ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی، اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔