الیکشن کمیشن نے بہار میں متنازعہ ایس آئی آرکے بعد انتخابی فہرستوں میں شامل غیر ملکی افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں کرایا ہے، لیکن ان مبینہ ‘غیر قانونی تارکین وطن’ کی موجودگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہار انتخابی مہم میں ایک بڑا ایشو بن کر ابھری ہے۔
بہار ایس آئی آر کی فائنل لسٹ جاری کی جا چکی ہے۔ اپوزیشن اس عمل کو لے کر الیکشن کمیشن پر کافی عرصے سے حملہ آور تھا اور اس دوران کئی ایسے سوال بھی تھے جن کے جواب یا توکمیشن کے پاس نہیں تھے یا وہ ان سے بچ رہا تھا۔ اب حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد بھی کئی سوال باقی ہیں، جن پر دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں علی شان جعفری ۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ‘اسپیشل انٹینسو ریویژن’ مکمل کرتے ہوئے حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی ہے۔ 47 لاکھ رائے دہندگان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔کمیشن نے نام ہٹائے جانے کی واضح وجوہات کی جانکاری نہیں دی ہے۔ دستاویزوں کی کمی کی وجہ سے ہٹائے گئے نام، نئے ووٹروں کی تعداد اور غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد جیسی اہم جانکاری بھی نہیں دی گئی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے اتر پردیش کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مہوبہ ضلع میں ایک ہی گھر میں 4,271 ووٹر رجسٹرڈ پائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اتر پردیش میں ‘ووٹ چوری’ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے شروع ہوئی ہے۔
مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے بعد الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ پہلی ڈرافٹ لسٹ میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام نہیں آئے ہیں۔ اس عمل پر پہلے ہی کئی سوال تھے اور اب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ مشق لوگوں کو جوڑنے کے لیے نہیں بلکہ ہٹانے کے لیے ہے۔ آزاد صحافی پونم اگروال اور دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری ۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے بہار میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے بغیر کسی شفافیت کے 65 لاکھ سے زیادہ نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اے ڈی آر کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ بتانے میں ناکام رہا کہ حذف کیے گئے ووٹرز کون تھے – کیا وہ مر چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جارہی اس مہم کے دوران اگر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جاتے ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے اس کیس کی حتمی سماعت کی تاریخ 12 اور 13 اگست طے کی ہے۔
بہار میں جو ہو رہا ہے وہ آج تک ہندوستانی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا۔ آپ نے بھلے ہی پچھلے بیس سالوں میں درجنوں انتخابات میں ووٹ دیا ہو، اب آپ کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔ آپ کی شہریت کا فیصلہ ایک گمنام سرکاری ملازم کرے گا، ایک ایسےعمل کے ذریعے جس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس شہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے متنازعہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر)کے عمل میں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کو قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کرنے کی عدالت کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
ملک کی سرکردہ دلت تنظیموں کی ایک آرگنائزیشن نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدی واسی آرگنائزیشن کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 71فیصد سے زیادہ دلت رائے دہندگان کواسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی وجہ سے اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
بہار کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے کوئی 8 کروڑ بالغ ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے تقریباً 3 کروڑ لوگوں کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، باقی 5 کروڑ لوگوں کو اپنی شہریت کا ثبوت اکٹھا کرنا ہوگا۔ ان میں سے نصف یعنی ڈھائی کروڑ لوگوں کے پاس وہ سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، جو الیکشن کمیشن مانگ رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران اب تک 36 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنےپتے پر نہیں پائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 14 جولائی کو کمیشن نے کہا تھا کہ بہار میں ووٹر لسٹ سے 35,69,435 ناموں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بہار میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد 35.6 لاکھ سے زیادہ ووٹر ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں ،جن کی یا تو موت ہوگئی ہے، یا بہار سے باہر چلے گئے ہیں یا پھر ان کے نام ایک سے زیادہ جگہوں پر درج ہیں۔
بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کی قواعد کیے جانے کے متعلق ‘ذرائع’ نے ریاست میں ‘بڑی تعداد میں’ غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، 2019 میں کمیشن نے پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ووٹر لسٹ میں ‘غیر ملکی شہریوں’ کے نام پچھلے کچھ سالوں میں نہ ہونے کے برابر تھے۔
دہلی میں مردم شماری کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سٹیزن رجسٹر، ووٹر لسٹ اور فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے پیدائش اور موت کا رجسٹریشن ضروری ہے۔