Author Archives

افتخار گیلانی

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح رہداری

یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔

ڈاکٹر منظور عالم: ادارہ سازی اور میراث کی ایک کہانی

ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔

گرین لینڈ: عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا اگلا میدان

حال ہی میں امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز، حتیٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا ردعمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

پنڈت باپ بیٹے کی داستان کشمیریت اور عزیمت

پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔

اسرائیلی جیل میں 45 برس: طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔

کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’

منموہن سنگھ: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

کم لوگوں کو علم ہے کہ منموہن سنگھ نے بڑی سریلی آواز پائی تھی، وہ ‘لگتا نہیں ہے جی میرا’ اور امریتا پریتم کی نظم ‘آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول’ بڑی پرسوز آواز میں گاتے تھے۔ اردو زبان پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اردو ادب اور شاعری کا بھی ستھرا ذوق رکھتے تھے۔

اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین

انٹرویو: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین کے مطابق، فلسطینیوں کی تکلیف دو برس کی نہیں بلکہ 70 برس پر محیط ہے۔ اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے، اور جب تک یہ بغاوت ختم نہیں ہوتی، نہ فلسطین کو سکون ملے گا اور نہ یہودیوں کو۔

 آسام میں نیلی کا قتل عام اور کشمیر کی سیاست

چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو  2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

استنبول میں غزہ عالمی ٹریبونل کی سماعت

مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔

ظہران ممدانی: دہلی کے بے گھر بچوں کے خواب سے نیویارک تک

ظہران ممدانی ایک نئے عہد کا نمائندہ ہے، جو میل جول سے زیادہ سچائی پر اصرار کرتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو اس کی شناخت کے حوالے سے پہچانیں — ایک مسلمان، افریقی اور جنوبی ایشیائی نژاد۔ ان کا کہنا ہے؛ ہمیں اپنی شناخت چھپانی نہیں چاہیے، بلکہ اُسے عزت دینی چاہیے۔

پاک-افغان استنبول مذاکرات کی کہانی

مسلم دنیا کا کوئی اتحاد جو ناٹو کی طرح طاقتور اور تزویراتی طور پر وسیع تر عوامل کا حامل ہے، وہ بس پاکستان، افغانستان اور ایران کا اتحاد ہوسکتا ہے، جس کو ترکیہ اور وسط ایشاء کی ترک ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اس سے ان سبھی ممالک کو اسٹریٹجک گہرائی بھی حاصل ہوگی اور کسی دشمن کی ہمت  نہیں ہوگی کہ ان میں کسی کو نشانہ بنا سکے۔

کشمیر: بے اختیار عوامی حکومت کے ایک سال

عمر عبداللہ کی حکومت ایک امید کے طور پر شروع ہوئی تھی مگر اب وہ ایک علامت بن گئی ہے — ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ جموں و کشمیر میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مرکز کی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ جمہوریت کا چہرہ زندہ ہے مگر روح خالی ہے۔ اور یہی اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

غزہ: زندگی کی آوازیں لوٹ آئی ہیں — مگر کب تک؟

فلسطینی انتظار کررہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کرپائیں گے؟ جنگیں ملبہ چھوڑتی ہیں، اور گونج بھی۔جنگ بندیاں نہ ملبہ مٹاتی ہیں نہ گونج۔ ماہرین کہتے ہیں یہ امن نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے۔ مگر غزہ کے لیے وقفہ بھی زندگی ہے۔

اسرائیل کی غزہ جنگ کے دو سال: ٹرمپ کا فارمولہ

گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری قتل عام نے جدید تاریخ میں انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہزاروں بچوں کی شہادت، براہِ راست نشر ہونے والے قتل عام، دنیا بھر میں سب سے زیادہ معذور بچوں کی تعداد اور اتنے صحافیوں کی ہلاکت کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت تمام جنگوں کا مجموعہ بھی اس کے برابر نہیں آتا۔

غزہ: موت کے سائے میں صحافت

غزہ کے صحافی وہ چراغ ہیں، جو شبِ سیاہ میں بجھا دیے جا رہے ہیں۔ مگر انہی کی قربانیوں نے غزہ کی کہانی کو دنیا تک پہنچایا ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو دنیا اندھی ہو جائے۔ تاریخ ان کے خون کو سطر سطر لکھے گی اور آنے والی نسلیں جانیں گی کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی کچھ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سچ کا چراغ جلاتے رہے۔

لداخ: جو کبھی متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان اور وسط ایشیا کی ایک اہم گزر گاہ تھا…

افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔

غزہ جغرافیہ نہیں، ایک چیخ ہے

رفح کراسنگ سے ایک رپورٹ: غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ رفح کے گیٹ پر کھڑی خوراک انسانیت کے مردہ ضمیر پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

سیلابی ریلے: آبادی کی ضروریات اور ماحولیات میں توازن

سال 2014کے سیلاب کے بعد وزیراعظم  نریندر مودی نے 80 ہزار کروڑ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کی ڈریجنگ اور پشتوں کی مضبوطی کا کام ہونا تھا۔ مگر ایک آرٹی آئی کے مطابق،ایک دہائی کے بعد بھی 31 میں سے صرف 16 منصوبے مکمل ہو پائے ہیں۔یعنی 2014 کے سیلاب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات: ہندوستانی خارجہ پالیسی کا مکمل یو ٹرن

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے ہندوستانی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو  ‘اسٹریٹجک چابک دستی’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ  اس چابک دستی کو ہندوستان کی مجبوری گر دانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔

غزہ: ’برادر … میں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا‘

آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔

کتابوں پر پابندی یا سوچ پر پہرے

اس پابندی کو  ایک بڑے بیانیہ کا حصہ سمجھنا چاہیے۔یہ یاداشتوں کو کھرچنے کا عمل ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے، اگرچہ 2019 کے بعد یہ بے حد بڑھ گیا ہے۔کشمیر کے اخبارات کے آرکائیوز بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں اس خطے پر کیا قیامت برپا ہوگئی، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

کشمیر: آئینی حیثیت کے خاتمے کے پانچ سالوں پر ہندوستان کی مقتدر شخصیات کی رپورٹ

ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

مودی کا جانشین او ر حکمران بی جے پی کا اگلا صدر کون؟

 سنگھ کو لگتا ہے کہ مودی کے بعد ایک تو اقتدار کی کشمکش  امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان ہوگی، دوسری طرف کسی سنجیدہ طاقتورلیڈرشپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کانگریس سے بھی بری حالت ہو جائےگی،جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔

ترکیہ میں پندرہ جولائی کی اہمیت

پندرہ جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک گروہ نے سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک منظم مگر ناکام کوشش کی تھی۔یوں اس بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، جن میں کم از کم 40,000 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ان میں 10,000 سے زائد فوجی اور 2,745 جج شامل تھے۔

اسرائیل کا جوہری پروگرام: پردہ اٹھانے کی ضرورت

اگرچہ اسرائیل نے سخت رازداری قائم رکھی ہے، تاہم جوہری ماہرین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اسرائیل ایک جوہری طاقت ہے۔ مگر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں، حکمت عملیاں اور خطرے کی حدود اب بھی اندھیرے میں چھپی ہیں۔یہ ابہام ایک طرف دشمنوں کو باز رکھنے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف کھلے اعتراف سے بچنے کا طریقہ ہے۔

ڈرائنگ رومز اور وہاٹس ایپ جرنیلوں کے نام

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے  ڈرائنگ رومز کو جنگی ہیڈکوارٹر کے بجائے امن کے مراکز میں بدلیں۔ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، ذہنوں سے بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر ہم صرف نفرت، افواہوں اور پوائنٹ اسکورنگ میں الجھے رہے، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے فلمی اور اصلی جنگ کا فرق بھول جائیں گے۔

ہندوپاک کشیدگی کے درمیان ’بائیکاٹ ترکیہ‘ کا مطلب کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ترکیہ کے ساتھ تجارتی بائیکاٹ کا شاید ہی کوئی اثر ترکیہ پر پڑے گا۔ کیونکہ ترکیہ کی کل درآمدات میں ہندوستان کا حصہ صرف 0.2 فیصد ہے۔اسی طرح ہندوستان سے ترکیہ جانے والے سیاح کل سیاحوں کا صرف 0.6 فیصد ہیں۔