گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

نیٹ-یو جی 2026 امتحان رد کیے جانے اور مبینہ پیپر لیک کے الزامات کے خلاف این ایس یو آئی کے اراکین نے 12 مئی کو دہلی کے شاستری بھون کے باہر احتجاج کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: گیس پیپر کے ذریعے نیٹ 2026 کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان رد کر دیا ہے۔ ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے لیے منعقد ہونے والا یہ امتحان اب دوبارہ لیا جائے گا، جس کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
این ٹی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے حکومتِ ہند کی منظوری کے بعد 3 مئی 2026 کو منعقد نیٹ (یو جی) 2026 امتحان کو رد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا، جس کی نئی تاریخوں کا اعلان علیحدہ طور پرکیا جائے گا۔‘
In continuation of its press release dated 10 May 2026, the National Testing Agency wishes to inform candidates, parents, and members of the public of the following decisions taken in respect of NEET (UG) 2026. NTA had, on 8 May 2026, referred the matters then under consideration…
— National Testing Agency (@NTA_Exams) May 12, 2026
اس سے قبل، راجستھان کی اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) ان رپورٹس کی جانچ کر رہی تھی، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امتحان سے پہلے طلبہ کے درمیان ایک ہاتھ سے لکھا ہوا دستاویز، جسے ’گَیس پیپر‘ بتایا جا رہا ہے، وہاٹس ایپ کے ذریعے پھیلایا جا رہا تھا۔
ایس او جی نے تصدیق کی تھی کہ وہ تقریباً 410 سوالوں پر مشتمل ایک دستاویز کی جانچ کر رہی ہے۔ ایس او جی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وشال بنسل نے کہا کہ اس پیپر میں حیاتیات اور کیمیا کے حصوں کے 100 سے زیادہ سوالات اصل امتحانی پرچے سے ’ بڑی حد تک مماثل‘ پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں مضامین میں تقریباً 120 سوالوں کے مماثل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
بنسل نے یہ بھی بتایا کہ یہ دستاویز مبینہ طور پر امتحان سے تقریباً 15 دن سے ایک ماہ پہلے ہی طلبہ کے درمیان گردش کر رہی تھی۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، تحقیقات سے جڑے ذرائع نے میڈیا اداروں کو بتایا کہ ان سوالوں کی مماثلت 720 نمبروں میں سے تقریباً 600 نمبروں تک اثر ڈال سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق، اب تک کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ مبینہ گَیس پیپر راجستھان کے چورو کے ایک ایم بی بی ایس طالبعلم سے جڑا ہے، جو اس وقت کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس نے 1 مئی کو یہ دستاویز سیکر میں اپنے ایک جاننے والے کو بھیجا تھا۔
اس کے بعد سیکر میں ایک پی جی کے منتظم نے مبینہ طور پر اسے وہاں رہنے والے طلبہ میں تقسیم کیا، جہاں سے یہ کوچنگ نیٹ ورک اور میسجنگ ایپس کے ذریعے تیزی سے پھیل گیا۔
تحقیقات سے جڑے ذرائع نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ امتحان سے دو دن پہلے یہ مواد مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے تک میں فروخت کیا جا رہا تھا، جبکہ امتحان سے صرف ایک دن پہلے اس کی قیمت گھٹ کر تقریباً 30 ہزار روپے رہ گئی تھی۔
ان الزامات کے بعد، این ٹی اے نے اپنے بیان میں کہا تھا، ’این ٹی اے اس بات سے واقف ہے کہ اس طرح کی خبریں امیدواروں میں تشویش پیدا کر سکتی ہیں۔ ہم طلبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جانچ ایجنسیوں کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے وقت دیں۔ مناسب وقت پر وزارت تعلیم سے مشاورت کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘
این ٹی اے حکام نے بتایا کہ امتحان کے چار دن بعد، 7 مئی کی دیر شام ایجنسی کو مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ حکام کے مطابق،’ان اطلاعات کو 8 مئی کی صبح آزادانہ تصدیق اور ضروری کارروائی کے لیے مرکزی ایجنسیوں کو بھیج دیا گیا تھا۔‘
VIDEO | NEET UG 2026: NTA Director General Abhishek Singh says, “The paper conducted on May 3 had four code versions. None of the papers were found in the market, and no leak has been established. In the PDF that circulated, there were many questions, and some of them appeared… pic.twitter.com/O1axvtT8U4
— Press Trust of India (@PTI_News) May 12, 2026
نیٹ یو جی 2026 امتحان میں سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود 22 لاکھ سے زیادہ امیدوار شریک ہوئے تھے۔ تاہم 7 مئی کو موصول اطلاعات کے بعد سیکر، جھنجھنو، دہرادون اور کیرالہ سمیت کئی مقامات پر جانچ شروع کی گئی تھی۔ منگل (12 مئی) کو اس معاملے سے جڑے ایک اور ملزم کو ناسک سے حراست میں لیا گیا، جبکہ اس سے قبل 11 مئی تک 13 افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 22.79 لاکھ سے زائد امیدواروں کے مقابلے میں ملک بھر کے سرکاری کالجوں میں ایم بی بی ایس کی صرف 59,416 نشستیں دستیاب ہیں۔
عوامی امتحانی اداروں کی کارکردگی پر سوال
نیٹ-یو جی امتحان رد کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے استاد وجیندر چوہان نے کہا کہ 2024 میں بھی امتحان میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے، لیکن اس بار امتحان رد کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اثرات ’توقع سے کہیں زیادہ وسیع‘ رہے ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار کیوں پیش آ رہے ہیں۔’پبلک اگزامینیشن سسٹم پر لوگوں کا اعتماد بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن اب انہیں یہ بھروسہ نہیں رہ گیا ہےکہ ان کا انتخاب ان کی محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا یا پھر کسی دوسرے ’ایکو سسٹم‘کی بنیاد پر۔‘
انہوں نے دلیل دی کہ اس پورے معاملے کو صرف چند افراد کی غلطی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک’ساختیاتی مسئلہ‘ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ این ٹی اے جیسے عوامی امتحانی اداروں کے طریقۂ کار اور مالیاتی ڈھانچے پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ٹی اے کو حکومت کی جانب سے براہ راست بجٹ امداد نہیں ملتی اور یہ ایجنسی بنیادی طور پر طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس پر انحصار کرتی ہے۔
انہوں نے کہا،’اسے ریاست کی جانب سے فنڈنگ ملنی چاہیے کیونکہ وہ عوامی امتحانات میں لوگوں کے اعتماد کی محافظ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اخراجات کم کرنے اور’لوئسٹ بیڈر‘ماڈل پر انحصار کی وجہ سے امتحان کی شفافیت سےسمجھوتہ ہوتا ہے۔
انہوں نے راجیہ سبھا کی ایک کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’این ٹی اے نے امتحانی فیس کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے جمع کیے، جبکہ امتحانات کے انعقاد پر اس سے کم خرچ ہوا، جس کی وجہ سے ایجنسی منافع میں رہی۔‘

تین مئی کو گڑگاؤں کے ایک مرکز پر طالبات۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
واضح ہو کہ 31 جولائی 2024 کو راجیہ سبھا میں دیے گئے ایک تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجمدار نے 2018 میں این ٹی اے کے قیام کے بعد سے اس کی آمدنی اور اخراجات کا سال بہ سال ڈیٹا پیش کیا تھا، جس سے معلوم ہوا کہ ایجنسی گزشتہ 6 برسوں میں 448 کروڑ روپے کے منافع میں رہی ہے۔
چوہان نے یہ بھی کہا کہ پیپر لیک جیسے واقعات کا اثر تمام طلبہ پر یکساں نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا،’دیہی علاقوں، حاشیے پر موجود طبقات، محروم ذاتوں اور صنفی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ہر کسی کے پاس دوبارہ امتحان دینے، ایک اور سال ضائع کرنے یا دوبارہ کوچنگ لینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں پہلے سے حاشیے پر موجود لوگ مزید پیچھے چلے جاتے ہیں۔‘
تعلیم سے متعلق ویب سائٹ کیریئر 360 ڈگری کے بانی مہیشور پیری نے کہا کہ نیٹ 2026 امتحان کا رد ہونا حیران کن نہیں ہے۔
انہوں نے اس پورے مبینہ نیٹ ورک کا مرکز راجستھان کے سیکر کو قرار دیا، جہاں ان کے مطابق کامیابی کی شرح قومی اوسط سے چھ گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 میں بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آئے تھے لیکن انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ نیٹ امتحان کے 180 سوالوں میں سے’140 سوال ‘410 سوال پر مشتمل ایک مبینہ گیس پیپر کا حصہ تھے، اور سوالوں کی ترتیب اور اختیارات بھی اصل امتحان سے میل کھاتے تھے۔
پیری نے یہ بھی الزام لگایا کہ سیکر میں امتحان سے ایک دن پہلے طلبہ کو مبینہ طور پر ماک ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا اور ان سوالوں کی تیاری کروائی گئی۔وہ کہتے ہیں،’طلبہ نے 180 میں سے 140 سوال پہلے سے تیار کر لیے تھے، جس کی وجہ سے امتحان ہال میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کے تقریباً 720 میں سے 600 نمبر یقینی ہو جاتے تھے۔‘
مہیشور پوری نے کہا کہ سال 2024 کے مبینہ گھوٹالے پر سخت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی ہے، اور اب لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔
سینئر صحافی تریبھون نے نیٹ کے رد کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا،’یہ یاد رکھنا چاہیے کہ میڈیکل داخلہ امتحان کا رد ہونا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2015 میں اے آئی پی ایم ٹی، جو نیٹ یو جی کا سابقہ ڈھانچہ تھا، سپریم کورٹ کے حکم سے رد کیا گیا تھا۔ تب عدالت نے امتحان کی’غیر جانبداری اور اعتبار‘کو بچانے کو ترجیح دی تھی۔ 2024 میں سپریم کورٹ نے نیٹ یو جی کو اس لیے رد نہیں کیا تھا کیونکہ اسے’سسٹم میں سنگین دراندازی‘کا وسیع اور خاطر خواہ ثبوت نہیں ماناتھا۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ لیکن اگر 2026 میں امتحان رد کرنا پڑا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سسٹم نے خود مان لیا کہ بھروسہ بچا نہیں ہے۔ اب صرف دوبارہ امتحان نہیں بلکہ ازسرنو تعمیر کی ضرورت ہے، یعنی این ٹی اے کا فارنزک آڈٹ، پیپر سیٹنگ سے ٹرانسپورٹ تک ہر مرحلے کی جوابدہی، نجی ایجنسیوں کے کردار کی جانچ، اور ایجوکیشن مافیا کے خلاف منظم جرائم جیسی کارروائی۔‘
اس سے پہلے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ 2026 پیپر لیک کی خبر کے بعد مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ’22 لاکھ سے زیادہ بچوں کا بھروسہ ٹوٹا ہے‘اور الزام لگایا تھا کہ امتحان سے 42 گھنٹے پہلے سوال وہاٹس ایپ پر فروخت کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا،’یہ پہلی بار نہیں ہے۔ 10 سال میں 89 پیپر لیک، 48 بار دوبارہ امتحان۔ ہر بار وہی وعدے، اور پھر وہی خاموشی۔‘
امتحان رد کیے جانے کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ گوگل پر یہ سرچ کریں کہ’نیٹ 2024 کی شدیدچوری کے دوران این ٹی اے کا ڈی جی کون تھا، اور مودی حکومت نے آج اسے کہاں بٹھایا ہے؟‘
غورطلب ہے کہ نیٹ 2024 میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے درمیان جون 2024 میں سبودھ کمار سنگھ کو این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ بعد میں، 26 اکتوبر 2024 کو مرکزی حکومت نے سنگھ کو وزارت اسٹیل میں ایڈیشنل سکریٹری مقرر کیا تھا۔ فی الحال وہ چھتیس گڑھ میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری ہیں۔‘
’غیریقینی صورتحال کے درمیان طلبہ‘
متھرا کی 19 سالہ امیدوار ہنی چودھری، جنہوں نے تقریباً دو سال تک نیٹ کی تیاری کی، نے دوبارہ امتحان کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے دی وائر سے کہا،’پیپر لیک اور نقل محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘
ہنی گزشتہ دو برسوں سے روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں، جبکہ امتحان کے دنوں میں یہ دورانیہ مزید بڑھ جاتا تھا۔ امتحان دینے کے بعد انہیں امید تھی کہ اس بار اچھے نمبر حاصل ہوں گے، اور وہ چھٹیاں منانے گئی ہوئی تھیں۔ لیکن اب انہیں سب کچھ چھوڑ کر دوبارہ پڑھائی میں لگنا ہوگا۔
وہ کہتی ہیں، ’لیک اور نقل کے ذریعے لوگ اچھے نمبر لا رہے ہیں، اس سے ہماری محنت کی قیمت کم ہو رہی ہے۔ ہمارے لیے یہ بالکل غلط ہے۔‘
وہ دوبارہ امتحان کی تیاری کر رہی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے امتحان منعقد کرنے والی ایجنسی سے ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا، ’سب کچھ پہلی بار میں ہی ٹھیک ہونا چاہیے تھا۔ ری اگزام کی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے تھی۔ ‘
ایک اور امیدوار ثنا اسد (بدلا ہوا نام) نے کہا کہ وہ امتحان رد ہونے سے ’مایوس ہیں، لیکن حیران نہیں۔‘ انہوں نے کہا، ’کاش حکومت اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لیتی۔ اتنی لاپروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو اس ملک کے بچوں کے مستقبل کی پرواہ نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اب طلبہ کو دوبارہ وہی پوری تیاری دہرانا پڑے گی۔
آبدیدہ ہو کر وہ کہتی ہیں، ’نیٹ خود ایک نہ ختم ہونے والا لُوپ ہے، بچے اس میں پس جاتے ہیں۔ اس کے اوپر کبھی پیپر لیک ہو جاتا ہے تو کبھی 20 بچوں کو ایسے ہی نمبر بانٹ دیے جاتے ہیں (2024 میں کچھ مراکز پر طلبہ کو گریس مارکس دیے گئے تھے)۔‘
وہ کہتی ہیں، ’مجھے لگا تھا کہ اب سب ختم ہو گیا ہے، لیکن اب پھر سے سب شروع کرنا پڑے گا، سب کچھ دہرانا پڑے گا۔ ‘

’تین سال کی تیاری کے بعد دوبارہ اسی دباؤ میں لوٹنا بہت مشکل ہے۔ مسلسل دو کوششیں ذہنی دباؤ میں گزریں اور اب پھر وہی صورتحال آ گئی ہے۔ یہ ہماری غلطی نہیں ہے۔‘ (فوٹو: پی ٹی آئی)
بہار کی ہرشا اپنے گھر پر رہ کرنیٹ کی تیاری کر رہی تھیں۔ انہوں نے فزکس والا کا کورس لے رکھا تھا۔ یہ ان کی تیسری کوشش تھی اور انہیں یقین تھا کہ اس بار کسی سرکاری میڈیکل کالج میں ان کا داخلہ ہو جائے گا۔ تاہم، دوبارہ امتحان ہونے کی خبر سے وہ کچھ گھبرا گئی ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امتحانی عمل میں گڑبڑ ہوئی ہے، تو امتحان رد کیا جانا ضروری تھا۔
وہ کہتی ہیں،’میرے جتنے نمبر بن رہے تھے، میں اس سے مطمئن تھی۔ لیکن اب دوبارہ امتحان ہوگا، یہ جان کر مجھے کچھ گھبراہٹ ہو رہی ہے۔‘ خود کو سنبھالتے ہوئے وہ مزید کہتی ہیں، ’لیکن کوئی بات نہیں، اس بار میں اور زیادہ نمبر لانے کی کوشش کروں گی تاکہ مجھے اس سے بھی بہتر کالج میں داخلہ مل سکے۔‘
ہنی کی طرح ہرشا کو بھی لگتا ہے کہ ری اگزام کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی اور پوری کارروائی پہلی ہی بار میں منصفانہ اور درست طریقے سے مکمل ہونی چاہیے تھی۔
دہلی کے ایک 22 سالہ طالبعلم نے ری اگزام کی خبر سن کر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا،’مجھے امید تھی کہ اس بار میرا داخلہ کسی اچھے کالج میں ہو جائے گا۔ میں نے اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیوں کا منصوبہ بھی بنا لیا تھا، ٹکٹیں بک ہو چکی تھیں۔ اب سب کچھ رد کرنا پڑے گا اور مجھے دوبارہ دن رات تیاری میں لگنا ہوگا۔‘
انہوں نے کہا،’ابھی تو یہ بھی طے نہیں ہے کہ امتحان کب ہوگا۔ سب کچھ غیر یقینی صورتحال میں گھرا ہوا لگ رہا ہے۔‘
بوجھل آواز میں انہوں نے کہا،’پیپر لیک اور امتحان رد ہونے کا طلبہ کی ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے، یہاں کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔ اس بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔‘
پٹنہ کی رہنے والی ایک اور امیدوار ویشنوی نے دی وائر سے کہا کہ امتحان دینے کے بعد انہیں پہلی بار پچھلے ایک دو برسوں میں’سکون محسوس ہوا تھا‘، کیونکہ اس بار کا پرچہ نسبتاً متوازن لگا اور ان کا امتحان اچھا گیا تھا۔ دوسری کوشش میں امتحان دینے والی اس طالبہ کو تقریباً 655 نمبر آنے کی امید تھی اور انہیں لگ رہا تھا کہ 2025 کے مقابلے میں پرچے کی سطح مختلف ہونے کی وجہ سے کٹ آف بھی اسی حساب سے رہے گی، جس سے سرکاری میڈیکل کالج ملنے کے امکانات بن رہے تھے۔
تاہم، امتحان رد ہونے کی خبر نے انہیں دوبارہ ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا،’تین سال کی تیاری کے بعد دوبارہ اسی دباؤ میں واپس جانا بہت مشکل ہے۔ مسلسل دو کوششیں تناؤ میں گزری ہیں اور اب پھر وہی صورتحال آ گئی ہے۔ یہ ہماری غلطی نہیں ہے۔ این ٹی اے ہر سال شفافیت اور سخت جانچ کی بات کرتا ہے، پھر بھی ایسا کیسے ہو جاتا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ 2024 میں بھی پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے، لیکن تب صرف کچھ مراکز پر دوبارہ امتحان لیا گیا تھا۔ طالبہ نے سوال اٹھایا کہ،’اگر تب پورے ملک میں امتحان رد نہیں ہوا تھا، تو اس بار پورے ملک میں ردکیوں کرنا پڑا؟‘
انہوں نے کہا،’میں نے خود کو یہ سمجھا لیا تھا کہ اس بار شاید سرکاری کالج مل جائے گا، لیکن اب پھر وہی امتحان کا دباؤ، وہی خوف کہ ہوگا یا نہیں۔ ڈراپر طلبہ کے لیے یہ صرف ایک امتحان نہیں بلکہ کیریئر کا ایک اور سال داؤ پر لگنے جیسا ہے۔‘
سال2024 میں بھی پیپر لیک کی خبریں سامنے آئی تھیں
یہ معاملہ نیٹ یو جی 2024 پیپر لیک تنازعہ کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ سال 2024 میں پیپر لیک تنازعہ کے دوران دوبارہ امتحان کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا اور سی بی آئی جانچ تشکیل دی گئی تھی۔
دی وائر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ نیٹ 2024 امتحان میں بے ضابطگیوں کا سب سے بڑا مرکز جھجھر کا ہردیال پبلک اسکول تھا۔ 500 سے زیادہ طلبہ نے اس مرکز پر امتحان دیا تھا، جن میں سے چھ امیدواروں نے 720 میں سے 720 نمبر یعنی مکمل نمبر حاصل کیے تھے۔ اس کے علاوہ دو امیدواروں کو 718 اور 719 نمبر ملے تھے، جنہیں ریاضیاتی طور پر ناممکن قرار دیا جا رہا تھا۔
