ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
یوم آزادی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سیندورکی کامیابی،نئی سیکورٹی پالیسی، آتم نربھر بھارت، روزگار اسکیم، جی ایس ٹی اصلاحات اور سدرشن چکر مشن کا اعلان کیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے، دراندازی، آبادیاتی تبدیلی اور ایمرجنسی پر کڑی تنقید کی۔