Delhi Police

فوٹو: ویڈٰیو اسکرین گریب

دہلی فسادات: قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے کے معاملے میں ہوئی نوجوان کی موت کی جانچ سی بی آئی کرے گی

سال 2020 کے دہلی فسادات کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں پانچ نوجوان زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکار ان نوجوانوں کو گھیرکر قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان فیضان کی موت ہو گئی تھی۔

دہلی کے اندرلوک میں  نمازیوں کے ساتھ بدسلوکی  کرتے پولیس کے ایس آئی۔ (اسکرین گریب بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

عدالت نے دہلی پولیس سے نمازیوں کے ساتھ  بد سلوکی کرنے  والے پولیس اہلکار کے تعلق سے رپورٹ طلب کی

حال ہی میں سامنے آئے ایک وائرل ویڈیو میں دہلی پولیس کے سب انسپکٹر منوج تومر کو شہر کے اندرلوک علاقے میں مکی جامع مسجد کے قریب نماز ادا کرنے والے لوگوں کو لات مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس واقعہ سے پیدا ہونے والے غم و غصے کے درمیان انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔

ہرش مندر۔ (تصویر: دی وائر)

دہلی: انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر کے گھر اور دفتر پر سی بی آئی کے چھاپے

جمعہ کی صبح سی بی آئی کے لوگ دہلی کے وسنت کنج واقع سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر کے گھر اور جنوبی دہلی کے ہی ادھ چینی واقع ان کے دفتر پہنچے تھے۔ اس سے قبل ستمبر 2021 میں ای ڈی نے ان کے یہاں چھاپے ماری کی تھی۔

 (تصویر: اویس صدیقی)

’پندرہ دسمبر جامعہ کے لیے ایک ایسا داغ ہے جو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا‘

پندرہ دسمبر 2019 کو دہلی پولیس نے سی اے اے مخالف مظاہرے میں پتھراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس اور لائبریری میں گھس کر طالبعلموں کی پٹائی کی تھی۔ اس تشدد کے چار سال ہونے پر جامعہ کے طالبعلموں نے ‘یوم مزاحمت’ مناتے ہوئے کیمپس میں مارچ نکالا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: Freestocks/Unsplash)

نیوز کلک پر چھاپے ماری میں 250 الکٹرانک ڈیوائس ضبط کیے جانے سے صحافیوں کا کام کاج ٹھپ

گزشتہ 3 اکتوبر کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے یو اے پی اے کے تحت درج ایک کیس کے سلسلے میں نیوز ویب سائٹ نیوز کلک اور اس کے عملے کے یہاں چھاپے ماری کی تھی۔ اس دوران 90 سے زائد صحافیوں کے تقریباً 250 الکٹرانک آلات ضبط کیے گئے تھے۔ تقریباً ایک ماہ بعد بھی انہیں واپس نہیں کرنے سے صحافیوں کے لیے کام کرنا دشوار ہو گیا ہے۔

maxresdefault-1 (1)

میڈیا کو حکومت کا پیغام ہے کہ جو آواز اٹھائے گا، یو اے پی اے میں بند کر دیا جائے گا: یوگیندر یادو

ویڈیو: یو اے پی اے کے تحت درج ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے بعد دہلی پولیس نے نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کے مدیر پربیر پرکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو 3 اکتوبر کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے پر سوراج انڈیا پارٹی کے لیڈر یوگیندر یادو سے بات چیت۔

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کا دفتر۔ (تصویر: دی وائر)

کرونولاجی سمجھیے: پانچ دن، چار ایجنسیاں اور نشانے پر اپوزیشن لیڈر، صحافی اور کارکن

اکتوبر کے شروعاتی چند دنوں میں ہی ملک کی مختلف ریاستوں میں مرکزی ایجنسیوں کے منظم ‘چھاپے’، ‘قانونی کارروائیاں’، نئے درج کیے گئے مقدمات اور ان آوازوں پر قدغن لگانے کی کوششوں کا مشاہدہ کیا گیا، جو اس حکومت سے اختلاف رکھتے ہیں یا اس کی تنقید کرتے ہیں۔

(تصویر بہ شکریہ: نیوز کلک/وکی میڈیا کامنز)

’نیوز کلک‘ کو عوام کو باخبر رکھنے اور خبردار کرنے کی سزا مل رہی ہے

حکومت کے جس قدم سے ملک کا نقصان ہو، اس کی تنقید ہی ملک کا مفاد ہے۔ ‘نیوز کلک’ کی تمام رپورٹنگ سرکاری دعووں کی پڑتال کرتی ہے، لیکن یہی تو صحافت ہے۔ اگرسرکار کے حق میں لکھتے اور بولتے رہیں تو یہ اس کا پروپیگنڈہ ہے۔ اس میں صحافت کہاں ہے؟

علامتی تصویر. (تصویر: Ivan Lian/Flickr)

نیوز کلک کیس: دہلی پولیس کی ایف آئی آر میں چینی فرم شاؤمی، وی وو کا نام، نامعلوم وکیل کا ذکر

ایف آئی آر میں نیوز کلک کے ایڈیٹر پربیر پرکایستھ، گوتم نولکھا اور امریکی کاروباری نیول رائے سنگھم کے خلاف یو اے پی اے کی پانچ دفعات لگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، شاؤمی اور وی وو کی طرف سے ‘غیر قانونی فنڈنگ’ اور کسی ‘گوتم بھاٹیہ’ کے ذریعے ‘ان ٹیلی کام کمپنیوں کے’ قانونی معاملات میں دفاع’ کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کمپنیوں سے متعلق عدالتی ریکارڈ میں کسی گوتم بھاٹیہ کے وکیل ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔

پربیر پرکایستھ، نیوز کلک کے ڈائریکٹر اورمدیر۔ (بہ شکریہ: یوٹیوب اسکرین شاٹ)

دہلی پولیس نے نیوز کلک کے مدیر کی جانب سے ایف آئی آر کی کاپی فراہم کیے جانے سے متعلق عرضی کی مخالفت کی

نیوز کلک کے بانی اور مدیر پربیر پرکایستھ اور پورٹل کے ایچ آرہیڈ امت چکرورتی کو منگل کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، لیکن پولیس نے ان کے وکیلوں کو ایف آئی آر کی کاپی دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

ارندھتی رائے۔ (تصویر: دی وائر)

صحافیوں کے یہاں چھاپے ماری پر ارندھتی رائے نے کہا — ایمرجنسی سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال

معروف قلمکار اور کارکن ارندھتی رائے نے نیوز کلک سے وابستہ صحافیوں کے یہاں چھاپے ماری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2024 میں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ملک میں جمہوریت کا نام ونشان نہیں رہے گا۔

پربیر پرکایستھ، نیوز کلک کے ڈائریکٹر اور ایڈیٹر۔ (بہ شکریہ: یوٹیوب اسکرین شاٹ)

نیوز کلک نے اپنے بیان میں کہا – ابھی تک نہیں ملی ایف آئی آر کی کاپی، جرائم کی تفصیلات بھی نہیں بتائی گئی

نیوز کلک نے اپنے صحافیوں اور عملے کے یہاں چھاپوں، پوچھ گچھ اور گرفتاریوں کے بعد جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایسی حکومت، جو پریس کی آزادی کا احترام نہیں کرتی اور تنقید کو غداری یا ‘اینٹی نیشنل’ یا پروپیگنڈہ سمجھتی ہے، اس کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

نیوز کلک نیوز پورٹل کا لوگو۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نیوز کلک پر چھاپہ: صحافیوں سے دہلی فسادات، کسانوں کے احتجاج اور کووڈ بحران کے بارے میں پوچھا گیا

یو اے پی اے کے تحت درج ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے بعد دہلی پولیس نے گزشتہ منگل کو نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کے ایڈیٹر پربیر پرکایستھ اور ایڈمنسٹریٹر امت چکرورتی کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پر مبنی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ویب سائٹ کو ‘ہندوستان مخالف’ ماحول بنانے کے لیے چین سے فنڈنگ کی گئی ہے۔

The-Wire-Editorial-Logo-1024x495

آزاد پریس کو ڈرانے کی کوشش جاری ہے

ایک پورے میڈیا آرگنائزیشن پر ‘چھاپے ماری’ اور صحافیوں کے الکٹرانک آلات کو لازمی ضابطہ پرعمل کیے بغیرچھین لینا آزاد پریس کے لیے نیک شگون نہیں ہے، اور جمہوریت کے لیے اس سے بھی بدتر۔

(السٹریشن : پکسابے/دی وائر)

دہلی: صحافیوں کے یہاں چھاپے ماری اور پوچھ گچھ کی مذمت، میڈیا تنظیموں نے کہا – دھمکانے کی کوشش

نیوز کلک سے وابستہ صحافیوں، کارکنوں وغیرہ کے گھروں پر چھاپے ماری، ان کے موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ ضبط کرنے اوران سے پوچھ گچھ کرنے کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میڈیا تنظیموں، کارکنوں اور اپوزیشن نے اسے میڈیا کو ڈرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

(بائیں سے دائیں) ڈی رگھونندن، ابھیسار شرما، پربیر پرکایستھ، سہیل ہاشمی، ارملیش اور بھاشا سنگھ۔

یو اے پی اے کیس میں دہلی پولیس نے صحافیوں، کارکنوں اور اسٹینڈ اپ کامیڈین کے یہاں چھاپے مارے

صحافیوں، کارکنوں اور اسٹینڈ اپ کامیڈین کے خلاف یہ چھاپے ماری سخت یو اے پی اے کے تحت گزشتہ اگست میں درج کی گئی ایف آئی آر سےمتعلق ہے۔ پولیس نے نیوز ویب سائٹ نیوزکلک کے ملازمین کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ جیسے الکٹرانک آلات ضبط کر لیے ہیں۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر)

پرساد چوری کے شبہ میں نوجوان کی پٹائی سے موت، سات گرفتار: دہلی پولیس

پولیس نے بتایا کہ شمال–مشرقی دہلی کے سندر نگری میں پوجا پنڈال سے پرساد چوری کرنے کے شبہ میں ایک 26 سالہ ذہنی طور پر معذور شخص کو بجلی کے کھمبے سے باندھ کر لاٹھیوں سے کئی گھنٹوں تک مارا پیٹا گیا، جس کے باعث اس کی موت ہوگئی۔ نوجوان کی پہچان ایثار محمد کے طور پر ہوئی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

دہلی فسادات: ’جیل میں عمر خالد کے 1000 دن، مزاحمت کے بھی ہزار دن ہیں‘

جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد نے سال 2020 میں شمال–مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق ایک معاملے میں جیل میں ایک ہزار دن پورےکر لیے ہیں۔ خالد کو دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں گرفتار کیا تھا اور ان پر یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔

کراول نگر میں منعقدہ 'ہندو راشٹر پنچایت' میں بی جے پی لیڈر اور یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کے بین الاقوامی ورکنگ صدر جئے بھگوان گوئل۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/jaibhagwangoyal59)

’ہندو راشٹر پنچایت‘ میں کیا گیا شمال–مشرقی دہلی کو ’پہلا ہندو راشٹر‘ ضلع بنانے کا عہد

اتوار کو کراول نگر میں منعقدہ ‘ہندو راشٹر پنچایت’ میں بی جے پی لیڈر اوریونائٹیڈ ہندو فرنٹ کے بین الاقوامی ورکنگ صدر جئے بھگوان گوئل نے علاقے میں مسلمانوں کو مکانات فروخت نہ کرنے اور ان کے ساتھ کوئی کاروبار نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد شمال–مشرقی دہلی کو پہلا ‘ہندو راشٹر ضلع ‘ بنانا ہے۔ پولیس نے تقریب کی منظوری نہ لینےکے حوالے سے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

کشمیر پر سیمینار کے انعقاد سے متعلق پوسٹر۔

دہلی پولیس نے کشمیر میں ’میڈیا بلیک آؤٹ اور ریاستی جبر‘ کے موضوع پر سیمینار کی اجازت نہیں دی

کشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ اور ریاستی جبر پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 15 مارچ کو گاندھی پیس فاؤنڈیشن میں ایک سیمینارہونے والاتھا۔ چند روز قبل ہی بھارت میں فاشزم کے موضوع پر ایک اور سیمینار کوپولیس نے منظوری نہیں دی، منتظمین نے اسے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، پھر پولیس کے فیصلے کو رد کیاگیا۔

شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فیس بک)

شرجیل – صفورہ اور دیگر کو بری کرنے والے جج نے خود کو جامعہ تشدد کے معاملوں سے الگ کیا

گزشتہ 4 فروری کو ساکیت ڈسٹرکورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ارول ورما نے جامعہ تشدد کیس میں شرجیل امام، آصف اقبال تنہا ، صفورہ زرگر اور آٹھ دیگر کو بری کر دیا تھا۔ جج ورما نے پایا تھا کہ پولیس نے ‘حقیقی مجرموں’ کو نہیں پکڑااور ان ملزمین کو ‘قربانی کا بکرا’ بنانے میں کامیاب رہی۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد: عدالت نے فیصلے میں کہا-دہلی پولیس نے پرانے حقائق کو ہی نئے شواہد کے طور پر پیش کیا

سال 2019 کے جامعہ تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت 11 لوگوں کو بری کرنے والے کورٹ کے فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ معاملے میں پولیس کی طرف سے تین ضمنی چارج شیٹ دائرکرنا انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس نے ضمنی چارج شیٹ داخل کرکے ‘تفتیش’ کی آڑ میں پرانے حقائق کو ہی پیش کرنے کی کوشش کی۔

شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فیس بک)

جامعہ تشدد: شرجیل امام اور صفورہ سمیت 11 افراد الزام سےبری، عدالت نے کہا – قربانی کا بکرا بنایا گیا

جامعہ نگر علاقے میں دسمبر 2019 میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت11 افراد کو الزام سے بری کرتے ہوئے دہلی کی عدالت نے کہا کہ چونکہ پولیس حقیقی مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی، اس لیے اس نے ان ملزمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔

Mohammad-Zubair

پاکسو کیس میں دہلی پولیس نے محمد زبیر کو کلین چٹ دی، کہا – ٹوئٹ میں کچھ بھی مجرمانہ نہیں

یہ معاملہ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے اگست 2020 میں کیے گئے ایک ٹوئٹ سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے ایک صارف کی پروفائل پکچر شیئر کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا اپنی پوتی کی تصویر لگاکر قابل اعتراض زبان کا استعمال کرنا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد صارف نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

عمر خالد

عمر خالد کو سات دن کے لیے عبوری ضمانت ملی

دہلی دنگوں کے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار عمر خالد نے اپنی بہن کی شادی کے پیش نظر دو ہفتے کے لیے عبوری ضمانت مانگی تھی۔ عدالت نے انہیں 23 سے 30 دسمبر تک کے لیے ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں مزید توسیع کا مطالبہ نہ کریں۔

'کسان آندولن گراؤنڈ زیرو' کتاب اور تحریک کے دوران 2021 میں سنگھو بارڈر پر بیٹھے کسان۔ (تصویر: راج کمل پرکاشن/پی ٹی آئی)

’کسان آندولن، گراؤنڈ زیرو‘ کسانوں کی جدوجہد کو پُر اثر انداز میں پیش کرنے والی ضروری کتاب ہے

بک ریویو: تحریک کے ساتھ ہی تحریکوں کو دستاویزی پیرہن عطا کرنا ایک اہم اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ صحافی مندیپ پنیا نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے سفر کو تخلیقی انداز میں حقائق کے ساتھ پیش کرکے اس سمت میں کوشش کی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد: ایس پی پی کو فائل سونپنے میں تاخیر پر عدالت نے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی

دسمبر 2019 کو شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

عمر خالد۔ (تصویر: دی وائر)

دہلی پولیس نے عمر خالد کی عبوری ضمانت کی مخالفت کی

دہلی فسادات سے متعلق معاملوں میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار عمر خالد نے اپنی بہن کی شادی کے پیش نظر دہلی کی ایک عدالت میں دو ہفتے کی عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ اس کی رہائی سے ‘معاشرے بدامنی’ پھیل سکتی ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

’دی وائر‘ اور اس کے مدیران کے گھروں میں پولیس کی تلاشی نامناسب: ایڈیٹرز گلڈ، آئی ڈبلیو پی سی

بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے دی وائر کے دفتر اور بانی مدیران کے گھروں کی تلاشی لیتے ہوئےمختلف الیکٹرانک آلات ضبط کیے تھے۔ایڈیٹرز گلڈ نے دہلی پولیس سے تحقیقات میں غیر جانبدار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے طریقے اختیار نہ کریں جس سے جمہوری اصولوں کی توہین ہو۔

علامتی تصویر. (تصویر: Ivan Lian/Flickr)

’دی وائر‘ اور اس کے مدیران کے گھروں پر چھاپے ماری کی میڈیا تنظیموں نے مذمت کی  

بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے 31 اکتوبر کو دہلی میں دی وائر کے دفتر اور بانی مدیرسدھارتھ وردراجن، ایم کے وینو، ڈپٹی ایڈیٹر جہانوی سین کے علاوہ ممبئی میں سدھارتھ بھاٹیہ اور پروڈکٹ کم بزنس ہیڈ متھن کدامبی کے گھر کی تلاشی لی تھی اورمختلف الیکٹرانک آلات اپنے قبضے میں لیے تھے۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کیا

دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عمر خالد کیس کے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات پہلی نظر میں درست ہیں ۔ دہلی پولیس کے ذریعےستمبر 2020 میں گرفتار خالد نے ضمانت کے لیے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شمال–مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد میں ان کا کوئی مجرمانہ رول نہیں تھا۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی: اوکھلا-جامعہ نگر میں دفعہ 144نافذ، ریلی اور جلوس میں مشعل پر پابندی

دہلی پولیس کے ایک حکم نامےکے مطابق، سی آر پی سی کی دفعہ 144 نیو فرینڈس کالونی، جامعہ نگر اور اوکھلا علاقے میں 17 نومبر تک نافذ رہے گی۔ اس حکم کو ذہن میں رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے طلبا اور اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ یونیورسٹی کیمپس اور اس کے آس پاس گروپ میں جمع نہ ہوں۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

جیل میں دو سال پورے ہونے پر عمر خالد کا خط: کبھی کبھی مایوسی اور تنہائی مجھے گھیر لیتی ہے

اکثرسوچتا ہوں یہ اندھیری سرنگ کتنی لمبی ہے؟ کیا کوئی روشنی نظر آرہی ہے؟ کیا میں اس کے انجام کے قریب ہوں یا اب تک صرف آدھا فاصلہ طے ہوا ہے؟ یا آزمائش کا دور ابھی بس شروع ہی ہوا ہے؟

عمر خالد کی والدہ صبیحہ خانم دہلی میں پریس کلب آف انڈیامیں ایک پروگرام کے دوران۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

عمر خالد کی والدہ نے کہا — اس تالے کے پیچھے رہنے کا تصور کریں، جس کی چابی کسی اور کے پاس ہو

دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی سازش کرنے کے الزام میں اسٹوڈنٹ لیڈعمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ قید کے دو سال پورے ہونے پر ایک پروگرام میں ان کی والدہ صبیحہ خانم نے کہا کہ عمر کو نہ صرف ضمانت ملنی چاہیے بلکہ ان کے خلاف تمام معاملے بھی بند ہونے چاہیے۔

نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ میں ای ڈی کے ذریعے سیل کیے گئے 'ینگ انڈیا' کے دفتر میں جواہر لعل نہرو کی تصویر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کیا نیو انڈیا میں ہونے والے آزادی کے جشن میں جواہر لعل نہرو کی کوئی جگہ نہیں ہے

ہندوستان کی آزادی کے 75 سال کا جشن منانے کے لیے جاری ‘آزادی کے امرت مہوتسو’ کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں ملک کے موجودہ اور واحد ‘محبوب لیڈر’ کا ہی تذکرہ کیا جا رہا ہے اور ان ہی کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کسی مسلمان کا حکومت سے جوابدہی طلب کرنا اور بطور صحافی کام کرنا جرم نہیں ہے: محمد زبیر

انٹرویو: چار سال پرانےایک ٹوئٹ کے لیے دہلی پولیس کے ذریعے حراست میں لیے جانے کے بعد آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نےتقریباً تین ہفتے جیل میں گزارے۔ اس دوران یوپی پولیس نے ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے انہیں یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی کہ ان کی مسلسل حراست کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کے ساتھ علی شان جعفری کی بات چیت۔

نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فائل فوٹو/السٹریشن: دی وائر)

کیا ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی ختم ہو چکی ہے …

گزشتہ دنوں یوپی میں عمل میں آئی دو گرفتاریوں سے واضح ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اب باقی نہیں رہی۔ یا پھر جیسا کہ عیدی امین نے ایک بار کہا تھا کہ ، بولنے کی آزادی توہے، لیکن ہم بولنے کے بعد کی آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

سپریم کورٹ نے یوپی میں درج تمام معاملوں میں آلٹ نیوز کے محمد زبیر کو ضمانت دی

فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں مسلسل حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت نے انہیں بدھ کو ہی رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف اتر پردیش میں درج تمام معاملے دہلی پولیس کو تحقیقات کے لیے سونپ دیے اور یوپی حکومت کی طرف سے بنائی گئی ایس آئی ٹی کو بھی ختم کرنے کی ہدایت دی۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

سابق نوکر شاہوں نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر کہا، اظہار رائے کی آزادی کےخلاف پولیس کی ہراسانی کو روکیں

کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے 72 سابق نوکر شاہوں کے ایک گروپ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کو خط لکھا ہے، جس میں فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو مسلسل حراست میں رکھنے اور ان کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے سامنے مساوات کے آئینی اصول کے پیروکار کے طور پر نوپور شرما اور محمد زبیر کے درمیان امتیازی سلوک کا مشاہدہ کرناانتہائی پریشان کن ہے۔