مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ پانے والے طلبہ کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سرکاری محکمے نے اب ان طلبہ کے پرانے انکم سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنے کو کہا ہے۔ یہ دستاویز پہلے کبھی نہیں مانگے گئے تھے، لیکن اب مانگے جا رہے ہیں۔
مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کےآٹھ مہینے سے زیر التوا وظیفے کومرکز نے جاری کر دیا ہے ۔ اسکالروں نے اسے اپنی جدوجہد کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیلو شپ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔ وہ اب ہر ماہ وقت پرادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے لیےمنتخب 106 امیدواروں میں سے صرف 40 طلبہ کو پروویزنل اسکالرشپ لیٹر دیے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ باقی امیدواروں کے لیے ‘فنڈز کی دستیابی کے مطابق ‘سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔
مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کے تحت پی ایچ ڈی کر رہے اقلیتی کمیونٹی کے سینکڑوں ریسرچ اسکالرکو دسمبر 2024 سے اب تک اسکالرشپ نہیں ملی ہے۔ یہ اسکالرشپ وزارت اقلیتی امور کی طرف سے دی جاتی ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ حکومت جان بوجھ کر اسکالر شپ روک رہی ہے۔
مرکزی حکومت نے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ (ایم اے این ایف) کو بند کر دیا ہے۔ ملک کی تقریباً 30 یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور ڈاکٹریٹ کے طالبعلموں نے اقلیتی امور کی وزیر اسمرتی ایرانی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ حکومت موجودہ ایم این ایف فیلو کے لیے اسکالرشپ کی رقم میں اضافہ نہ کرکے اقلیتی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
اقلیتی امور کی وزارت کے زیر انتظام مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ اسکیم کے مستحق ریسرچ اسکالروں کو مہینوں سے ان کی گرانٹ کی رقم نہیں ملنے کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ طلبہ اپنی پڑھائی ترک کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
‘پڑھو پردیش انٹرسٹ سبسڈی اسکیم’ کے تحت اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے لیے گئے قرض پر سودمیں سبسڈی دی جاتی تھی۔ 2006 میں شروع کی گئی یہ اسکیم اقلیتوں کی بہبود کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کا حصہ تھی۔
مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں بتایا کہ اقلیتی طبقے کے ریسرچ اسکالرس کو ملنے والی مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کو اس تعلیمی سال سے بند کیا جا رہا ہے۔ یہ فیلو شپ یو پی اے کے دور حکومت میں سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
مرکزی حکومت نےرائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کا حوالہ دیتے ہوئے ایک نوٹس جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس قانون کے تحت پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو لازمی تعلیم فراہم کر رہی ہے، اس لیے اسکالرشپ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔