یہ احساس اب مسلمانوں میں گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔اسی خلا کو اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پُر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔
اس بار بہار میں انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ ووٹنگ 6 اور 11 نومبر کو ہوگی اور گنتی 14 تاریخ کو ہوگی۔ یہ اعلان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے سوموار (6 اکتوبر) کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
یہ درست ہے کہ وقت پرانتخاب کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، مگر جس ریاست میں وبا کا عالم یہ ہو کہ وزیر اعلیٰ ہی تین مہینے باہر نہ نکلیں، وہاں سات کروڑ رائے دہندگان کے ساتھ ایک ماہ تک انتخابی کارروائی کو جاری رکھنابیماری کے خطرے میں اور اضافہ کا باعث ہوسکتا ہے۔
سال کے اواخر میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے اس سیاسی اتھل پتھل سے آر جے ڈی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پانچ ایم ایل سی کے پارٹی چھوڑنے کے بعد 75رکنی ایوان میں آر جے ڈی کے ممبروں کی تعداد محض تین رہ گئی ہے۔ مطلوبہ تعداد کے بغیررابڑی دیوی اپوزیشن لیڈر کی کرسی گنوا سکتی ہیں۔
الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے بتایا کہ بہار انتخاب کو لےکروزارت قانون کے ذریعے الیکشن کمیشن کی تجویز کو منظور کرنے کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق 1961کے ضابطہ27 اے کے تحت کووڈ 19متاثرہ یا متاثرین کا ایک نیا زمرہ بنایا گیا ہے۔