Politics

یوگی کے وزیر بولے، کمبھ پر ہزاروں کروڑ خرچ لیکن معذور بچوں کے اسکول کا بجٹ نہیں

یوپی حکومت میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر نے کہا، ’کمبھ کے ذریعے لوک سبھا انتخابات کے لئے برانڈنگ کی جا رہی ہے۔ کمبھ میں ہزاروں کروڑ خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی حکومت کے پاس معذور محکمہ کے امپاورمنٹ کے لئے بجٹ نہیں ہے۔‘

مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن: گجرات ماڈل اپنانے میں چوک گئی کانگریس

صوبائی صدر کو ان کارکنان سے ہمدردی ہے، لیکن پارٹی باہر سے آنے والے بہت سارے لوگوں کی امیدوں کو پورا نہیں کر سکتی۔وہیں ناراض لوگوں سے اب یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں کانگریس کی سرکار بننے پر انہیں مختلف بورڈس اور کارپوریشن میں موقعہ دیا جائے گا۔

کیا وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے سچن پائلٹ اپنے ہی چکرویو میں پھنس گئے ہیں؟

خاص رپورٹ: راجستھان میں کانگریس کی کمان سنبھال رہے سچن پائلٹ نہ تو خود اسمبلی کا انتخاب لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی اشوک گہلوت کو انتخابی میدان میں امیدوار کی حیثیت سے اترتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے، لیکن ان کے اس منصوبے  پر ایک جھٹکے میں پانی […]

چھتیس گڑھ : کیا سی بی آئی سیاسی دباؤ میں سینئر پولیس افسر کلوری کو بچانے میں لگی ہے؟

سی بی آئی کی انٹرنل رپورٹ کے مطابق دو گواہوں نے2011 میں چھتیس گڑھ میں بستر ضلع‎ کے تاڑمیٹلا گاؤں میں پولیس افسر ایس آر پی کلوری کو آدیواسیوں کے گھروں میں آگ لگاتے ہوئے دیکھا تھا، لیکن جانچ ایجنسی کی فائنل چارج شیٹ سے اس کو ہٹا دیا گیا ہے۔

گاسپ یا گپ شپ کے بغیر نہ سیاست ہے نہ صحافت

گاسپ کی تخلیق کے کچھ غیر محررہ اصول ہوتے ہیں، جیسے اسے وہیں نوٹ نہ کریں یا اس سے متعلق سوال جواب نہ کریں۔ بتانے والے یعنی ذرائع کا تحفظ یقینی ہونا چاہیے۔ گاسپ یا گپ شپ لکھنے والے کو آزادی حاصل ہوتی ہے، مگر اس میں حقائق کا متاثر نہ ہونا ایک اہم شرط ہے۔

راجستھان : کیا وسندھرا راجے اور امت شاہ میں ایک بار پھر ٹھن گئی ہے؟

امت شاہ آدھے سے زیادہ ایم ایل اے کا ٹکٹ کاٹنا چاہتے ہیں جبکہ وسندھرا راجے 80 فیصد سے زیادہ ایم ایل اے کو پھر سے ٹکٹ دینے کے حق میں ہیں۔ اس رسّہ کشی میں شاہ کے ساتھ پوری ٹیم ہے جبکہ راجے اکیلی جدّو جہد کر رہی ہیں۔

رویش کا بلاگ: کسی دن یہ رہنما سپریم کورٹ سے کہہ دیں‌گے کہ ہمارے پاس مینڈیٹ ہے، فیصلہ ہم کریں‌گے

حکومت کے پاس اگر سپریم کورٹ کے حکم کو نافذ کرانے کا ڈھانچہ اور ارادہ نہیں ہے تو پھر سپریم کورٹ کو ہی حکومت سے پوچھ لینا چاہیے کہ ہم حکم دینا چاہتے ہیں، پہلے آپ بتا دیں کہ آپ نافذ کرا پائیں‌گے یا نہیں۔

مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے پی آر کےدفتر  نہیں ہوتے

سی سی ایس جیسے قانون کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کو ہی تباہ کر دینا ہے۔اعلیٰ تعلیم میں ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک خیالات کے لین دین کی آزادی نہ ہو۔اگر ان اداروں کا یہ رول ہی ختم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہی کیا رہے‌گی؟ ٹیچر اور ریسرچ اسکالر سرکاری ملازم کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔

اتر پردیش میں بی جے پی100’تین طلاق پرمکھ‘کی تقرری کرے گی

بی جے پی کے اقلیتی سیل کے مطابق دو’تین طلاق پرمکھ’کی تقرری ہو چکی ہے۔ جو خواتین شریعت اور قانون کی پختہ جانکاری رکھتی ہیں اور تین طلاق سے متاثر عورتوں کی زندگی میں سماجی تبدیلی لا سکتی ہیں، ان کو اس کام کے لئے منتخب کیا جائے‌گا۔

چھتیس گڑھ میں ہنگ اسمبلی اجیت جوگی کے لیے امید کی کرن ہوگی  

اگر چھتیس گڑھ میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہ ملی تو جوگی کے پاس کئی راستے ہیں۔ اگر انہیں اور بی ایس پی کے گٹھ بندھن کو کل 10 سیٹیں بھی مل جاتی ہیں تو وہ کانگریس کے سامنے مکھیہ منتری بننے تک کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔

بی جے پی کی ’میرا سجھاؤ،میرا چناؤ‘ مہم : جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا ؟

بی جے پی کی مدھیہ پردیش اکائی نے انتخابی ماحول میں’سمردھ مدھیہ پردیش’مہم کی شروعات کی ہے جس کے تحت ریاست کی عوام سے حکومت بننے پر حکومت کیسے چلایا جائے، اس کو لے کر مشورہ مانگے جا رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کمل ناتھ کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے؟

وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ عوام میں بےچینی ہے کیوں کہ چوہان نے وعدے تو خوب کیے لیکن پورے بہت کم کیےویاپم کی وجہ سے نوجوان خاص طور پرمایوس ہیں اور کسانوں میں حکومت کے خلاف بہت غم اور غصّہ ہے۔

ہر دن 92 بچوں کی موت کے باوجود مدھیہ پردیش میں غذائی قلت انتخابی مدعا کیوں نہیں ہے؟

گراؤنڈ رپورٹ : سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2016 سے جنوری2018 کے درمیان ریاست میں 57،000 بچوں نے غذائی قلت کی وجہ سے دم توڑ دیا تھا۔ غذائی قلت کی وجہ سے ہی شیوپور ضلع‎ کو ہندوستان کا ایتھوپیا کہا جاتا ہے۔

کیا مسلمانوں کی سیاسی بے وقعتی کے لیے’سرکاری مسلمان‘ذمہ دار ہیں؟

غلام نبی آزاد کے پی اے نے کہا؛ ہمیں وزیر سے ملنے والوں میں توازن رکھنا پڑتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک میں ہیں او راس کا تقاضا ہے کہ وزیر سے ملنے والوں کی لسٹ بھی سیکولر ہو۔ آج کی لسٹ میں ہندو ملاقاتیوں کی تعداد کچھ کم ہے۔

مدھیہ پردیش: شراب کی بوتلوں پر’سب کا ووٹ ضروری ہے‘ کے اسٹیکر، مخالفت کے بعد ہٹائے گئے

مدھیہ پردیش کی آدیواسی اکثریت والےجھابوا ضلع میں انتظامیہ نے بٹوائے تھے اسٹیکر۔اسٹیکر پرآدیواسی زبان میں لکھا تھا ہنگلا ووٹ ضروری سے، بٹن دباوا نوں،ووٹ ناکھوا نوں،یعنی سب کا ووٹ ضروری ہے ،بٹن دبانا ہے ،ووٹ ڈالنا ہے۔

لوک سبھا میں ایک بھی سیٹ نہ ہونے کے باوجود مایاوتی پی ایم کی دوڑ میں

مایاوتی کی زندگی تضادات سے بھرپور ہے اور وہ سودےبازی کرنےمیں ماہر ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو چاہیے کہ وہ تضادات کو سلجھانے کے ساتھ مایاوتی جیسی پکی سودےباز لیڈر کو رام کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔

ڈرے ہوئے لوگ خوف کی سیاست کر رہے ہیں…

اب تک ہماری جمہوریت کی تاریخ یہی رہی ہے کہ جس نے بھی اقتدار کے تکبر میں خود کو رائےووٹر سے بڑا سمجھنے کی حماقت کی،ووٹراس کو اقتدار سے بے دخل کرکے ہی مانے۔صاف ہے کہ ووٹ کی ایسی سیاست سے ووٹر کو نہیں، ان کو ہی ڈر لگتا ہے جو ڈرانے کی سیاست کرتے ہیں