ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔
فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور بے صبری کا اظہارہے۔