ملک بھر میں امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ امتحانات منعقد کرنے والے ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی منظور شدہ 39 اسامیوں میں سے 15 خالی ہیں۔ یہ ایجنسی اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے آؤٹ سورسنگ کا سہارا لیتی ہے۔
سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔
تین مئی کو منعقد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو ہوگا۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ ’گیس پیپر‘کے نام پر اصل سوال لیک ہوئے تھے اور اگلے سال سے یہ امتحان آن لائن لیا جائے گا۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
نیٹ-یوجی معاملے میں سپریم کورٹ نے سوموار کو 30 سے زیادہ درخواستوں کی سماعت کی، جن میں امتحان میں بے ضابطگی اور نقل کا الزام عائد کرنے والی درخواستوں کے ساتھ ساتھ امتحان کو نئے سرے سے کرانے کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین ایم جگدیش کمار نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے پروموٹر ان چیف ہیں، این ٹی اے کی تحقیقات کرنے والی کسی بھی کمیٹی کو ان کی اوریو جی سی میں ان کے کردار کی بھی لازمی طور پر جانچ کرنی چاہیے۔
ویڈیو: نیٹ – یوجی 2024 پر پیپر لیک اور عمل میں گڑبڑی کے الزام لگے ہیں، وہیں یو جی سی – نیٹ (جون 2024) کو امتحان کے اگلے ہی دن رد کر دیا گیا۔ امتحان کا انعقاد کرانے والے این ٹی اے اور ملک میں تعلیم اور طلباء کی صورتحال کے حوالے سے دہلی یونیورسٹی کے ٹیچر ڈاکٹر وجیندر سنگھ چوہان اور طالبعلموں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔