خبریں

’وزیراعظم پارلیامنٹ ہاؤس کے افتتاح کو اپنی ’تاجپوشی‘ سمجھ رہے ہیں‘

کانگریس سمیت تقریباً 21  اپوزیشن جماعتوں نے پارلیامنٹ کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم مودی کو ‘خود پسند تانا شاہ’ قرار دیتے ہوئے ‘جمہوریت  کو بادشاہت کی طرف لے جانے’ کا الزام لگایا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھااسپیکر اوم برلا نئےپارلیامنٹ ہاؤس میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/ @SanjayAzadSln)

وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھااسپیکر اوم برلا نئےپارلیامنٹ ہاؤس میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/ @SanjayAzadSln)

نئی دہلی: اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعےپارلیامنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیے جانے کے بعد کہا کہ  صدر دروپدی مرمو کو اس تاریخی تقریب سے دور رکھا گیا،جو بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے دلت، آدی واسی  اور پسماندہ برادری کےمخالف رخ کی عکاسی کرتا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ٹوئٹر پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے نئے پارلیامنٹ ہاؤس کے افتتاح کے دن تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کی فہرست پیش کی۔

کانگریس کے سینئر رہنما رمیش نے ٹوئٹ کیا،’28 مئی کو آج کے دن : نہرو، جنہوں نے ہندوستان میں پارلیامانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سب سے زیادہ کام کیا،1964 میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں تھیں۔’

رمیش نے کہا، ساورکر، جن کے نظریے نے وہ ماحول بنایا جس کی وجہ سے مہاتما گاندھی کا قتل ہوا، ان کی  پیدائش 1883 میں (آج ہی کےدن) ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ صدر، جو اس عہدے پر بیٹھنے والی پہلی آدی واسی  ہیں، کو ان کی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کرنے دی جا رہی۔

رمیش نے الزام لگایا،ایک خودپسند تانا شاہ  وزیر اعظم، جو پارلیامانی اصولوں سے نفرت کرتا ہے، جو شاذ و نادر ہی پارلیامنٹ میں آتے ہیں یا کارروائی میں حصہ لیتے ہیں،وہ  2023 میں نئے پارلیامنٹ ہاؤس کا افتتاح کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

وہیں، کانگریس لیڈر اور ایم پی کے سی وینوگوپال نے افتتاح کے لیے ہندوستان کے سابق اور موجودہ صدور کو مدعو نہ کرنے پر مرکز اور وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنایا۔

ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا، نئے پارلیامنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے اس وقت کے معزز صدر رام ناتھ کووند کو دور رکھا گیا تھا۔ صدر دروپدی مرمو کو اس کے افتتاح کے وقت نظر انداز کیا گیا۔

وینوگوپال نے کہا کہ یہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی اشرافیہ  ذہنیت کی عکاسی کرتا  ہے،  جس کی وجہ سے پچھڑوں کو اس اعزاز سے محروم کیا جا رہا ہے۔

کانگریس لیڈر نے ٹوئٹر پر لکھا، جان بوجھ کر ان کا بائیکاٹ ظاہر کرتا ہے کہ پی ایم مودی انہیں اپنی انتخابی سیاست کی علامت کے طور پر استعمال کریں گے، لیکن انہیں ایسے اہم اور تاریخی مواقع کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔

 پارلیامنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم پارلیامنٹ ہاؤس کے افتتاح کو ‘تاجپوشی’ سمجھ  رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا اور کہا، ‘پارلیامنٹ عوام کی آواز ہے! وزیراعظم پارلیامنٹ ہاؤس کے افتتاح کو تاجپوشی سمجھ  رہے ہیں۔

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے اتوار کو کہا کہ انہیں (وزیر اعظم)یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ عوام کی آواز سے چلتی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا، ‘صدر سے نئی پارلیامنٹ کے افتتاح کا حق چھین لیا گیا، خواتین کھلاڑیوں کو سڑکوں پر پیٹا گیا! بی جے پی-آر ایس ایس حکمرانوں کے 3 جھوٹ اب ملک کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

کھڑگے نے کہا، ‘جمہوریت، قوم پرستی، بیٹی بچاؤ، یاد رہے مودی جی، جمہوریت صرف عمارتوں سے نہیں چلتی، عوام کی آواز سے چلتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھااسپیکر اوم برلا نئے پارلیامنٹ ہاؤس کا افتتاح کرتے ہوئے۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@narendramodi)

وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھااسپیکر اوم برلا نئے پارلیامنٹ ہاؤس کا افتتاح کرتے ہوئے۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@narendramodi)

وہیں، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے مرکزی حکومت سے گزارش کی کہ وہ ‘عظیم پارلیامانی جمہوریت کو کمزور کرنا بند کرے’۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ ڈیرک اوبرائن نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح  کرنا ان کی ‘نرگسیت’ کو دکھاتا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرائن نے بی جے پی حکومت کے نو سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اب جبکہ وزیر اعظم مودی کا ‘آئی اونلی لو مائی سیلف ڈے’ ختم ہو گیا ہے، توآئیے انہیں یاد دلائیں کہ انہوں نے اور ان کی حکومت نے گزشتہ نو سالوں میں کس طرح پارلیامنٹ کا مذاق اڑایا اور اس کی توہین کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیامنٹ میں ‘زیرو’ سوالات کے جوابات دیے ہیں اور پارلیامانی کمیٹیوں کے ذریعے جانچ پڑتال کے لیے بلوں کی تعداد پہلے کے10بلوں سے گھٹ کر سات اور اب 10 بلوں میں سے صرف ایک ہو گئی ہے۔

ٹی ایم سی لیڈر نے کہا، ‘مودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کی تعداد پہلے کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پارلیامنٹ کے آٹھ اجلاس مقررہ تاریخ سے پہلے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ چار سال ہوچکے ہیں لیکن لوک سبھا میں ابھی تک کوئی ڈپٹی اسپیکر نہیں ہے۔

وہیں، این سی پی سربراہ شرد پوار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ افتتاحی تقریب کا حصہ نہیں ہیں۔

پوار نے میڈیا سے کہا،  مجھے خوشی ہے کہ میں وہاں نہیں گیا۔ وہاں جو کچھ ہوا، میں  اس کو دیکھ کر فکرمند ہوں ۔ کیا ہم ملک کو پیچھے کی طرف لے جا رہے ہیں؟ کیا یہ پروگرام صرف چند لوگوں کے لیے  ہی تھا؟

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ایم پی ونئے وشوم نے کہا کہ شروعات سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ پارلیامنٹ میں کیا ہونے والا ہے۔ سفاک  فسطائی  آمریت اپنے راستے پر آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا، ‘سینگول کو سلام، پہلوان لڑکیوں کومات! یہ شروعات نئی پارلیامنٹ کے کورس کی گواہی دیتی ہے۔ سفاک فسطائی  آمریت اپنا راستہ دکھاتی ہے۔ جب وزیر اعظم ساورکر کے سامنے جھک گئے تو ملک کو ان کی رحم کی درخواستیں یاد آئیں۔ وہ نئی پارلیامنٹ کو اڈانی اور ایف ڈی آئی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے جنرل سکریٹری  سیتارام یچوری نے سلسلہ وار ٹوئٹ میں الزام لگایا کہ افتتاحی تقریب ‘نئے بھارت’ کے اعلان کے ساتھ زبردست پروپیگنڈے کے درمیان منعقد کی گئی۔

سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے ٹوئٹ کیا، دہلی میں خواتین پہلوانوں اور مہیلا سمان پنچایت میں جمع ہونے والے دیگر شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا جارہا ہے، جبکہ پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کسی بادشاہ کی تاجپوشی جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایک طرف جمہوریت پر وحشیانہ حملہ ہو رہا ہے، اور دوسری طرف آئین کی روح اور نظریے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔’

وہیں عام آدمی پارٹی (آپ) کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ اس پروگرام میں صدر کو مدعو نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کی ذہنیت ہمیشہ دلت مخالف اور آدی واسی  مخالف رہی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ تمام لوگ معزز اور قابل احترام ہیں، انہیں بلایا گیا  تو ہماری عزت مآب صدر کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ بات صرف یہ ہے کہ مودی جی آدی واسی  اور دلت سماج کو اچھوت سمجھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے زبردستی اپنی ذات کو پسماندہ طبقے میں شامل کیا، لیکن ذہنیت نہیں بدلی۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی منوج جھا نے کہا، ‘آج لوک شاہی سے راج شاہی تک اس عظیم ملک کولے جانے کا میرا خواب پورا ہو ا… ہمارے وزیر اعظم کچھ اسی طرح کے جذبات سے لبریز ہوں گے۔ جئے ہند۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے اتوار کو پارلیامنٹ کی نئی عمارت کے فن تعمیر کا ایک تابوت سے موازنہ کیا، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عوام آر جے ڈی کو ایسے ہی تابوت میں دفن کر دیں گے۔

جیسے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیامنٹ ہاؤس کا افتتاح کیا، بہار کی حکمراں جماعت آر جے ڈی نے ایک تابوت اور پارلیامنٹ کی نئی عمارت کو ساتھ دکھاتے ہوئے  ٹوئٹ کیا اور پوچھا، ‘یہ کیا ہے؟’

قابل ذکر ہے کہ کانگریس سمیت تقریباً21 اپوزیشن جماعتوں نے پارلیامنٹ کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح وزیر اعظم نہیں بلکہ صدر کو کرنا چاہیے تھا۔