ہمارے ’عظیم ‘ کھلاڑی مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟

ہمارے عظیم کھلاڑیوں کو عوام سرآنکھوں پر بٹھاتی ہے، مگر عوام پر جب ایسا کوئی برا وقت آتا ہےجس کے لئے حکومت یا سماج کا ایک طبقہ ذمہ دار ہو تو وہ ایسے غائب ہو جاتے ہیں، گویا اس دنیا میں رہتے نہ ہوں۔

حکومت کے پاس سال 2016 کے بعد کسانوں کی خودکشی کا کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں

زراعت کے ریاستی وزیرنے بتایا کہ زراعتی قرض کی وجہ سے کسانوں کی خودکشی کے بارے میں سال 2016 کے بعد سے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے، کیونکہ وزارات داخلہ نے ابھی تک اس کے بارے میں رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔

عرب نامہ : دنیاتیسری عالمی جنگ کی طرف،مغرب اور روس کے درمیان سرد جنگ کاماحول؟

ٹیلرسن کے ہٹائے جانے پر بہت سے روزناموں اور اخبارات نے اپنے تاثرات لکھے ہیں، کچھ اخبارات نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس قدم کو سراہا ہے کیوں کہ ٹرمپ اور ٹیلرسن کی رائے ایران نیوکلیر پروگرام اور قطر کی پابندی پر مختلف تھی ۔

گجرات : آرمس ٹریننگ اور ترشول دیکشا جیسے پروگرام پر پابندی کا مطالبہ

آرمس ٹریننگ اور ترشول دیکشا جیسے پروگرام پر حکومت فوری طور پر پابندی کے علاوہ اس کا نفرنس میں سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل، ریاستی مائنورٹی کمیشن کا قیام اور The Minorities (Prevention Of Atrocities) Act بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

ارریہ : کیا ہے ’پاکستان زندہ باد‘ والے وائرل ویڈیو کا سچ؟

اگر آپ ویڈیو سنیں تو آپ کو پس منظر میں ایک گاڑی کی آواز سنائی دے‌گی، جو ٹکٹک گاڑی کی آواز لگتی ہے۔  بیک گراؤنڈ میں شور بھرا ہلچل بھی ہے۔  لیکن جب قابل اعتراض نعرے کی آواز سنائی دیتی ہے تب شور سنائی نہیں دیتا ہے جو […]

کھیل کی دنیا : 40 کے بعد بھی وسیم کا جلوہ برقرار،اذلان شاہ کپ میں ہندوستان کی ناکامی

ہندوستان کے تیز گیند باز محمد سمیع کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔بیوی کے ذریعہ کئی طرح کے الزامات لگائے جانے کے بعدحالانکہ انہیں مہندر سنگھ دھونی کا سہارا ملا جنہوں نے سمیع کو ایک نیک انسان بتایا ہے مگر اب اس سارے معاملے کی جانچ اینٹی کرپشن یونٹ کو سونپے جانے کے بعد وہ مزید پریشانیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

جب گورکھپور ضمنی انتخاب میں ہار گئے تھے وزیر اعلیٰ، چھوڑنا پڑا تھا عہدہ

گورکھ پور میں حکمراں جماعت کے ضمنی انتخاب میں ہارنے کی کہانی نئی نہیں ہے۔اس انتخاب میں وزیراعلیٰ رہتے ہوئے تربھون نارائن سنگھ عرف ٹی این سنگھ انتخاب میں اترے اور ان کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسٹیفن ہاکنگ: اپنی معذوری کو شکست دینے والا سائنٹسٹ

اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں۔اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں۔اگرمیں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضا سلامت ہی، جو چل سکتے ہیں اور جودونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے،جوکھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں؟