لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘ کہ کیا وہ عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موضوع پر خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں اترنے کے اپنے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس سے امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے واضح اور بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
یوم آزادی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سیندورکی کامیابی،نئی سیکورٹی پالیسی، آتم نربھر بھارت، روزگار اسکیم، جی ایس ٹی اصلاحات اور سدرشن چکر مشن کا اعلان کیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے، دراندازی، آبادیاتی تبدیلی اور ایمرجنسی پر کڑی تنقید کی۔