Culture

اتراکھنڈ: تین اضلاع میں 15 جگہوں کے نام بدلے، اپوزیشن نے کہا – کام کے بجائے نام بدلنے کا تماشہ

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے تین اضلاع میں 15 مقامات کے نام تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم کا مقصد ان عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرکے لوگوں کو تحریک دینا ہے جنہوں نے’ہندوستانی ثقافت کے تحفظ’ میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایودھیا آج ایک کرو سبھا بن گئی ہے جس کے اسٹیج پر ہندوستانی تہذیب کا چیرہرن ہو رہا ہے

ایودھیا کی سبھا جھوٹ اور ادھرم کی بنیاد پر بنائی گئی ہے، کیونکہ جس کو اس کے درباری سچائی کی جیت کہتے ہیں، وہ دراصل فریب اور زبردستی کی پیداوارہے۔ عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ درباری بھول جاتے ہیں کہ اسی عدالت نے 6 دسمبر کے ایودھیا—کانڈ کو جرم قرار دیا تھا۔

’میرے گھر آکر تو دیکھو‘: ہمارے وقت کی انتہائی ضروری مہم

ماہ آزادی کی مناسبت سے پچھلے ہفتے معروف فلم اداکارہ نندتا داس، رتنا پاٹھک اور چند دیگر افراد نے ‘میرے گھر آ کر تو دیکھو‘ مہم شروع کی ہے، اس کے تحت ایک کمیونٹی کے افراد دوسری کمیونٹی کے افراد کو اپنے گھر دعوت پر بلائیں گے، ایک دوسرے کی ثقافت اور مماثلت کوسمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہ مہم اگلے سال جنوری تک جاری رہے گی، جس میں صرف ہندو، مسلمان یا سکھ ہی نہیں بلکہ خواجہ سرا بھی حصہ لیں گے۔

سمپت پرکاش: کشمیر کی ایک اور تاریخ خاموش ہوگئی

سمپت پرکاش ان گنے چنے کشمیری پنڈتوں میں تھے، جو اکثریتی آبادی کا دکھ درد سمجھتے تھے، اگر ان سے کوئی کشمیری پنڈتوں کی ہلاکت پر سوال کرتا، تو وہ جواب دیتے تھے کہ اگر ایک کشمیری پنڈت مارا گیا تو اس کے مقابل 50کشمیری مسلمان بھی مارے گئے اور ان کے بارے میں کسی کو کوئی تشویش کیوں نہیں ہے؟

برطانیہ کے لیسٹر میں گزشتہ سال ہوئی جھڑپ ’مودی کی ہندو نیشنلسٹ پارٹی‘ نے بھڑکائی تھی: رپورٹ

ٹیبلائڈ ‘ڈیلی میل’ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگست 2022 میں لیسٹر شہر میں بھڑکے دنگوں میں برطانوی ہندوؤں کو مسلم نوجوانوں سے الجھنے کے لیے اکسانے کا شبہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے قریبی عناصر پر ہے۔ اس وقت مسلمانوں اور ان کے گھروں پر حملوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے مندروں اور گھروں پر حملے اور توڑ پھوڑ کی خبریں آئی تھیں۔

ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی مغرب میں پذیرائی

آر ایس ایس، ایچ ایس ایس اور دیگر تنظیمیں اب 48 ممالک میں سرگرم ہیں۔ امریکہ میں ایچ ایس ایس نے 32 ریاستوں میں 222 شاکھائیں قائم کی ہیں۔کیا وقت نہیں آیا ہے کہ مغرب کو بتایا جائے کہ جس فاشزم کو انہوں نے شکست دی تھی، وہ کس طرح ا ن کی چھتر چھایا میں دوبارہ پنپ رہا ہے اور جلد ہی امن عالم کے لیے ایک شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے؟

ملک میں پھیلی فرقہ پرستی کا وائرس اب تارکین وطن تک رسائی حاصل کر چکا ہے

ہندوستانی تارکین وطن کی سیاست اب ہندوستانی صورت حال کا ہی عکس ہے۔ وہی پولرائزیشن، وہی سوشل میڈیا مہم، وہی سیاسی اور سرکاری سرپرستی اور وہی تشدد۔ اختلاف تو دور کی بات ، کسی دوسرےنظریے کو برداشت بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔

’آدی واسیوں کو جتنا انگریزوں نے نہیں مارا، آزادی کے بعد اس سسٹم نے مارا ہے‘

ویڈیو: مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کے ایٹاپلی تعلقہ کے سورج گڑھ میں لوہے کی کان کنی کے منصوبے کو رد کرنے کے مطالبے کو لے کر آدی واسی کئی سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آدی واسیوں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکن اور وکیل لالسو نگوٹی کا کہنا ہے کہ اس ضلع میں اس طرح کے کئی اور کان کنی کے منصوبے مجوزہ ہیں، جوپانی ، جنگلات اور زمین کو تباہ کرنے کے باعث ہوں گے۔

بیرون ملک ہندوستان سے متعلق موضوعات کی تعلیم کے لیے اب اسکالرشپ نہیں دے گی مرکزی حکومت

سماجی انصاف اور محکمہ تفویض اختیارات کے سکریٹری آر سبرامنیم نے کہا کہ وزارتی سطح پر غور وخوض کرنےکے بعدمحسوس کیا گیا کہ بیرون ملک ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور وراثت کا مطالعہ کرنے کے لیے اسکالرشپ کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر پی ایل پونیا نے اسے دلتوں کو اعلیٰ تعلیمی نظام سے راندہ درگاہ کرنے والا قدم بتایا ہے۔

کیا لکھنؤ کی وہ تہذیب آخری ہچکیاں لے رہی ہے، جس نے ہندو-مسلمان کو ایک تار سے جوڑا

کیا معلوم کہ انتخابات کے بعدلکھنؤ برقرار رہتا ہے یانہیں؟ اس کی تہذیب کوفرقہ پرستوں سے شدیدخطرہ لاحق ہے۔اس شہر میں جہاں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ رہتے تھے، اب اپنے مخصوص علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں۔ دیواریں کھنچ رہی ہیں۔ ہندو اب ہندو علاقے میں ہی رہنا پسند کرتا ہے۔ جن مسلمانوں کے مکان ہندو اکثریتی علاقوں میں ہیں، وہ ان کو بیچ کر مسلم محلوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

لداخ: محکمہ ریونیو کی نوکریوں سے اردو جاننے کی لازمی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر تنازعہ

لداخ کے محکمہ ریونیو میں نوکریوں کے لیے اردو زبان کی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ضلع لیہہ اور مسلم اکثریتی کارگل کے بیچ نظریاتی اختلافات پیدا کرنے کے مقصد سےاٹھایاگیافرقہ وارانہ قدم ہے، لیکن اس سے سیاسی فائدہ نہیں ہوگا، بس ایڈمنسٹریشن کی سطح پرمسائل پیدا ہوں گے۔

استادوں کے استاد آغا اشرف علی، جنہوں نے کشمیری مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا

جنوبی ایشیاکے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان کے عطا الرحمان جیسی شخصیات کی صف میں آغا صاحب کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر ی مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کروانے اور خطے کی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اپٹا جو اپنے وقت میں عوام کی آواز تھی،اس کی سانسیں ابھی بھی چل رہی ہیں…

اپٹا کی بناوٹ اور آرائش و زیبائش ہی ایسی تھی کہ اس کے سوشل ڈسکورس میں سیاسی سمجھ کی تہیں ملی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس لئے اپٹا نے کئی سطحوں پر کامیابی حاصل کی لیکن اس کے 75سالہ سفر میں ایسے موڑ بھی آئے جب اس کو اپنے وجود تک کے لئے جدو جہد کرنی پڑی۔

مدیحہ گوہر : حیوانیت کے دور میں انسانیت کی جیتی جاگتی مثال

وہ برقع کی روایت کے خلاف ‘ برقع وگینزا ‘ ڈرامہ کھیل‌کر پاکستان کے شدت پسند ملا او مولوی کے سینے پر مونگ دل رہی تھیں۔ ہائے توبہ مچی تو حکومت نے اس ڈرامے پر پابندی لگا دی لیکن وہ اس کے باوجود یہ ڈرامہ کھیلتی رہیں۔

نیشنل ازم کا نیا تصور آزادی کی لڑائی کے وقت کے  تصور سے میل نہیں کھاتا : پروفیسر مردولا مکھرجی

مؤرخ پروفیسر مردولا مکھرجی نے کہا کہ وہ نیشنلزم سب کو شامل کرنے والی اور کثیر جہتی تھی، جس میں ہر علاقہ، مذہب، فرقہ، ہر زبان کے بولنے والے اور تمام قبائلی گروہ کے لوگ شامل تھے۔

چھٹھ :خیر سگالی کا تہوار

صبح کی اذان سے پہلے پوجا کا سامان سر پر اٹھاکر ہم مسلمانوں کے محلے سے گزرتے تھے،وہ وضو کرتے ہوئے ہماری طرف پیار سےدیکھتے تھے۔ دنیا بھر کی تہذیبیں ندیوں کے کنارےپھلی پھولی ہیں۔ کہاوت ہے بن پانی سب سون۔ مذہب بھی پانی کے بغیر مذہب نہیں […]