گزشتہ شب مبینہ طور پربھیڑ نے اکبر نام کے ایک آدمی کوگائے اسمگلنگ کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔پولیس جائے واردات پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔سراغ کے لیے پولیس کھوجی کتوں کا بھی سہارا لے رہی ہے۔

فوٹو: اے این آئی
نئی دہلی :راجستھان کے الور میں گائےاسمگلنگ کے شک میں ایک آدمی کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا ہے ۔یہ معاملہ الور کے رام گڑھ کا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق گزشتہ شب بھیڑ نے اکبر نام کے ایک آدمی کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔پولیس جائے واردات پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔سراغ کے لیے پولیس کھوجی کتوں کا بھی سہارا لے رہی ہے۔
#SpotVisuals: A man named Akbar was allegedly beaten to death by mob in Alwar's Ramgarh last night on suspicion of cow smuggling, police investigation underway #Rajasthan pic.twitter.com/Vg8X4KBdDB
— ANI (@ANI) July 21, 2018
میڈیا رپورٹس کے مطابق؛ الور کے رام گڑھ کے لال ونڈی گاؤں میں اکبر دو گائے لے کر جارہا تھا۔کسی طرح مقامی لوگوں کو اس کی خبر لگ گئی اس کے بعد وہاں بھیڑ جمع ہوگئی ۔ پھر بھیڑ نے اکبر پر حملہ کر دیا اور اس کو پیٹنے لگے ،جس میں اکبر کی موت ہوگئی ۔پولیس نے اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق مرنے والا ہریانہ کے کولگاؤں کا رہنے والا تھا۔ اے این آئی کے مطابق الور کے اے ایس پی انل بینی وال نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ وہ گائے اسمگلر تھا یا نہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزموں کے پہچان کی کوشش کر رہے ہیں اور اس معاملے میں فوراً گرفتاری کی جائے گی ۔
It is not clear if they were cow smugglers. The body has been sent for postmortem, We are trying to identify the culprits and arrests will be made soon: Anil Beniwal, ASP Alwar on a man allegedly beaten to death by mob in Alwar's Ramgarh last night on suspicion of cow smuggling pic.twitter.com/qFcMZJfyZP
— ANI (@ANI) July 21, 2018
دریں اثنا راجستھان کی وزیر اعلیٰ نے وسندھرا راجے نے اس معاملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ؛ الور ضلع میں گائے کے بچھڑوں کو لے جانے والے شخص کا مبینہ طور پر قتل قابل مذمت ہے ۔ملزموں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔
#Alwar में गो परिवहन से सम्बंधित वारदात में हुई नृशंस हत्या की मैं कड़े शब्दों में निंदा करती हूँ। पुलिस मामला दर्ज कर दो संदिग्ध व्यक्तियों से पूछताछ कर रही है। मैंने गृह मंत्री @GulabKataria जी को जल्द से जल्द मामले की छानबीन कर दोषियों को कड़ी सज़ा दिलाने के निर्देश दिए हैं।
— Vasundhara Raje (@VasundharaBJP) July 21, 2018
ادھر اس ماب لنچنگ میں اپنی جان گنوانے والے کے والد سلیمان کا کہنا ہے کہ ہمیں انصاف چاہیے۔ملزموں کو جلد گرفتار کیا جانا چاہیے۔ راجستھان کے وزیر داخلہ جی سی کٹاریہ نے کہا ہے کہ ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ہم نے سزائے موت کا قانون بنایا ہے تو کل سے کسی کو ایسی سزا نہیں ہوگی ،کوئی مرڈر نہیں ہوگا لیکن ہم قانون کو اور سخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
We'll take strict action against those responsible. Aisi koi guarantee nahi hai ki humne mrityudand ka kanoon banaya hai to koi kal se mrityudand ka bhaagi nahi banega, koi murder hoga nahi. But we're trying to make laws stricter: GC Kataria, Rajasthan Home Min on Alwar lynching pic.twitter.com/BXxAxuj3vP
— ANI (@ANI) July 21, 2018
اس پورے معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ ؛دفعہ 21 کے تحت ہندوستان میں گایوں کو جینے کا بنیادی حق ہے اور ایک مسلمان کو اس لیے مارا جا سکتا ہے کہ ان کو جینے کا بنیادی حق نہیں ہے ۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مودی حکومت کے 4 سال کو لنچ راج کہا ہے۔آج تک کی ایک خبر کے مطابق ؛ پولیس نے لاش کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور گائے کو گئو شالہ بھیج دیا ہے۔میڈیکل بورڈ سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا۔
Cow in India has a Fundamental Right to Life under Art 21 & a Muslim can be killed for they have no Fundamental right to LIFE
Four years of Modi rule – LYNCH RAJ https://t.co/IZuQSPY56F— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) July 21, 2018
غور طلب ہے کہ 2017کےاپریل کی پہلی تاریخ کو راجستھان کے باشندہ پہلو خان پر 200مسلح لوگوں نے حملہ کیاتھا،جس کی وجہ سے حملے کے دو دن بعد ان کی موت ہوگئی تھی۔یہ لوگ مبینہ طور پر گئو رکشک تھےاور پہلو پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ گئو کشی میں شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ پارلیامنٹ کو بھیڑ کے ذریعے پیٹ پیٹ کر قتل کر دینے کے معاملے میں مؤثر طریقے سے نیا قانون بنانے پر غور کر نا چاہیے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ؛ماب لنچنگ کی ان خوفناک کارروائیوں کو نیا چلن نہیں بننے دیا جاسکتا۔واضح ہو کہ گئورکشا کے نام پر ملک کے الگ الگ حصوں میں ہوئے قتل پرکورٹ نےگائیڈلائنس جاری کیا ہے۔کورٹ نے بہت صاف طور پر کہا کہ ماب لنچنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
Categories: خبریں