Indian Judiciary

بابری مسجد انہدام معاملے کی جانچ کرنے والے جسٹس ایم ایس لبرہان کا انتقال

بابری مسجد انہدام کی جانچ کے لیے بنائےگئے لبرہان کمیشن کے چیئرمین رہے اور ریٹائرڈ جسٹس منموہن سنگھ لبرہان 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ چار دہائیوں پر محیط اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے ہریانہ کے ایڈووکیٹ جنرل کے علاوہ مدراس اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر بھی اہم خدمات انجام دیں۔

رام رحیم کیس سے مودی کے ڈگری معاملے تک: کون ہیں سپریم کورٹ کے پانچ نئے جج

ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو حلف دلایا ہے۔ ان میں چار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک سینئر ایڈوکیٹ شامل ہیں۔ ان تقرریوں کے ساتھ ہی ان کے بعض مشہور فیصلے سرخیوں میں ہیں، جن میں رام رحیم کو بری کرنا، وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری اور ا ازدواجی تشدد سے متعلق معاملے شامل ہیں۔

راجیہ سبھا میں رنجن گگوئی کی خاموشی کے ایک سال

گزشتہ سال راجیہ سبھاکی رکنیت حاصل کرنے کے بعد سابق سی جےآئی رنجن گگوئی نے کہا تھا کہ پارلیامنٹ میں ان کی موجودگی مقننہ کے سامنےعدلیہ کے خیالات کو پیش کرنے کا موقع ہوگا، حالانکہ ریکارڈ دکھاتے ہیں کہ اس ایک سال میں وہ ایوان میں نہ کے برابر میں نظر آئے ہیں۔

آسام میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ہو سکتے ہیں سابق سی جے آئی رنجن گگوئی

آسام کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کےسینئررہنما ترون گگوئی کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق رنجن گگوئی کا نام اگلے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کےوزیر اعلیٰ کےعہدے کے امیدواروں کی فہرست میں ہیں۔ ریاست میں2021 میں انتخاب ہونے ہیں۔

کورونا بحران کے دوران سپریم کورٹ کا رویہ مایوس کن رہا ہے: جسٹس مدن بی لوکر

سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مدن بی لوکر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نہیں نبھا رہا ہے۔ہندوستان کا سپریم کورٹ اچھا کام کرنے میں اہل ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد گگوئی بندھوؤں پر حکومت کی مہربانی

سابق سی جے آئی رنجن گگوئی کو صدر رام ناتھ کووند کے ذریعے راجیہ سبھا ممبر نامزدکئے جانے سے پہلے گزشتہ جنوری میں صدر نے ان کے بھائی ریٹائرڈائیرمارشل انجن گگوئی کونارتھ ایسٹرن کاؤنسل کا کل وقتی ممبر نامزد کیاتھا، جبکہ انہوں نے اس شعبے میں زیادہ عرصے تک کام نہیں کیا ہے۔

راجیہ سبھاکے لیے رنجن گگوئی کو نامزد کرنے سے متعلق خبر پر ’دی ٹیلی گراف‘ اخبار کو نوٹس

ملک کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کئے جانے کولےکر انگریزی اخبار ’د ی ٹیلی گراف‘ نے 17 مارچ کو ایک خبر شائع کی تھی، جس کےعنوان میں صدر جمہوریہ کووند کا نام مبینہ طور پر طنزیہ انداز میں لکھا گیا تھا۔

جج پرموشن: جسٹس لوکور نے  کالجیئم کے 12 دسمبر کے فیصلے کو عام نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار  کیا

12 دسمبر کو سپریم کورٹ کے کالجیئم نے جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس راجیندر مینن کے پروموشن کی تجویز رکھی تھی، لیکن 10 جنوری کو چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والے کالجیئم نے سینئرٹی کو درکنار کرتے ہوئے جسٹس دینیش ماہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کا پروموشن کیا۔

اعلیٰ عدالتوں میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے نپٹارے کے لئے پڑے ہیں 6 لاکھ معاملے

سال 2016 تک ملک کی 24 اعلی ٰ عدالتوں میں 40.15 لاکھ معاملےنپٹارے کئےلئے پڑے ہیں۔ ان میں سے دس سال یا زیادہ عرصہ سے زیر التوا معاملوں کی تعداد 19.45 فیصد ہے۔ نئی دہلی : بمبئی ہائی کورٹ سمیت ملک کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں تقریباً   6لاکھ معاملے ایک […]