مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔
زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جب اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔
دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘ کہ کیا وہ عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موضوع پر خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔
سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں اترنے کے اپنے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس سے امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے واضح اور بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لال چوک پر ہزاروں افراد اکٹھا ہوئے، کالے جھنڈے لہرائے گئے اور بند کی اپیل کی گئی۔ یہ ردعمل ایران اور کشمیر کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ہندوستان نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وہیں، متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی اور جلد از جلد دشمنی ختم کرنے کی اپیل کی۔