو: وپل کمار / دی وائر)
دیپک، جو پانڈو کے چچا زاد بھائی ہیں، اس واقعہ کے بعد سے صدمے میں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں،’میں اسکوٹی پر پیچھے بیٹھا تھا، پانڈو چلا رہا تھا اور بیچ میں کرشنا نام کا ایک تمل ناڈو کا دوست بیٹھا تھا۔ گولی پانڈو کو چیرتے ہوئے کرشنا کو لگی، میں کسی طرح بچ گیا۔‘
غمزدہ دیپک کہتے ہیں،’میرے بھائی نے میری گود میں دم توڑا، میں صدمے میں چلا گیا تھا۔‘ واقعہ کو یاد کرتے ہوئے سہمی ہوئی آواز میں وہ کہتے ہیں،’ گولی مارنے کے بعد اس نے بولا کہ ایک ہی گولی میں دونوں کا کام تمام ہو گیا۔ پھر کرشنا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اسے اسپتال لے جا سکتے ہو، ایک تو مر گیا، اسے بچانا ہے تو بچا لو۔ ‘
کرشنا ہری نگر کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
روپیش کہتے ہیں،’پارٹی کے بعد دس لوگ جا رہے تھے۔ ان کے پاس دو اسکوٹی تھی،اس پر دس لوگ تو آ نہیں سکتے تھے اس لیے ان لوگوں نے ٹیکسی بک کی اور اسی کے آنے کا انتظار کر رہے تھے اور اپنی بولی اورزبان میں بات کر رہے تھے۔‘

چشم دید روپیش۔ فوٹو: وپل کمار/ دی وائر
ایک اور عینی شاہد چھوٹو بتاتے ہیں،’جب وہ آدمی ہمیں گالیاں دینے لگا تو روپیش نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ جانے دو انہیں ، یہ آئندہ یہاں نہیں آئیں گے۔ لیکن وہ نہیں مانا اور اس نے گولی چلا دی۔‘
واقعہ کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کیا ان لوگوں کے درمیان کوئی پرانی دشمنی بھی تھی، کیا ایسا تھا؟ جواب میں روپیش بتاتے ہیں،’ہم نے تو اسے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ پانڈو بھی اس علاقے میں پہلی بار ہی گئے تھے۔ ‘
اپنے خاندان میں واحد کمانے والے تھے پانڈو
بہار کے کھگڑیا ضلع کے رہنے والے پانڈو کمار زومیٹو، سویگی، زیپٹو جیسی کمپنیوں کے لیے ڈیلیوری بوائے کا کام کرتے تھے۔ گزشتہ تقریباً 20 سالوں سے ان کا خاندان دہلی میں رہ رہا ہے اور اس وقت دہلی کے اتم نگر میں کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش پذیر ہے۔ پانڈو اپنے خاندان میں واحد کمانے والے تھے۔ خاندان میں ان کی ماں، باپ اور 17 سالہ چھوٹا بھائی وکاس شامل ہیں، جو اکثر بیمار رہتے ہیں۔

پانڈو کی بہن گنجن ان کے گھر میں۔ فوٹو: شروتی شرما / دی وائر
پانڈو کی ایک بہن گنجن شادی شدہ ہیں اور دہلی کے شالیمار گارڈن میں رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد مزدوری کرتے تھے، لیکن بڑھتی عمر اور بیماری کی وجہ سے اب کام نہیں کر پاتے۔ چھوٹا بھائی وکاس ٹی بی کا مریض ہے۔ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی گنجن بتاتی ہیں،’گھر بھائی ہی چلاتا تھا، ماں -باپ کا خیال رکھتا تھا، سب کی بیماری کا علاج بھی وہی کرواتا تھا، اس کے بغیر خاندان کا کوئی سہارا نہیں بچا۔‘
اس واقعہ نے پانڈو کی ماں پر گہرا اثر ڈالا ہے، وہ مسلسل رو رہی ہیں۔ دی وائر سے بات چت کے دوران وہ بار بار کہہ رہی تھیں،’میرے بیٹے کو بہاری ہونے کی وجہ سے مار دیا ۔ مجھے انصاف چاہیے۔‘
اس واقعہ کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے، اور لوگ بہار سے آنے والے رہنماؤں سے اس کی جواب دہی مانگ رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے پانڈو کے خاندان کو 8 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔

پانڈو کی ماں مینا دیوی ۔ (دائیں سےدوسری۔) فوٹو: شروتی شرما / دی وائر
دریں اثنا،گزشتہ اتوار (3 مئی) کو عام آدمی پارٹی کے پوروانچل ونگ نے پانڈو کمار کے قتل کے خلاف وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔
احتجاج کے دوران پارٹی کارکنوں نے متاثرہ خاندان کے لیے 1 کروڑ روپے کا معاوضہ، خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری، اور ملزم پولیس اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایک نوجوان کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ بہار سے تھا۔ انہوں نے کہا،’بی جے پی حکومت میں قومی دارالحکومت عدم برداشت کا شہر بنتا جا رہا ہے۔‘
وہیں،اتوار کو پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کے کارکنوں نے بھی اس قتل کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا۔
کون ہیں کانسٹبل نیرج بلہارا؟
تقریباً 40 سالہ نیرج روہتک کے رہنے والے ہیں اور 2006 میں کانسٹبل کے طور پر پولیس میں شامل ہوئے تھے۔ خبروں کے مطابق، وہ 2019 سے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل میں ہیڈ کانسٹبل کے عہدے پر فائز تھے، اور سدرن رینج ٹیم میں تعیناتی کے دوران گزشتہ سات سالوں میں ایک درجن سے زائد گینگسٹرز اور لٹیروں کی گرفتاری میں شامل رہے ہیں۔
نیرج نے اپنی سروس گن سے پانڈو کو گولی ماری تھی۔ واقعہ کے چند گھنٹوں بعد انہیں روہتک سے گرفتار کر لیا گیا۔ نیرج کے خلاف پہلے سے کسی بھی قسم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے نیرج بلہارا کو سسپنڈ کر دیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری بٹھائی ہے۔
ملک میں نفرت انگیز تشدد عام بات
ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سماجی اختلافات کے درمیان اب تاریخی ’تنوع میں اتحاد‘ایک اجنبی خیال لگنے لگا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقائی امتیاز اور اس سے متعلق پرتشدد واقعات کی خبریں بھی کم نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر دہلی اور ممبئی میں بنگالی مہاجرین پر حملے، اتراکھنڈ میں تریپورہ کے طالبعلم کا قتل، مہاراشٹر میں ہندی بولنے پر تشدد،کشمیری خشک میوہ و شال فروشوں پر ملک کے مختلف حصوں میں حملے جیسے واقعات اب اکثر خبروں کی سرخیوں میں نظر آتے ہیں۔
تاہم، ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے بہار کے مہاجرین دہائیوں سے اس طرح کی نفرت کا نشانہ بنتے رہے ہیں، لیکن اب حالات مزید سنگین ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مہاراشٹر، سورت، بنگلورو، ہریانہ اور پنجاب سے ایسی خبریں مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں۔
پانڈو کی بہن گنجن بتاتی ہیں،’ہر دن ہمیں اپنی بہاری پہچان کی وجہ سے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہار کے غریب لوگ دہلی میں محنت مزدوری کرتے ہیں، سڑکیں بناتے ہیں، عمارتیں کھڑی کرتے ہیں۔ خون پسینہ ایک کرکے پیسہ کماتے ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگ ہمیں نیچی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہماری بہاری شناخت کی بنیاد پر ہمارے ساتھ امتیاز کرتے ہیں۔‘
پانڈو کے بھائی وکاس کہتے ہیں،’دہلی کے لوگ ہمیں ایک بہاری سو بیماری کہہ کر چھیڑتے ہیں۔‘

مہلوک پانڈو کے بھائی وکاس۔ (فوٹو: وپل کمار / دی وائر)
شناخت، خصوصی طور پر بہاری مہاجر ہونے کی شناخت کے حوالے سے ہونے والے تشدد پر بہار سے تعلق رکھنے والے سماجیات کے ماہر اور مصنف اروند موہن کہتے ہیں،’ بہاری ہونے کی وجہ سے ہونے والے حملے دراصل کسی ایک شناخت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک بڑے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا نتیجہ ہیں۔ یہ ’کمزور بمقابلہ کمزور‘کی لڑائی ہے، جہاں ایک حاشیے پر کھڑا گروہ دوسرے حاشیے کے گروہ کو اپنا حریف سمجھ کر نشانہ بناتا ہے۔ ان کےمطابق، شہروں میں کام کی تلاش میں آنے والے مہاجر مزدوروں کو مقامی لوگ اپنے وسائل اور جگہ پر دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہی تناؤ کئی بار تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں،’اس کے پیچھے بنیادی وجہ شدید معاشی عدم مساوات ہے۔ جن ریاستوں میں مواقع کم ہیں، وہاں سے مزدور بڑے شہروں کی طرف جائیں گے ہی۔ جیسے دہلی اور بہار کی فی کس آمدنی میں کئی گنا فرق ہے، اس لیے بہار کا مزدور کام کی تلاش میں دہلی آئے گا ہی۔ اس لیے اس طرح کے واقعات غیر فطری نہیں بلکہ اسی غیر مساوی ترقی کا نتیجہ ہیں۔‘

پانڈو کے ایک کمرے کے گھر میں ان کا زومیٹو کا ڈیلیوری باکس ۔(فوٹو: شروتی شرما / دی وائر)
اس سوال پر کہ غریب ریاستیں تو اوربھی ہیں، مگر بہار ہی کیوں نشانہ بنتا ہے اور بہاری شناخت’گالی‘کے مترادف کیوں بن گئی ہے، اروند موہن کہتے ہیں،’بہار اور مشرقی اتر پردیش کی پسماندگی تاریخی اور پالیسی دونوں وجوہات سے زیادہ گہری رہی ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی۔ جب کسی علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں تو ان کی ایک اجتماعی شناخت بن جاتی ہے، اور وہی شناخت اکثر اسٹریو ٹائپ میں بدل جاتی ہے۔‘
وہیں، ملک میں برادریوں کے درمیان بڑھتی نفرت پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کہتے ہیں،’دہلی میں تو بہاریوں کے خلاف بہت پہلے سے ایسے تعصبات موجود ہیں، جو ختم نہیں ہوئے ہیں۔ پولیس اہلکار ایک آئینی اتھارٹی ہے، لیکن اس کے تعصبات اس کے آئینی کردار پر حاوی ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں،’اس کے علاوہ ایک اور پہلو یہ ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں ہندوستان میں تشدد کے حوالے سے سزا نہ ملنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ، خاص طور پر پولیس والے، تشدد سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ اس کی کئی مثالیں ہیں۔ روزانہ تقریباً 20 ایسے ویڈیو سامنے آتےہیں جن میں پولیس والا کسی کو مارتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر معاملے میں قتل ہونا ضروری نہیں، لیکن یہ چیزیں ہندوستان میں بے تحاشہ ہیں۔ اس طرح ایک پولیس والے کو یہ فطری لگنے لگتا ہے کہ وہ کسی کو مار دے۔ اور پولیس کے ہاتھوں پیٹے جانے یا قتل ہونے کو لوگ بھی غلط نہیں سمجھتے۔ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ پولیس کسی بھی صورت میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی۔ انہیں لگتا ہے کہ لاٹھی یا ہاتھ اٹھانا پولیس کا حق ہے، اور پھر یہی چیز آگے بڑھ کر اس حد تک جا سکتی ہے کہ وہ گولی چلا دے۔‘
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں کسی سکیورٹی فورس کے اہلکار کی جانب سے اپنی سروس گن سے غصے میں کسی کو قتل کرنے کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے۔ سال 2023 میں ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے ایک کانسٹبل چیتن سنگھ نے ممبئی سے تقریباً 100 کلومیٹر دور مہاراشٹر کے پال گھر ریلوے اسٹیشن کے قریب چلتی ٹرین میں اپنے ایک سینئر ساتھی سمیت چار افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس نے تین مسافروں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر گولی ماری تھی۔
(ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)
