امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیرینہ ’دوست‘ رہے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور مفادات کے ساتھ ’غداری‘ کے مترادف ہے۔
امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لال چوک پر ہزاروں افراد اکٹھا ہوئے، کالے جھنڈے لہرائے گئے اور بند کی اپیل کی گئی۔ یہ ردعمل ایران اور کشمیر کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ہندوستان نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وہیں، متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی اور جلد از جلد دشمنی ختم کرنے کی اپیل کی۔
دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
یوم آزادی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سیندورکی کامیابی،نئی سیکورٹی پالیسی، آتم نربھر بھارت، روزگار اسکیم، جی ایس ٹی اصلاحات اور سدرشن چکر مشن کا اعلان کیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے، دراندازی، آبادیاتی تبدیلی اور ایمرجنسی پر کڑی تنقید کی۔