Moradabad

اتر پردیش: مرادآباد پولیس کا فرمان – مسلم بینڈ کے ہندو نام نہیں ہو سکتے

مرادآباد ضلع میں ہندو دیوی-دیوتاؤں کے نام سے بینڈ کا نام  رکھنے پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک شکایت کے بعد تمام مسلم بینڈ آپریٹرز کو پولیس نے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے بینڈ کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر نہ رکھیں۔

اترپردیش: مراد آباد میں مسلم فیملی کو مکان فروخت کرنے کے خلاف کالونی کے رہائشیوں کا احتجاج

منگل کو مراد آباد کی ٹی ڈی آئی سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس وقت احتجاج شروع ہوگیا، جب کالونی میں ایک مکان اس کے ہندو مالک نے ایک مسلمان ڈاکٹر کو بیچ دیا۔ رہائشیوں نے رجسٹری رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے آبادیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

ملت کا درد مند شفیق الرحمن برق چلا گیا

شفیق الرحمن برق ملی امورپر بولنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور ملت کا درر ان کے د ل و دما غ سے جھلکتا تھا۔ بابری مسجد کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ رام مند ر کی تعمیر ہوئی تو کیا ہوا، وہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کرانے کی اپنی جدوجہد سے کنارہ کشی نہیں کریں گے۔

یوپی: کشیدگی پیدا کرنے کے لیے گئو کشی کے الزام میں بجرنگ دل کے ضلعی سربراہ سمیت چار گرفتار

پولیس نے بتایا کہ بجرنگ دل کے مراد آباد ضلع کے سربراہ مونو وشنوئی اور دیگر نے ایک گائے کو چرا کر جنگل کے علاقے میں مار ڈالا تھا۔ مرادآباد کے ایس ایس پی نے بتایا کہ مونو کا مقامی ایس ایچ او سےجھگڑا بھی تھا۔ اس نے علاقے میں کشیدگی پیدا کرنے اور پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ واردات انجام دی تھی۔

مسلمان اتنے ہی اور اسی طرح مسلمان ہو سکتے ہیں، جتنا اور جس طرح ہندوتوادی اجازت دیں !

اتر پردیش کی مرادآباد پولیس نے بجرنگ دل کے احتجاج اور دھمکی کے بعد ایک مسلمان کی اپنی نجی عمارت میں ہو رہی نماز تراویح کو بند کروادیا۔ کیا اب یہ حقیقت نہیں ہے کہ مسلمان یا عیسائی کا چین و سکون تب تک ہے جب تک آر ایس ایس کی تنظیمیں کچھ اور طے نہ کریں؟ کیا اب ان کی زندگی غیریقینی نہیں ہو گئی ہے؟

یوپی: ’لو جہاد‘ کا الزام لگاتے ہوئے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان کی دکان بند کروائی

یہ واقعہ مرادآباد کا ہے، جہاں 23 دسمبر کی شام بجرنگ دل کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں مسلمان ہندو کے نام پر دکان چلا رہے ہیں۔اس دوران کارکنوں نے جوس سینٹر کوبند کرواتے ہوئے ہنگامہ بھی کیا اور ‘ہر ہر مہادیو’، ‘جئے شری رام’کےنعرے لگائے۔

اتر پردیش: دو مکانات مسلمانوں کو فروخت کیے جانے پر مقامی لوگوں نے ’نقل مکانی‘ کی دھمکی دی

واقعہ مرادآباد کے لاجپت نگر کا ہے۔ ایس ایس پی کے ساتھ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد ڈی ایم شیلیندر کمار سنگھ نے کہا کہ انتطامیہ کی جانچ میں پایا گیا کہ یہ پراپرٹی کا معاملہ ہے۔ سامنے آیا ہے کہ کچھ مقامی لوگ ان دونوں مکانات کو خریدنے کے خواہش مندتھے اور اب انہیں پتہ چلا ہے کہ وہ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔

یوپی: گوشت بیچنے والے کو مبینہ گئو رکشکوں نے پیٹا، پولیس نے متاثرہ شخص پر درج کی ایف آئی آر

معاملہ مرادآباد کا ہے، جہاں گوشت لے جا رہے ایک میٹ بیچنے والےکو گئورکشا واہنی کے اہلکاروں کی قیادت والے گروپ نے روک کر مارپیٹ کی اور گائے اسمگلر بتاتے ہوئے پولیس کو سونپ دیا۔ بعد میں متاثرہ شخص کو چھوڑتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔ واقعہ کے بعد بھارتیہ گئورکشا واہنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کاان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مراد آباد: دلتوں کا بال کاٹنے سے انکار کرنے پر 3 مسلم حجام کے خلاف مقدمہ درج

شکایت گزار کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ذات سے متعلق امتیازی سلوک کئی سالوں سے ہوتا آ رہا ہے، جس کو روکنے کے لیے انھوں نے شکایت درج کرائی تھی۔ملزم حجاموں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ان پر لگے الزام جھوٹے ہیں۔