ہم بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کا تجزیہ کریں گے: ادھو ٹھاکرے
بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کو ان کسانوں اور آدیواسیوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کی زمین حاصل کی جانی ہے۔
بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کو ان کسانوں اور آدیواسیوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کی زمین حاصل کی جانی ہے۔
پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن پی ڈی پی کے راجیہ سبھا ممبروں نے کشمیر میں صورت حال معمول پر لانے کی مانگ کرتے ہوئے خصوصی درجہ ختم کئے جانے کی مخالفت کی۔ پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی 5 اگست سے نظربند ہیں۔
پی ڈی پی چیف نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے سجاد لون، پی ڈی پی رہنما وحید پارہ اور سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کو سرکاری ٹھکانوں میں شفٹ کرنے کے دورا ن ان سے بدسلوکی کی۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہےکہ سجاد لون کو ڈرایا دھمکایا گیا اور انہیں برہنہ ہونے کے لیے کہا گیا۔
عدالت نے کسانوں کے اس دعویٰ کو خارج کر دیا کہ گجرات حکومت کے پاس حصول اراضی کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ پروجیکٹ دو ریاستوں گجرات اور مہاراشٹر کے درمیان بٹا ہوا ہے۔
پلواما حملے کے 1 ہفتے کے بعد 21 فروری کو کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ جب پورا ملک پلواما حملے میں جان گنوانے والے جوانوں کو لے کر غم زدہ تھا اس وقت وزیراعظم جم کاربیٹ پارک میں شام کو ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔
پلواما حملے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی پر یہ الزام لگا تھا کہ جس وقت یہ حملہ ہوا،تب وہ جم کاربیٹ نیشنل پارک میں شوٹنگ کر رہے تھے۔
بہار میں مہاگٹھ بندھن کے لئے راستہ یہ ہے کہ وہ اس بڑی ہارکے بعد بھی اپنے اتحاد اور یکجہتی کو بنائے رکھے۔ حالانکہ ابھی تو انتخاب کے بعد جیتن رام مانجھی نے تیجسوی کی قیادت پر ہی سوال اٹھا دیا ہے۔
امریکہ نے یہ کہتے ہوئےہندوستان پر دباؤ بنایا ہے کہ اس نے پلواما حملے کے بعد جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دئے جانے میں ہندوستان کا ساتھ دیا تھا لہٰذا اب وہ ایران کے معاملے میں اس کا ساتھ دے۔اس بحث سے قطع نظر کہ یہ دلیل کتنی صحیح یا غلط ہے، ہندوستان کے لئے امریکی مانگ کو خارج کرنا آسان نہیں۔
ہندوستان میں انتخابات کی گہما گہمی کے بیچ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ یقیناً وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔
منی پور کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک یوٹیوب ویڈیو میں وزیر اعظم مودی، ریاست کے وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ اور آر ایس ایس کو تنقیدکا نشانہ بنانے کے لئے نومبر 2018 میں این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
کانگریس میں شامل ہونے کے سوال پر ورون گاندھی نے کہا کہ اس کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ جس دن مجھے بی جے پی چھوڑنی ہوگی میں پبلک لائف سے ریٹائرمنٹ لے لوںگا۔
کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ آج جمہوریت کے لیے کالا دن ہے۔ چور کی چوکیداری اور چوکیدار کی چوری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے۔کیا اس طرح سے بلیک منی سے ریلی میں نوٹ منگوا کر ،نریندر مودی جی انتخابات جیتنا چاہتے ہیں؟
پاکستان کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے لئے نریندر مودی کی ایک اور جیت سے اچھا کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ان کی پالیسیوں نے پاکستانیوں کو یہ یقین دلانے کا کام کیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔
کانگریس نے کہا؛مودی جی، کیا آپ سعودی عرب سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جاری اس مشترکہ بیان سے پیچھے ہٹے جس میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستان کی مانگ کو تقریباً خارج کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ زیادہ سے زیادہ 160 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے والی اس ٹرین کو ملک کی سب سے تیز ٹرین کہا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکومت میں وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ فی الحال نئی دہلی سے بات چیت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیوں کہ موجودہ حکومت سے کسی مثبت جواب کی امید نہیں ہے۔
حسینہ نے الیکشن جیتنے کے لئے جو حرکتیں کی ہیں اس پر ہمارے کان کھڑے ہوجانےچاہییں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آگے چل کر وہ ہندوستان کے لئے گھاٹے کا سودہ بن جائے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
کانگریس کے نظریے سے دیکھیں تو اس کو آر جے ڈی کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ 1990 میں اقتدار سے بےدخل ہونے کے بعد اب تک یہ پارٹی بہار میں اپنا مینڈیٹ واپس نہیں حاصل کر پائی ہے۔
شاید ہی کسی غیر ملکی سربراہ نے کبھی کسی ہندوستانی وزیر اعظم کی اس طرح اعلانیہ بے عزتی کی ہو۔ مودی نے سبکی کا یہ گھونٹ خاموشی سے پی لیا۔ وزارت خارجہ کو بھی بتایا گیا کہ آن ریکارڈ ٹرمپ کے بیان کا جواب نہیں دیا جائے۔ صرف آف ریکارڈ ہی میڈیا میں افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتائی جائیں۔
میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے مودی کے انٹرویو، منی پور کے صحافی کی گرفتاری اور سبری مالا مندر میں ہڑتال کور کرنے آئی شاذلہ عبدالرحمٰن کے ساتھ بدتمیزی پر ہندوستان ٹائمز کے پالیٹیکل ایڈیٹر ونود شرما، دی ٹریبون کی ڈپٹی ایڈیٹر اسمتا شرما اور سنیئر صحافی آلوک مہتہ سے ارملیش کی بات چیت
میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے صحافی کشور چندر وانگ کھیم کی گرفتاری ، سرکار کے ذریعے عام شہریوں کے کمپیوٹر کی نگرانی اور امبانی گھرانے میں ہوئی شادی کے موضوع پر سینئر صحافی انل چمڑیا، سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی اور سینئر صحافی شیتل پرشاد سنگھ سے ارملیش کی بات چیت۔
وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ 2014 سے پہلے ملک میں موبائل بنانے والی صرف 2 کمپنیاں تھیں، آج موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تعداد 120 ہو گئی ہے۔سوال ہے کہ کمپنیوں کی تعداد 2 سے 120 ہو جانے پر کتنے لوگوں کو روزگار ملا؟
امپھال کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم کو گزشتہ 26 نومبر کو سوشل میڈیا پر ریاست کی بی جے پی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے ویڈیو اپلوڈ کرنے اور وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ کو مبینہ طور پر نازیبا لفظ بولنے کی وجہ سے نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
بی جے پی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم پرسب سے زیادہ پیسے بچائے ہیں۔ ہمارا نوجوان خودہی پروفیسر ہے۔ وہ تو بڑےبڑے کو پڑھا دیتا ہے جی، اس کو کون پڑھائےگا۔ مدھیہ پردیش کے پونے 6لاکھ نوجوان کالجوں میں بنا پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر کے ہی پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا نوجوان ملک مانگتا ہے، کالج اور کالج میں ٹیچرنہیں مانگتا ہے۔
بلیٹ ٹرین کے مجوزہ راستے سے جڑے گجرات کے مختلف ضلعوں کے متاثر کسانوں نے حلف نامہ میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پروجیکٹ کے لئے ان کی زمین لی جائے۔
نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔
کمپنی نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ اس پروجیکٹ پر آگے بڑھنے سے پہلے ہندوستان کو کسانوں کے مسائل پر غور کرنے اور اس سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔
بلیٹ ٹرین کے مجوزہ پروجیکٹ سے جڑے گجرات کے مختلف اضلاع کے کسانوں نے حلف نامہ میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس منصوبہ کے لئے ان کی زمین لی جائے۔
خواتین ریزرویشن بل 2010 میں راجیہ سبھا سے پاس ہو چکا ہے لیکن گزشتہ 8 سالوں سے لوک سبھا میں اسے پاس نہیں کیا جا سکاہے۔اس بل کا مقصدخواتین کو لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینا ہے۔
کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں یکجہتی دکھانے والے اپوزیشن کے رہنماؤں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ 2019 کے عام انتخابات تک متحد رہیںگے؟
مودی حکومت کو چار سال کا جشن منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔یہ حکومت بد عنوانی، کالے دھن، مہنگائی، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کو لےکر پوری طرح ناکام رہی ہے۔
ہر حکومت کے دور میں ایک سیاسی تہذیب پنپتی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں جھوٹ نئی سرکاری تہذیب ہے۔ جب وزیر اعظم ہی جھوٹ بولتے ہیں تو دوسرے کی کیا کہیں۔
بی جے پی کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایم ایل کی اتنی تعداد نہیں ہے۔گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا ہے۔
کرناٹک الیکشن کے وقت وہاں کے میڈیا میں ریاست کی حزب اقتدار اور مرکز ی حزب اقتدار کے درمیان کیسا توازن ہے، اس کا تجزیہ روز ہونا چاہئے تھا۔ الیکشن کمیشن کب سیکھےگا کہ میڈیا کوریج اور بیانات پر کارروائی کرنے اور نظر رکھنے کا کام الیکشن کے دوران ہونا چاہئے نہ کہ الیکشن ختم ہو جانے کے تین سال بعد۔
اگر انتخابی جیت میں وزیر اعظم کے جھوٹ کا اتنا بڑا رول ہے تو ہر جھوٹ کو ہیرا اعلان کر دینا چاہئے۔ اس ہیرے کا ایک کنگن بنا لینا چاہئے۔ پھر اس کنگن کو نیشنل میمنٹو اعلان کر دینا چاہئے۔
کرناٹک کی بازی اگر ہاتھ سے چھوٹی تو اس سے پیدا ماحول سے راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسی مشکل ریاستوں میں بی جے پی کے لئے اپنی حکومتیں بچا پانا مشکل ہوگا۔ اگر ریاستوں میں حکومتیں گرنے کا سلسلہ آگے بڑھا تو 2019 میں مودی اکیلے اپنے دم پر حالات کو بےقابو ہونے سے نہیں بچا پائیںگے۔
لندن میں ویسٹ منسٹر کے سینٹرل ہال میں ہوئے دو گھنٹوں سے زیادہ کے پروگرام ‘ بھارت کی بات، سب کے ساتھ ‘ میں وزیر اعظم نریندر مودی شروع سے لےکر آخر تک اپنی ہی بات کرتے رہ گئے۔
ایمبولینس کے ڈرائیور نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ زخمی سندیپ کو ہسپتال لے جانے کے لئے موقع واردات پر پہنچے تو دو اجنبی شخص ایمبولینس میں گھس آئے۔ انہوں نے سندیپ کو ہسپتال کے ٹراما سینٹر لے جانے کے بجائے سیدھے پوسٹ مارٹم ہاؤس لے جانے کو کہا تھا۔
صحافی سندیپ شرما کے معاملے میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی کے ذریعے تحفظ مانگنے کے باوجود اس کو تحفظ نہ دینا ریاستی حکومت کی لاپروائی ہے۔
بھنڈکے صحافی سندیپ شرما کے مافیا اور پولیس کی ملی بھگت کا انکشاف کرنے کے بعد سے ان کو جان سے مارنے کی دھمکی مل رہی تھی۔وزیر اعظم مودی اور وزیراعلیٰ شیوراج کو خط لکھکر انہوں نے تحفظ دینے کی مانگ بھی کی تھی۔