علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔
ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال 18 مئی کو اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ معاملہ آپریشن سیندور سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ان کے تبصرے سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن کے بارے میں اب ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اس معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی ہے۔
سپریم کورٹ نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر درج ایف آئی آر معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم کو پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ ایس آئی ٹی خود کو ہی گمراہ کیوں کر رہی ہے، جبکہ اس کی تحقیقات کا دائرہ صرف دو ایف آئی آر تک ہی محدود ہے ۔
محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اس ادارے سےامید کر سکتے ہیں کہ یہ ہارورڈ کی طرح حکومت کے سامنے اٹھ کرکھڑا ہوجائے؟ شاید وہ روایت یہاں نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس بار پھر سے اس ادارے کے آقا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی دے دیں گے۔