امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘ کہ کیا وہ عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موضوع پر خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔
سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف کو اختیارات کی حد سے تجاوز قرار دیا ہے۔ تاہم، صدر نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ہوئے معاہدے پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اب ہندوستان ٹیرف ادا کرے گا، امریکہ نہیں، جبکہ قانونی صورتحال ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہے۔
ہندوستان نے جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ پر ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہفتہ بھر پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے کی امریکہ کی پیشکش کو زیر غور قرار دیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف آبزرور رہے گا یا مستقبل میں بورڈ کی مکمل رکنیت بھی اختیار کرے گا۔
امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے منسلک بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ آنے کے بعد کانگریس نے لوک سبھا میں فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک التوا پیش کی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزوں کےمطابق، 2017 اور 2019 کے درمیان ہندوستانی کاروباری انل امبانی امریکی سیاسی رسائی سے متعلق امور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات کے بارے میں گفت و شنید کے حوالے سے ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں تھے۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
حال ہی میں امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز، حتیٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا ردعمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے ہندوستانی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو ‘اسٹریٹجک چابک دستی’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ اس چابک دستی کو ہندوستان کی مجبوری گر دانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔
امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کردہ کل ٹیرف پچاس فیصدی ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے تازہ فیصلے کے مطابق 25 فیصد اضافی ٹیرف 27 اگست سے لاگو ہوگا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف عالمی تجارت پر پڑ سکتا ہے بلکہ کئی طرح کی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان کی معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج۔
لیکس فریڈمین کے پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، آر ایس ایس کے نظریے اور دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ جمہوریت میں تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اپنی سوچ اور عمل میں جمہوریت پسند ہیں تو آپ کو تنقید کو گلے لگانا چاہیے۔
یورپ اچانک ایسی صورتحال کے ایک سلسلے سے دو چار ہے، جس کی شروعات یوکرین بحران سے ہوئی تھی اور یہ جرمنی میں دائیں بازو کی پارٹی کے عروج کے ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ کی تخریبی پالیسیوں تک جا تی ہے۔ اس بارے میں ذیشان کاسکر سے بات کر رہے ہیں دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج ۔
ویڈیو: ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی یورپ اور مغربی دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کی رہنمائی میں چلنے والے عالمی نظام کے سامنے کون سے چیلنجز ہوں گے ،اس بارے میں بتا رہے ہیں میں دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا برقرار رہنا غیر یقینی ہے، کیونکہ عدم اعتماد اور غیر حل شدہ مسائل کسی بھی وقت کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتے ہیں۔
ویڈیو: امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت کا عالمی منظر نامے پر کیا اثر پڑے گا اور ٹرمپ کی واپسی کا امریکہ کی سیاست اور معاشرے پر کیا اثر پڑے گا،اس بارے میں بتا رہے ہیں دی وائر ہندی کے مدیرآشوتوش بھاردواج ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت پر دنیا بھر کے رہنماؤں کے پیغامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا کس سمت جا سکتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی واقعات کی پیشگی اطلاعات تھیں، مگر ان کو وقوع پذیر ہونے دیا گیا۔ بڑا سوال یہ ہے کہ مکمل انٹلی جنس ہونے کے باوجود ایسے حملوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟ کوئی واضح جواب نہیں ہے۔
صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کی آمد امریکی جمہوری نظام کی طاقت اور مستحکم معاشرے کی خوبصورتی کی دلیل ہے۔ ان کی ماں شیاملا 1958 میں امریکہ آئی تھیں اور صرف 66 سال بعد ان کی بیٹی اس کرہ ارض کی سب سے طاقتور مملکت کی صدر بن سکتی ہیں۔
میٹا نے دی وائر کی جانب سے عام کیے گئے شواہد کے بارے میں بے بنیاد دعوے کیے ہیں، شاید اس توقع کے ساتھ کہ ہم آگے کی جانکاری جمع کرنے اور شائع کرنے کو پابندہوں گے اور وہ آسانی سے ہمارے ذرائع کے بارے میں جان سکیں گے۔ لیکن ہم یہ کھیل کھیلنے کو تیار نہیں ہیں۔
خصوصی رپورٹ : بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کی میٹا کے خصوصی ‘کراس چیک’ پروگرام میں شمولیت کے بارے میں دی وائر کی رپورٹس پر میٹا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ہم پرکئی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ دی وائر نے ان تمام سوالوں کے جوابات شواہد کے ساتھ دیے ہیں۔
خصوصی رپورٹ: انسٹا گرام نے کرنج آرکیوسٹ نامی اکاؤنٹ کی سات پوسٹ بغیر کسی تصدیق کےصرف اس وجہ سے ہٹا دیا کہ اسے بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امیت مالویہ نے رپورٹ کیا تھا، مالویہ کو میٹا کے متنازعہ ‘کراس چیک پروگرام’ کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ اب میٹا نے کراس چیک لسٹ کی بات کو’من گھڑت’ بتایا ہے۔
خصوصی رپورٹ : انسٹا گرام نے کرنج آرکیوسٹ نامی اکاؤنٹ کی سات پوسٹ بغیر کسی تصدیق کےصرف اس وجہ سے ہٹا دیا کہ اسے بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امیت مالویہ نے رپورٹ کیا تھا، مالویہ کو میٹا کے متنازعہ ‘کراس چیک پروگرام’ کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔
ہندوستان میں تاریخ کو از سر نو لکھا جا رہا ہے۔ تاریخ میں بس ان ہی لیڈروں کی پذیرائی کی جارہی ہے، جن کو ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی توثیق حاصل ہے۔
گزشتہ دنوں گوا میں ایک بیان میں وزیر اعظم مودی نے پرتگالی راج سےمتعلق غلط تاریخی حقائق پیش کیے تھے۔ ان کے اس بیان کی صداقت پر سوال اٹھنا لازمی تھا، لیکن لگتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وزیر اعظم کے منہ سے نکلی بات کی کوئی تحقیق نہیں کرتا۔
ویڈیو: ایک سال پہلے فرقہ وارانہ فسادات میں شمال-مشرقی دہلی میں جان ومال کا کافی نقصان ہوا تھا۔ تب دی وائر نے شیو وہار کے متاثرین سے اس موضوع پر بات کی تھی۔ ایک سال بعد انہی لوگوں سے دوبارہ بات چیت۔
ویڈیو: دہلی فسادات کے ایک سال بعد بھی لوگ خوف میں جی رہے ہیں۔ فسادات میں ہوئے جان ومال کے نقصان کی بھرپائی ہو پانا ناممکن ہے۔ د ی وائر نے شیو وہار کے لوگوں سے بات کر کے ان کی پریشانی کو جاننے کی کوشش کی ۔
ویڈیو: امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد صدر جو بائیڈن اورنائب صدر کملا ہیرس نے عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اس مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالتے ہی سابق صدر ٹرمپ کی متعدد پالیسیاں منسوخ کردی ہیں جن میں مسلم ممالک پر عائد سفری پابندیاں شامل ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ملک کی 152 سالہ پرانی روایت کو نظرانداز کرتے ہوئے جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں حصہ نہیں لیا اوروہائٹ ہاؤس سے نکل کر سیدھے فلورڈا چلے گئے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو درست کریں گے۔ وہیں نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ وہ خدمت کرنے کے لیے تیار ہیں۔