نریندر مودی

Residents ride on bike past election campaign signs along a road in Lahore

پاکستانی عام انتخابات کے نتائج سے ہند و پاک تعلقات کا کیا رشتہ ہے؟

مودی اور شریف میں ایک وصف مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں نے پوری سیاست کو اپنی انانیت اور ہرچیز کو اپنی ذات کے گرد محصور کرکے، ذاتی وفاداری کو اہمیت دےکر اور فیصلوں میں من مرضی پر اڑکر، پارٹی کی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

علامتی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹوں کی ڈھلائی میں 29.41 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، ایئر فورس نے بھیجا بل

آر ٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق؛ نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹوں کو ملک کے مختلف حصوں میں پہنچانے کے لئےانڈین ایئر فورس کے ہوائی جہاز سی-17 اور سی-130 جے سپر ہرکیولس کا استعمال کیا گیا تھا۔

فوٹو: راج کمل پرکاشن

مودی راج میں دلت اور آدیواسی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے: امرتیہ سین

نوبل ایوارڈ یافتہ ماہر اقتصادیات نے اپنی کتاب An Uncertain Glory : India And Its Contradictions کے ہندی ایڈیشن کے اجرا کے موقع پر کہا کہ سرکار نے عدم مساوات اور کاسٹ سسٹم کے مدعوں کو نظر انداز کیا ہے۔ایس سی ایس ٹی کے لوگوں کو الگ رکھا جا رہا ہے۔

fake 1

کرن ری جیجو کا ٹوئٹ ، مہیش ہیگڑے کا دعویٰ، ارندھتی رائےاوراجیت ڈوبھال کے خطوط کا سچ

فیک نیوز :ارندھتی رائے نے نیشنل سیکورٹی کونسل کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اس بات پر فکر ظاہر کی تھی کہISIS اور لشکر طیبہ کے جو دہشت گرد گرفتار کئے جاتے ہیں ان کو ہندوستانی جیلوں میں بہت تکلیف دی جا رہی ہے۔

ModiErdogan_PTI

کیا ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اورترکی صدر طیب اردگان کا موازنہ درست ہے؟

بعض لوگوں کو یہ موازنہ کچھ عجیب لگ سکتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ دونوں ہی اپنے اپنے ملک میں مذہب کی بنیاد پر بنی پارٹیوں کے پروردہ ہیں۔ دونوں کا عروج لبرل اور سیکولر طاقتوں کے زوال کے ساتھ ہوا ہے۔

Modi_Kabir_YouTube

مگہر میں کبیر کے بہانے وزیر اعظم مودی کا اپوزیشن پر زبردست حملہ

وزیر اعظم مودی نے ایس پی ، بی ایس پی اور کانگریس پر حملہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب سے یوگی کی حکومت آئی، اس کے بعد اتر پردیش میں غریبوں کے لئے ریکارڈ گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ کبیر نے ساری زندگی اصولوں پر توجہ دی ۔

نریندر مودی اور نتیش کمار۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیابہار میں بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے؟

بہار میں ان دنوں رونما ہو رہے سیاسی واقعات بتا رہے ہیں کہ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان 2013 کے پہلے جیسا تال میل تھا، ویسا اب نہیں رہا اور اس بار بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کی عمر بھی بہت لمبی نہیں رہنے والی ہے۔

shujaat-bukhari-facebook

ہم نے کئی بار ساتھ میں موت کو دھوکہ دیا ، مگر آخر میں وہ اکیلا چلا گیا…

شجاعت کے ساتھ میری دوستی کا سفر غالباً 1988 میں گورنمنٹ کالج سوپور سے شروع ہوا۔ جرنلزم اور سماجی سرگرمیاں تو انکی روح میں تھیں۔کالج میں ہی اسنے ایک’پیرراڈایز رائٹرز فورم ‘تشکیل دی تھی جس کی نشستیں کالج کے سبزہ زار میں چنار کے پیڑوں کے تلے ہوتی تھیں۔

نریندر مودی/ (فوٹو بشکریہ : پی آئی بی)

کیا ایمرجنسی کو دوہرانے کا خطرہ اب بھی بنا ہوا ہے؟

ایمرجنسی کوئی ناگہانی واقعہ نہیں بلکہ اقتدار کی بےانتہا مرکزیت، جابرانہ رویہ ، شخصیت پرستی اور چاپلوسی کے بڑھتے رجحان کا ہی نتیجہ تھا۔ آج پھر ویسا ہی نظارہ دکھ رہا ہے۔ سارے اہم فیصلے پارلیامانی کمیٹی تو کیا، مرکزی کابینہ کاؤنسل کی بھی عام رائے سے نہیں کئے جاتے، صرف اور صرف پی ایم او اور وزیر اعظم کی چلتی ہے۔

Rahul_Modi

کیا مودی سرکار راہل کو اندرا گاندھی کی طرح اپنی اہلیت دکھانے کا موقعہ دینے جا رہی ہے؟

راہل کا اپنی سیاسی مہم میں مذہب کی آمیزش کرنا دقتیں پیدا کرنے جیسا اور نہرو کے سیکولرزم کے تصور کے خلاف ہے۔ جواہر لعل نہرو کا سیکولرزم کے متعلق پختہ اور واضح عقیدہ تھا کہ مذہب کو سیاست، معیشت، سماجی اور تہذیبی عوامل سے الگ رکھا جائے۔

دہرادون میں یوگ دیوس پر یوگ کرتے وزیراعظم /فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: سچائی کو چھپانے کے لئے یوگ کا پروپیگنڈہ…

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) کہتا ہے کہ 1000 کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے لیکن ہندوستان میں 11082 کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہے۔ مطلب 10000 کی آبادی کے لئے کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ ملک میں 5 لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ ایمس جیسے اداروں میں پڑھانے والے ڈاکٹر اساتذہ کی 70 فیصدی کمی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپریل 2017 میں جموں  سری نگر ہائی وے پر چینانی اور ناشری کے بیچ  ملک کی سب سے بڑی سڑک سرنگ کا افتتاح کیا تھا۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

اگر نوٹ بندی کی وجہ سے کشمیر میں دہشت گردی ختم ہوگئی تھی تو اتحاد کیوں ٹوٹا؟

وزیر اعظم درجنوں بار کشمیر جا چکے ہیں۔ وہ جب بھی گئے اسکیموں اور وکاس پر بات کرتے رہے جیسے کشمیر کا مسئلہ سڑک اور فلائی اوور کا ہے۔ کشمیر مسئلے کو انہوں نے سولر پاور پلانٹ اور ہائیڈرو پلانٹ کی سنگ بنیاد تک محدود کر دیا۔ ان کی کشمیر پالیسی کیا ہے، کوئی نہیں جانتا۔

فوٹو: فیس بک

میں بی جے پی کیوں چھوڑ رہا ہوں؟

بی جے پی کے نیشنل جنرل سکریٹری رام مادھو کی ٹیم کا حصہ رہے شیوم شنکر سنگھ کہتے ہیں، ‘ میں 2013 سے بی جے پی کا حمایتی تھا کیونکہ نریندر مودی ملک کے لئے امید کی کرن کی طرح لگتے تھے اور مجھے ان کی وکاس کے نعرے پر اعتماد تھا۔ اب وہ نعرہ اور امید دونوں جا چکے ہیں۔ ‘

علامتی تصویر/فوٹو ؛ مختار عباس نقوی

راہل کے جواب میں نقوی کریں گے تین طلاق متاثرین کے لیے افطار پارٹی

مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ؛ راہل گاندھی سیاسی مفاد کے لیے افطار پارٹی کر رہے ہیں جبکہ میں ضرورت مندلوگوں کے کر رہا ہوں ۔ہم ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کررہے ہیں ۔