electoral rolls

بہار انتخابات: امت شاہ نے ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کا مسئلہ اٹھایا، لیکن الیکشن کمیشن نے اعداد و شمار دستیاب نہیں کرائے

الیکشن کمیشن نے بہار میں متنازعہ ایس آئی آرکے بعد انتخابی فہرستوں میں شامل غیر ملکی افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں کرایا ہے، لیکن ان مبینہ ‘غیر قانونی تارکین وطن’ کی موجودگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہار انتخابی مہم میں ایک بڑا ایشو بن کر ابھری ہے۔

بہار ایس آئی آر: 68 لاکھ رائے دہندگان کے نام کیوں ہٹائے گئے؟

بہار ایس آئی آر کی فائنل لسٹ جاری کی جا چکی ہے۔ اپوزیشن اس عمل کو لے کر الیکشن کمیشن پر کافی عرصے سے حملہ آور  تھا اور اس دوران کئی ایسے سوال بھی تھے جن کے جواب یا توکمیشن کے پاس نہیں تھے یا وہ ان سے بچ رہا تھا۔ اب حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد بھی کئی سوال باقی ہیں، جن پر دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں علی شان جعفری ۔

کتنے غیر قانونی تارکین وطن؟ بہار ایس آئی آر ختم، لیکن ان پانچ سوالوں کے جواب نہیں ملے

الیکشن کمیشن نے بہار میں ‘اسپیشل انٹینسو ریویژن’ مکمل کرتے ہوئے حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی ہے۔ 47 لاکھ رائے دہندگان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔کمیشن نے نام ہٹائے جانے کی واضح وجوہات کی جانکاری نہیں دی ہے۔ دستاویزوں کی کمی کی وجہ سے ہٹائے گئے نام، نئے ووٹروں کی تعداد اور غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد جیسی اہم جانکاری بھی نہیں دی گئی ہے۔

عآپ ایم پی کا یوپی کی ووٹر لسٹ میں دھاندلی کا دعویٰ، کہا – ایک ہی گھر میں 4,271 ووٹر

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے اتر پردیش کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مہوبہ ضلع میں ایک ہی گھر میں 4,271 ووٹر رجسٹرڈ پائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اتر پردیش میں ‘ووٹ چوری’ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے شروع ہوئی ہے۔

مہاراشٹر: ووٹر لسٹ میں ایک خاتون کا نام چھ بار درج، ای پی آئی سی نمبر الگ

مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔

بہار ایس آئی آر اور شہریت: الیکشن کمیشن کے منشا پر سوال

بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے بعد الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ پہلی ڈرافٹ لسٹ میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام نہیں آئے ہیں۔ اس عمل پر پہلے ہی کئی سوال تھے اور اب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ مشق لوگوں کو جوڑنے کے لیے نہیں بلکہ  ہٹانے کے لیے ہے۔ آزاد صحافی پونم اگروال اور دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری ۔

بہار ایس آئی آر میں 65 لاکھ سے زیادہ رائے دہنگان کے نام حذف کرنے کے الزام پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے بہار میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے بغیر کسی شفافیت کے 65 لاکھ سے زیادہ نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اے ڈی آر کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ بتانے میں ناکام رہا کہ حذف کیے گئے ووٹرز کون تھے – کیا وہ مر چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔

بہار ایس آئی آر: سپریم کورٹ نے کہا – اگر بڑے پیمانے پر لوگ ووٹر لسٹ سے باہر ہوئے تو ہم مداخلت کریں گے

ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جارہی اس مہم کے دوران اگر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جاتے ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے اس کیس کی حتمی سماعت کی تاریخ 12 اور 13 اگست طے کی ہے۔

ووٹر لسٹ رویژن: بہار صرف تجربہ گاہ ہے، آپ کا نمبر بھی آنے والا ہے

بہار میں جو ہو رہا ہے وہ آج تک ہندوستانی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا۔ آپ نے بھلے ہی پچھلے بیس سالوں میں درجنوں انتخابات میں ووٹ دیا  ہو، اب آپ کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔ آپ کی شہریت کا فیصلہ ایک گمنام سرکاری ملازم کرے گا، ایک ایسےعمل کے ذریعے جس کے بارے میں کسی کو کچھ  معلوم نہیں ہے۔

بہار ایس آئی آر: الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا – کمیشن کو شہریت کی جانچ کا اختیار حاصل ہے

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس شہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے متنازعہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر)کے عمل میں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کو قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کرنے کی عدالت کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

بہار ووٹر لسٹ رویژن: 71 فیصد دلت رائے دہندگان کو ہے ووٹ کے حق سے محروم  ہونے کا خدشہ

ملک کی سرکردہ دلت تنظیموں کی ایک آرگنائزیشن نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدی واسی آرگنائزیشن کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 71فیصد سے زیادہ دلت رائے دہندگان کواسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی وجہ سے اپنے  ووٹ کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

بہار ووٹر لسٹ رویژن: غلط فہمیاں اور سچائی

بہار کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے کوئی 8 کروڑ بالغ ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے تقریباً 3 کروڑ لوگوں کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، باقی 5 کروڑ لوگوں کو اپنی شہریت کا ثبوت اکٹھا کرنا ہوگا۔ ان میں سے نصف یعنی ڈھائی کروڑ لوگوں کے پاس وہ سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، جو الیکشن کمیشن مانگ رہا ہے۔

بہار میں ووٹر لسٹ رویژن کے دوران 36 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان اپنے پتے پر نہیں ملے: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران اب تک 36 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنےپتے پر نہیں پائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 14 جولائی کو کمیشن نے کہا تھا کہ بہار میں ووٹر لسٹ سے 35,69,435 ناموں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

بہار: الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ووٹر لسٹ سے 35.6 لاکھ نام باہر ہو جائیں گے

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بہار میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد 35.6 لاکھ سے زیادہ ووٹر ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں ،جن کی  یا تو موت ہوگئی ہے، یا بہار سے باہر چلے گئے ہیں یا پھر ان کے نام ایک سے زیادہ جگہوں پر درج ہیں۔

سال 2019 میں الیکشن کمیشن نے بتایا تھا – ملک بھر میں ووٹر لسٹ میں ’غیر ملکی شہریوں‘ کے تین معاملے ملے

بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کی قواعد کیے جانے کے متعلق ‘ذرائع’ نے ریاست میں ‘بڑی تعداد میں’ غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، 2019 میں کمیشن نے پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ووٹر لسٹ میں ‘غیر ملکی شہریوں’ کے نام پچھلے کچھ سالوں میں نہ ہونے کے برابر تھے۔

برتھ اینڈ ڈیتھ رجسٹر کو ووٹر لسٹ سے لنک کرنے والا بل لائیں گے: وزیر داخلہ

دہلی میں مردم شماری کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سٹیزن رجسٹر، ووٹر لسٹ اور فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے پیدائش اور موت کا رجسٹریشن ضروری ہے۔