مسلم

مسلم ریزرویشن کو لے کر  مراٹھوں کا رویہ سوتیلا کیوں؟

ریاست میں ہرکوئی مراٹھا ریزرویشن کی بات کر رہا ہے۔ فڈنویس حکومت نے مراٹھا ریزرویشن پر صلاح مشورہ کرنے کے لئے کئی کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ لیکن کسی بھی ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو دئےریزرویشن کی بات نہیں کی ۔ یہاں تک کہ 2015 میں مسلم ریزرویشن کو لےکر مارچ کا انعقاد کرنے والے امتیاز جلیل بھی اس بار اپنی مانگ قانون ساز مجلس کی میز پر پوری طاقت کے ساتھ نہیں رکھ پائے۔

بہار :فساد متاثرہ دکانداروں کو کیوں لگ رہا ہے کہ نتیش حکومت ان کو ٹھگ رہی ہے؟ 

گراؤنڈ رپورٹ :بہار کے اورنگ آباد میں مارچ میں رام نومی کے وقت ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی دکانوں میں لوٹ پاٹ کرکے آگ لگا دی گئی تھی۔اس وقت نتیش حکومت نے متاثر دکانداروں کو معاوضہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن چار مہینے کے بعد بھی زیادہ تر دکانداروں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔

گجرات: ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ مسلمانوں کے خلاف تفریق کا نیا ہتھیار بن گیا ہے

ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ لانے کا مقصد مجبوراً فروخت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے وقت ہونے والی بین مذہبی خرید و فروخت کو روکنا تھا لیکن گجرات میں گزشتہ 3 دہائیوں سے اس کا استعمال مسلمانوں کو ملی جلی آبادی سے باہر نکالنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

یہ چپی میڈیا نہیں،پپی میڈیا ہے، جو حکومت کے پھینکےگئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے

ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں بولنا پڑتا ہے۔ چپی توڑنی پڑتی ہے۔ ٹوکنا پڑتا ہے ان کو بھی جو جھوٹ بول رہے ہیں اور ساتھ دینا پڑتا ہے ان کا جو سچ بول رہے ہیں۔ اب وقت ہے ان کو ٹوکنے کا، جنہوں نے کروڑوں روپیوں میں ہمارا اعتماد بیچ دیا ہے۔ کوبراپوسٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے، یہ چپی میڈیا نہیں ہے ‘ پپی میڈیا ‘ ہے، جو حکومت کے پھینکے گئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔

کیا وزیر اعظم کے رمضان والے ٹوئٹ میں یہ پیغام ہے کہ اردو دراصل مسلمانوں کی زبان ہے؟

کیا وزیر اعظم اتنے معصوم ہیں، کیا انھیں نہیں معلوم کہ ان کا یہ ٹوئٹ عوام میں ایک پیغام دے گا؟ نریندر مودی نے اپنا کام کر دیا ہے، اب آپ بھلے ہی یہ راگ الاپتے رہیے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔

گڑگاؤں معاملہ : ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا،’پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملے میں اضافہ ہوا ہے‘

ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نماز اس کے طےشدہ مقام پر پڑھی جائے، نہ کہ عوامی مقامات پر۔

’سنگھ،وی ایچ پی جیسی تنظیموں کی وجہ سے ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں کی حالت خراب‘

امریکی حکومت کے ذریعے قائم کیے گئے ایک کمیشن نے عالمی مذہبی آزادی پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں جاری بھگواکرن مہم کے شکار مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور دلت ہندو ہیں۔

ہر درد کی دوا—بھارت ماتا کی جے

انڈین نیشنل ازم:اگر آپ کو ڈر نہیں لگتا تو اس کا مطلب آپ ہوش میں نہیں ہیں…میں چاہتا ہوں کہ آپ ڈریں۔ جس دن ڈر سما جائے گا، آپ کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے۔ اور تب آپ بول اٹھیں گے۔ ہم سب بول اٹھیں گے۔

آٹھ سالہ بچی کے ساتھ وحشیانہ حرکت یہ دکھاتی ہے کہ ہم کمینگی کی کن گہرائیوں میں ڈوب چکے ہیں

وزیر اعظم کے نام لکھے ایک خط میں ریٹائرڈ نوکرشاہوں نے کہا کہ یہ خط صرف اجتماعی شرم یا اپنی تکلیف کو آواز دینے کے لئے نہیں بلکہ سماجی زندگی میں زبردستی شامل کر دی گئی نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کے خلاف لکھا گیا ہے۔

این سی ای آر ٹی نے اپنی کتاب میں گجرات مسلم مخالف فسادات سے’مسلم مخالف‘لفظ  ہٹایا

12ویں کلاس کیپالیٹکل سائنس کی کتاب کے پچھلے ایڈیشن میں ‘ فروریا ور مارچ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا ‘، لکھا تھا۔ اب اس میں سے مسلم لفظ ہٹاکر ‘ گجرات میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا ‘ کر دیا گیا ہے۔

بک ریویو : مسلم نوجوان کے کرب ، بے چینی اور گھٹن کی ایک آواز

سیاست اور میڈیا کی ملی بھگت نے اپنی چالاکی سحر بیانی اور منصوبہ بندی سے ایک مشکوک انکاؤنٹر کو اکثریتی عوام کے ذہن کا مستقل اور طبعی حصہ بنا دیا ہے۔اس کتاب نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس اور میڈیا کی کہانی پر بڑی ہی ماہرانہ انداز میں کئی پیشہ ورانہ سوالات کھڑے کئے ہیں۔مصنف نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر نیشنل میڈیا کی متعصبانہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ کے مد نظر بایو سائنس کے کیریئر سے صحافت کی طرف رخ کیا۔

کیا ضمنی انتخابات کے نتائج دلت مسلم اتحاد کی آہٹ ہیں؟

آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر ہندو قوم پرست آخری ترپ کا پتا یعنی نیشنلزم پر بحث کروا کر، پاکستان کا حوا کھڑا کرکے اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول کو گر م رکھ کر ہندوؤں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔

جرمنی : ایک اور مسجد پر حملہ

جرمن حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گزشتہ برس اس یورپی ملک میں مسلمان مردوں، خواتین اور مساجد پر قریب ایک ہزار حملے کیے گئے جبکہ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

انکت سکسینہ معاملہ:کیا آنرکلنگ میں مذہب کارول دال میں نمک کےبرابر ہے؟

انکت کے والد کو ہمارا سلام۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر انکت کے والد نے اپیل نہ کی ہوتی تو آج دہلی کاس گنج میں تبدیل ہو چکی ہوتی۔انہوں نے در اصل ہندوستا ن کی روح کو مجروح ہونے سے بچا یا ہے۔ انکت کی […]