Gujarat Model

کیوں منی پور کے واقعات مسلسل گجرات فسادات کی یاد دلا رہے ہیں

بے گناہوں کے قتل، خواتین کے ساتھ صریح زیادتیاں، اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بننے کو مجبور لوگ، شرپسندوں کے خلاف قانون کے محافظوں کی سست کارروائی، تشدد کے مذہبی یا فرقہ وارانہ ہونے کے واضح اشارے … ہم واقعات کے سلسلے کو دہراتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، بس درمیان میں ایک طویل وقفہ ہے۔

ترقی کے ’گجرات ماڈل‘ کے مثالی اور کامیاب ہونے کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟

ویڈیو: موسلا دھار بارش کی وجہ سے احمد آباد سے جوناگڑھ تک ناکام ہوئے بنیادی ڈھانچے نے ریاست کے ‘ماڈل’ نظام کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور اس پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ترقی کے اس مبینہ ماڈل میں وہ کون سے مسئلے ہیں جو اسے کامیاب ہونے سے روکتے ہیں؟

فسادات میں خواتین کی بے حرمتی کی داستان

پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ منی پور ویڈیو نے قوم کو شرمسارکر دیا ہے۔ مگر گجرات میں ان کی حکومت کے دوران جو کھیل کھیلا گیا وہ شاید چنگیز و ہلاکو کو بھی شرمسار کرنے کے لیے کافی ہے۔شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ آج کے ہندوستان میں بربریت کا ہر ایک واقعہ گجرات ماڈل کا حصہ ہے۔ لنچنگ، زمینوں پر قبضہ، جمہوریت، تعلیمی اور سائنسی اداروں کو ختم کرنا، میڈیا پر کنٹرول، خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی حملے، آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملے – ان سب کا تجربہ گجرات میں کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن: گجرات ماڈل اپنانے میں چوک گئی کانگریس

صوبائی صدر کو ان کارکنان سے ہمدردی ہے، لیکن پارٹی باہر سے آنے والے بہت سارے لوگوں کی امیدوں کو پورا نہیں کر سکتی۔وہیں ناراض لوگوں سے اب یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں کانگریس کی سرکار بننے پر انہیں مختلف بورڈس اور کارپوریشن میں موقعہ دیا جائے گا۔

گجرات میں آدیواسیوں کو کیوں نہیں ملی اب تک وکاس کی گارنٹی؟

ملک کی دوسرے ریاستوں کی طرح گجرات میں بھی آدیواسیوں کی کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی ہے۔ان کے لیےصرف کام ڈھونڈناہی بڑا مسئلہ نہیں، مناسب مزدوری بھی نہیں ملتی۔ سابرکانٹھا ضلع کے آدیواسی علاقے  پوشینا کے نوجوان اشوک نے اپنے گھر کے باہر کی طرف سڑک کی طرف […]

گجرات کسی بھی طرح کا ماڈل نہیں ہے : جیاں دریج

منریگا کا مسودہ تیار کرنے والے ماہر اقتصادیات دریج نے کہا،’ گجرات ماڈل ‘ نام پچھلے لوک سبھا الیکشن 2014 کے آس پاس گڑھا گیا۔ نئی دہلی: ماہراقتصادیات اور کارکن جیاں دریج نے اتوار کو کہا کہ اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ نام نہاد گجرات […]

مودی جی کے لئے وزیر اعظم ہونا انتخابی دوروں کے درمیان کا ‘انٹرول ‘ ہے

 یہ شاید ملک کی پہلی حکومت ہوگی، جس کے مخالفین کی لسٹ اتنی لمبی ہے-ہندو-مخالف، گئوماتا-مخالف، ملک-مخالف اور اب ترقی-مخالف۔ گجراتی منتخب کر لیں کہ وہ اپنا نام کہاں درج کرانا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ اعلان کےجوش میں خوش وزیر اعظم  بھول گئے کہ وہ دلّی میں […]