communal hatred

ایس آئی آر کے سلسلے میں ’بیداری پیدا‘ کرنے کی آڑ میں بی جے پی کے ’اسلامو فوبک‘ بول

دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

عید کی پوسٹ پر ٹرولنگ کے بعد گلوکار شان بولے – ہر قوم کی عزت کرنا میری سوچ

عید کی مبارکباد سے متعلق ایک پوسٹ پرنیشنل فلم ایوارڈسے سرفراز گلوکار شان کو ان کے لباس کی وجہ سےنفرت انگیز تبصرے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جواب میں شان نے کہا ہے کہ سب پیار سے رہیں اور اس طرح کی پولرائزڈ سوچ نہ رکھیں کیونکہ اس سے صرف نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سوچ کو بدلنا چاہیے اور زیادہ انکلوسیوہونا چاہیے۔

اب ہندوؤں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے

اجتماعی تشدد یا نفرت کے علاوہ بغیرکسی تنظیم کےبھی بہت سے ہندوؤں میں دوسروں کے لیےنفرت ظاہر کرنے کی ہوس فحاشی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ان ہندوؤں میں ایسے ‘باکمال’ خطیبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو کھلے عام تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ خطیبوں کے ساتھ ساتھ ان کے سامعین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

سدبھاونا کپ: فرقہ وارانہ جنون کے دور میں کھیل کے ذریعے نفرت ختم کرنے کی کوشش

پٹنہ کا سمر چیریٹیبل ٹرسٹ گزشتہ چار سالوں سے پنچایتی سطح پر ‘سدبھاونا کپ’ کے نام سے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کا اہتمام کر رہا ہے، جس میں حصہ لینے والی ٹیموں کے لیے پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس کے کھلاڑی سماج کے ہر طبقے اور کمیونٹی سے ہوں۔