امریکہ نے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل کی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں چار ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں پر پابندی عائد کی ہے۔ ان کمپنیوں میں سداشیو اوورسیز، پی پی سافٹ ٹیک، پراکرتیز انفرا امپیکس اور پورٹ ایز پارٹنرز شامل ہیں۔ یہ کارروائی امریکہ کی نئی مہم ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی گئی ہے، جس کے ذریعے وہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تصویر:آئی ایس این اے/امیرحسین خورگوئی، وایااے پی
نئی دہلی: امریکہ نے ایران کے پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں چار ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ کارروائی امریکہ کی نئی مہم ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی گئی ہے، جس کے ذریعے وہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں سداشیو اوورسیز لمیٹڈ شامل ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، کمپنی نے فروری 2024 سے جون 2025 کے درمیان تقریباً 6.9 کروڑ ڈالر مالیت کی ایرانی نژاد پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی تھیں۔
محکمے کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ کھیپ ایسی کمپنی سے آئی تھیں جس پر امریکہ پہلے ہی پابندی عائد کر چکا تھا۔
پی پی سافٹ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ اور پراکرتیز انفرا امپیکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ پر بھی ایران سے پیٹرولیم اور اس سے متعلقہ مصنوعات درآمد کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے تقریباً 2.5-2.5 کروڑ ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کی ہیں۔ چاروں ہندوستانی کمپنیوں سے متعلق درآمدات کی مجموعی مالیت 11.9 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔
پی پی سافٹ ٹیک کے ڈائریکٹر بتائے گئے پرشانت گرگ کو بھی امریکی پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست کو آخری بار 24 اگست 2026 کو اپڈیٹ کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ، ہندوستان واقع کسٹمز بروکر پورٹ ایز پارٹنرز ایل ایل پی پر ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی کھیپ ہندوستان پہنچانے میں مدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ کمپنی پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ اس کے شراکت دار اندریس میا اشرف میا شیخ اور ہریش رام چندر رنگی، دونوں ہندوستانی شہریوں، پر بھی الگ الگ پابندی لگائی گئی ہے۔
ان پابندیوں کے بعد امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے منگل، 25 اگست کو کہا کہ امریکہ کے نئے اقتصادی قدم ایرانی حکومت پر دباؤ کا شکنجہ اور مضبوط کریں گے۔
وہیں، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک دن پہلے کہا تھا کہ ایران ’مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے۔‘
نئی مہم کے تحت بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ’کسی بھی طرح کے‘ اقتصادی تعلقات پر امریکہ کی جانب سے کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ان پابندیوں کو ’اکنامک ڈی ڈے‘ قرار دیا۔
معلوم ہو کہ یہ قدم امریکہ اور ایران کے درمیان جاری نازک جنگ بندی کے دوران اٹھایا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی مستقل معاہدے کے امکانات فی الحال نظر نہیں آ رہے۔
اس سے پہلے فروری میں بھی امریکہ نے ایران کے پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل شعبے سے مبینہ تعلقات کی وجہ سے ہندوستان واقع چار کمپنیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ گزشتہ سال جولائی میں چھ ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں کو بھی امریکی پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل اور تیل کی مصنوعات کی تجارت کو لے کر ہندوستانی کمپنیوں کے خلاف امریکی کارروائی کے کئی معاملےسامنے آ چکے ہیں۔
غور طلب ہے کہ منگل کے تازہ واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے ایران نے کہا کہ وہ موجودہ اور مستقبل میں عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’ہر طرح سے تیار‘ ہے۔
ایران کے وزیر اقتصادیات علی مدنی زادے نے کہا کہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ملک کے پاس ’دو سالہ منصوبہ‘ موجود ہے۔
امریکہ کی تازہ پابندیوں کی فہرست میں چین اور ہانگ کانگ کی تقریباً 20 کمپنیوں کے علاوہ چین میں مقیم چار افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں
