loksabha polls

بی جے پی کے بہی خواہ اتر پردیش کے رائے دہندگان کے فیصلے کو قبول کیوں نہیں کر پا رہے

جہاں بی جے پی ایس پی (اور کانگریس) کی جانب سے اتر پردیش میں دی گئی گہری چوٹ کو ٹھیک سے سہلا تک نہیں پا رہی، اس کے بہی خواہ دانشور اور تجزیہ کار مدعی سست گواہ چست کی طرز پر اس چوٹ کو معمولی قرار دینے کے لیے یکے بعد دیگرے ناقص اور بودی دلیل لا رہے ہیں۔

این ڈی اے میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ شروع، چندر بابو نائیڈو نے تعلیم اور مالیات سمیت 9 وزارتوں کا مطالبہ کیا

لوک سبھا میں اکثریت سے بہت دور کھڑی بی جے پی کے لیے تیلگو دیشم پارٹی کی حمایت انتہائی اہم ہے۔ این چندر بابو نائیڈو بی جے پی کے ساتھ بات چیت کے لیے پوری طرح تیار بتائے جا رہے ہیں اور انہوں نے مختلف وزارتوں مثلاً فنانس اور وزارت زراعت کے ساتھ لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ہماچل انتخابات: اس پہاڑ پر سیاست تاریخ کے اندر سانس لیتی ہے

بی جے پی جو اس ریاست کو بھگوا بنانا چاہتی ہے، یہ نہیں جانتی کہ دیودار کے جنگلات اپنی زندگی کی توانائی مقامی دیویوں سے حاصل کرتے ہیں اور برفانی پہاڑوں پر اس کرہ ارض کی چند بے مثال اور قدیم بدھ خانقاہیں سرد دھوپ میں چمکتی ہیں۔

منڈی: نریندر مودی کے نام پر الیکشن لڑ رہی کنگنا کیا اپنے آباؤ اجداد سے واقف ہیں؟

گراؤنڈ رپورٹ: ہماچل پردیش کی منڈی سیٹ سے بی جے پی کی امیدوار کنگنا رناوت اپنی تقریروں میں یہ نہیں بتاتی ہیں کہ منڈی یا ہماچل کے لیے ان کا وژن کیا ہے۔ انہوں نے اسے ‘مودی جی’ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کے سامنے کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ ویربھدر سنگھ کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ کھڑے ہیں، جن کی یہ موروثی سیٹ ہے۔

بی جے پی نے اندور میں جمہوریت کا قتل کیا، لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھینا: جیتو پٹواری

گجرات کی سورت لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی امیدوار کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے چند دن بعد مدھیہ پردیش کے اندور میں کانگریس امیدوار نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا اور چند گھنٹوں کے اندر ہی بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے سیاسی مافیا نے اندور کے 20 لاکھ ووٹروں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرکے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔

انتخابی جنگ کے نئے ہتھیار اور مودی کی ہرزہ سرائی

ابھی تک آس تھی کہ شاید اس بار بی جے پی ترقی اور مثبت ایجنڈہ کو لے کر میدان میں اترے گی، کیونکہ مسلمان والا ایشو حال ہی میں کرناٹک کے صوبائی انتخابات میں پٹ گیا تھا، جہاں ٹیپو سلطان سے لے کر حجاب وغیرہ کو ایشو بنایا گیا تھا۔ مگر ابھی راجستھان میں جس طرح کی زبان انہوں نے خود استعمال کی اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو یہ طے ہوگیا کہ 2024 کے ترقی یافتہ ہندوستان کا یہ الیکشن پولرائزیشن اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہی لڑا جائے گا۔

اکالی دل نے مسلمانوں کے خلاف پی ایم مودی کے بیان کو  نشانہ بنایا، کہا – آج وہ ہیں، کل ہم ہوں گے

وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے شرومنی اکالی دل نے کہا کہ ہندوستان کو ایک خودمختار، سیکولر، جمہوری ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کو کبھی بھی ایسا بیان نہیں دینا چاہیے جو ہندوستان کے لوگوں میں فرقہ وارانہ منافرت، باہمی شکوک و شبہات اور زہر پھیلاتے ہوں۔

کیا وزیر اعظم مودی نے منموہن سنگھ کے ’مسلمانوں کو ترجیح‘ دینے کے معاملے میں جھوٹ بولا؟

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان کے بانس واڑہ میں ایک انتخابی ریلی میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ایک مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہوگا۔ لیکن کیا منموہن سنگھ نے سچ میں ایسا کہا تھا؟

لوک سبھا انتخابات سے پہلے یوٹیوب گمراہ کن اشتہارات کو جگہ دے رہا ہے: رپورٹ

ویڈیو: ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں— ایکسیس ناؤ اور گلوبل وٹنیس نے حال ہی میں جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم پر ایسے اشتہارات کی اجازت دی ہے، جس میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس بارے میں ایکسیس ناؤ کے رمن جیت سنگھ چیما اور گلوبل وٹنیس کے ہنری پیک سے بات چیت۔

نارتھ ایسٹ اسپیشل: کیا سکم میں ہوگی ایس کے ایم کی واپسی، کیا ہے میگھالیہ – تریپورہ کا حال

ویڈیو: لوک سبھا کے ساتھ ساتھ سکم میں اسمبلی انتخابات بھی ہو رہے ہیں، جہاں حکمراں ایس کے ایم دوبارہ جیت کی امید کر رہی ہے لیکن اسے اپوزیشن ایس ڈی ایف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ وہیں، میگھالیہ اور تریپورہ کی دو — دو لوک سبھا سیٹوں پر بھی دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تینوں ریاستوں کی سیاست پر دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے تبادل خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔