اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔
آئینی ترمیمی بل کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سنیچر کو کہا کہ یہ مودی حکومت کی جانب سے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش تھی، جسے ہم نے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اسے جمہوریت کی بہت بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے اور یہ ضروری تھا۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔
لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔
دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت ہندوستان کی آبادی میں اضافے کے بارے میں تشویش میں مبتلا نظر آتی رہی ہے، لیکن اب ایک ڈرامائی موڑ میں مودی حکومت آبادی میں اضافے کو انعام دینے کی سمت میں قدم اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارلیامنٹ میں پیش کیے گئے تین مجوزہ بلوں کی ساخت کے مطابق، حکومت جان بوجھ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش کرے گی۔
جموں و کشمیر میں 2022 میں از سر نو انتخابی حلقوں کی حد بندی کی گئی تھی، جس کے بعد جموں میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 37 سے بڑھ کر 43 ہو گئی تھی۔ تاہم، انتخابی اعداد و شمار کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔
اس شورش زدہ خطے میں سویلین ہلاکتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے خوف و ہراس کے ماحول میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف انسداد دہشت گردی اور بغاوت کو کچلنے کے قوانین کا بے محالہ اور بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پریس شدید دباؤ کا شکار ہے۔
یہ اب تقریباً طے ہوگیا ہے کہ کمیشن نے ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کی ایما پر ہی حد بندی ترتیب دی ہے، تاکہ مسلم آبادی کو سیاسی طور پر بے وزن کیا جائے اور مسلم خطے پر ہندو وزیر اعلیٰ مسلط کراکے اس کو 2024 کے عام انتخابات میں بھنایا جائے۔
کمیشن نے اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی میں آبادی کے بجائے رقبہ کو معیار بنایا ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ چونکہ جموں کا رقبہ26293مربع کلومیٹر، کشمیر کے رقبہ 15940مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، اس لیے اس کی سیٹیں بڑھائی گئیں ہیں۔ اگر یہ معیار واقعی افادیت اور معتبریت رکھتا ہے، تو اس کو پورے ہندوستان میں بھی نافذ کردینا چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اپنا آئین ہے اور مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے آئین میں ترمیم کے بغیر ریاست میں حدبندی نہیں کر سکتی اوریہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ کشمیر کی کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہ ہو۔وہیں لوگوں کا ماننا ہے کہ ، بی جے پی اسمبلی انتخابات سے قبل اس خطے میں اسمبلی حلقوں میں اضافہ کرکے اقتدار میں آنا چاہتی ہے ۔