Apple

لیک ہوئے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 2019 میں کرناٹک سرکار کو گرانے میں ہو سکتا ہے سرولانس کارول

پیگاسس پروجیکٹ:ریکارڈس دکھاتے ہیں کہ 2019 میں کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس گٹھ بندھن کی سرکار گرنے سے پہلے سابق نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی اور وزیر اعلیٰ سدھارمیا کے پرسنل سکریٹریوں کے فون نمبر کو ممکنہ ہیکنگ کے ٹارگیٹ کےطورپر چنا گیا تھا۔

صحافیوں کی جاسوسی کی پریس اداروں نے مذمت کی، کہا-سرکار کو خود کو بے گناہ ثابت کرنا چاہیے

پریس کلب آف انڈیا،ممبئی پریس کلب اور انڈین ویمن پریس کارپس نے صحافیوں، رہنماؤں اور دوسرے افراد کی جاسوسی کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ دی وائر سمیت 16 میڈیا اداروں کے ذریعے کی گئی تفتیش دکھاتی ہے کہ اسرائیل کے این ایس او گروپ کے پیگاسس اسپائی ویئرکےذریعےآزادصحافیوں،کالم نگاروں،علاقائی میڈیا کےساتھ ہندوستان ٹائمس، دی ہندو، انڈین ایکسپریس، دی وائر، نیوز 18، انڈیا ٹو ڈے، دی پاینیر جیسےقومی میڈیا اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

پیگاسس ٹارگیٹ کی فہرست میں تھے بی جے پی کے وزیر اشونی ویشنو اور پرہلاد پٹیل

پیگاسس پروجیکٹ: سرولانس کی فہرست میں وشو ہندو پریشدرہنما پروین تو گڑیا،مرکزی وزیراسمرتی ایرانی کےسابق اوایس ڈی اور راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کے پرسنل سکریٹری کا نمبر بھی ملا ہے۔

مودی کے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اعتراضات کرنے کے بعد سرولانس کی فہرست میں آئے تھے اشوک لواسا

پیگاسس پروجیکٹ:سابق الیکشن کمشنراشوک لواسا کے فون کی فارنسک جانچ کے بنا یہ بتا پانا ممکن نہیں ہے کہ اس میں کامیابی کے ساتھ پیگاسس اسپائی ویئر ڈالا گیایا نہیں، حالانکہ نگرانی فہرست میں ان کے نمبر کا ہونا یہ دکھاتا ہے کہ ان کے فون میں سیندھ لگانے کا منصوبہ بنایا گیاتھا۔

ہیک ہوا تھا پرشانت کشور کا فون، ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک تھے ممکنہ ٹارگیٹ

پیگاسس پروجیکٹ: پیگاسس اسپائی ویئر کےاستعمال کو لےکرسامنے آیا لیک ڈیٹا اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ ہندوستان میں اس اسپائی ویئرکا استعمال ایک نامعلوم ایجنسی کے ذریعےمقتدرہ بی جے پی کےحریفوں کی سیاسی جانکاری حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں جاسوسی: مودی سرکار کو دینا ہوگا جواب

ویڈیو: دی وائر سمیت16میڈیاداروں کی تفتیش دکھاتی ہے کہ اسرائیل کے این ایس او گروپ کے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے آزاد صحافیوں، کالم نگاروں،علاقائی میڈیا کے ساتھ ہندوستان ٹائمس ، دی ہندو، انڈین ایکسپریس، دی وائر، نیوز 18، انڈیا ٹو ڈے، د ی پاینیر جیسےقومی میڈیا اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس موضوع پر دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے اپار گپتا سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

پیگاسس حملہ: سی جے آئی گگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے کے بعد نشانے پر تھیں متاثرہ خاتون

دی وائر کو حاصل لیک ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سپریم کورٹ کی سابق ملازمہ اور ان کے اہل خانہ کے 11 نمبروں کو ایک نامعلوم سرکاری ایجنسی نے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے ہیکنگ کے ٹارگیٹ کے طورپر منتخب کیا تھا۔

ہندی کے اہم اخبارات نے صحافیوں، سیاست دانوں اور دیگر افراد کی جاسوسی کی خبر کو نہیں دی اہمیت

پیگاسس پروجیکٹ: 40 سے زیادہ صحافیوں،تین بڑے اپوزیشن کے رہنماؤں ، نریندر مودی سرکار کے دو وزراء،عدلیہ سے وابستہ لوگوں، کاروباریوں،سرکاری عہدیداروں ،کارکنان سمیت 300سے زیادہ ہندوستان کی اسرائیل کےایک سرولانس تکنیک سے جاسوسی کرانے کی خبروں کو ملک کے ہندی کے بڑے اخبارات نے یا تو چھاپا نہیں ہے یا اس خبر کو اہمیت نہیں دی ہے۔

پیگاسس حملہ: ایلگار پریشد معاملے میں پہلے سے بچھایا گیا تھا اسپائی ویئر نگرانی کا جال

دی وائر اور دوسرے میڈیاپارٹنرس کے ذریعے ہزاروں ایسےفون نمبروں،جن کی پیگاسس اسپائی ویئر کی جانب سے نگرانی کامنصوبہ بنایا گیاتھا، کےتجزیہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ ان میں کم از کم نو نمبر ان آٹھ کارکنوں، وکیلوں اور ماہرین تعلیم کے ہیں، جنہیں جون 2018 اور اکتوبر 2020 کے بیچ ایلگار پریشد معاملے میں مبینہ رول کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

پیگاسس پروجیکٹ: صحافیوں اور وزیروں کی جاسوسی کے لیے ہوا انہی کے فون کا استعمال

ایک انٹرنیشنل جوائنٹ رپورٹنگ پروجیکٹ نےیہ دکھایا ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر کی کئی حکومتیں دہشت کی حد تک سرولانس کے طریقوں کا استعمال اس طرح سے کر رہی ہیں،جس کاقومی سلامتی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

پیگاسس حملہ: ڈیجیٹل فارنسکس دکھاتے ہیں کہ ایس اے آر گیلانی کا فون ہیک ہوا تھا

نگرانی کے لیےممکنہ نشانے پر‘کمیٹی فار دی ریلیز آف پالیٹکل پرزنرس’بھی تھی، جس سے وابستہ ماہرین تعلیم اور کارکنوں کے فون نمبر بھی پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے ہوئے سرولانس والے ہندوستانی فون نمبروں کی لیک ہوئی فہرست میں شامل ہیں۔

فارنسک ٹیسٹ میں ہوئی  پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کی تصدیق، نشانے پر تھے کئی ہندوستانی صحافی

دی وائرسمیت 16 میڈیا اداروں کے ذریعے کی گئی تفتیش دکھاتی ہے کہ اسرائیل کے این ایس او گروپ کے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعےآزادصحافیوں، کالم نگاروں، علاقائی میڈیا کے ساتھ ہندوستان ٹائمس، دی ہندو، انڈین ایکسپریس، دی وائر، نیوز 18، انڈیا ٹو ڈے، دی پاینیر جیسے قومی میڈیا اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔