Politics

اب ترنگا سے سکون نہیں، جنون پیدا کیا جا رہا ہے

ترنگا لےکر آپ کانور یاترا میں چل سکتے ہیں۔ گنیش وسرجن میں بھی اس کو لہرا سکتے ہیں۔ بد عنوانی مخالف تحریک میں بڑے ڈنڈوں میں باندھ‌کر موٹرسائیکل پر دوڑا سکتے ہیں۔ ترنگا سے آپ مسلمانوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کی لاش ڈھک سکتے ہیں، لیکن اس سے آپ اپنی بےپردگی ڈھک نہیں سکتے!

کیا متھن چکرورتی بھی کبھی ’اربن نکسل‘ تھے؟

خواجہ احمد عباس نے انہیں نکسلی تحریک پر مبنی فلم ‘دی نکسلائٹ’ (1980) ہی آفر کر دی۔ متھن کو یہ پیشکش قبول کرنے میں ہچکچاہٹ تھی کہ اس سے ان کے ماضی کی یادیں تازہ ہو رہی تھیں۔ انہیں وہ دن یاد آ رہے تھے کہ کیسے ہمیشہ ایک دوڑ سی لگی رہتی تھی۔

’ایمرجنسی‘اور’آپریشن بلیو اسٹار‘اندرا گاندھی کی سنگین غلطیاں : نٹور سنگھ

اپنی نئی کتاب میں کانگریس کے سینئر رہنما نٹور سنگھ نے لکھا ہے کہ اکثر اندرا گاندھی کو جابر بتایا جاتا ہے۔کبھی کبھار ہی یہ کہا گیا کہ وہ خوبصورت، باوقار اور شاندار انسان کے ساتھ ایک صاحب فکر ،انسانیت پرست اور پڑھنےوالی خاتون تھیں۔

کیا اشرافیہ  تحریک کے بعد پلٹی ہوا سے مدھیہ پردیش میں شیوراج کا دم پھول رہا ہے؟

ایس سی/ایس ٹی ایکٹ میں ہوئی ترمیم کی مخالفت ملک کے کئی حصوں میں ہو رہی ہے لیکن الیکشن کی دہلیز پر کھڑے مدھیہ پردیش میں اس کا اثر زیادہ ہے۔ بی جے پی-کانگریس دونوں ہی جماعتوں کے رہنماؤں کو ریاست میں جگہ جگہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سمترا مہاجن کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ صرف بی جے پی لیڈر نہیں لوک سبھا اسپیکر بھی ہیں؟

ایس سی ایس ٹی ایکٹ کو لےکر سمترا مہاجن نجی طور پر کوئی بھی رائے رکھیں، لیکن لوک سبھا اسپیکر کے طور پر ان کا چاکلیٹ والا بیان کہیں سے بھی جائز اور ان کے عہدے کے وقار کے مطابق نہیں مانا جا سکتا۔

ایسی کوئی جگہ نہیں، جہاں بچوں کا جنسی استحصال نہ ہوتا ہو

منسٹری آف وومینز اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی اسٹڈی ‘چائلڈ ایبیوز ان انڈیا’کے مطابق ہندوستان میں 53.22 فیصد بچوں کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ طرح کی جنسی بد سلوکی اور زیادتی ہوئی ہے۔ ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ میرے گھر میں بچوں کا جنسی استحصال نہیں ہوا؟

دوسرے ممالک میں گائے دودھ کے لئے ہوتی ہے، ہمارے یہاں فساد کرنے کے لئے

عوام کہتی ہے ہماری مانگ ہے مہنگائی بند ہو، منافع خوری بند ہو، تنخواہ بڑھے، استحصال بند ہو، تب ہم اس سے کہتے ہیں کہ نہیں، تمہاری بنیادی مانگ گئورکشا ہے۔ یہ آندولن عوام کو الجھائے رکھنے کے لئے ہے۔

ایک نہیں بہار کے 15اداروں میں ہورہا ہے بچوں کا استحصال

خیر مظفرپور کا واقعہ تو اب حکومت اور انتظامیہ کی نظر میں ہے اور اس پر کارروائی بھی ہوتی دکھ رہی ہے، لیکن ٹی آئی ایس ایس کی جس رپورٹ پر یہ ساری معلومات سامنے آئی تھی اس میں 14 دوسرے بال گریہہ کے اوپر بھی انگلی اٹھائی گئی تھی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ڈوگرہ راج کے پاسبان کون ہیں؟

مسلم آبادی کو مزید احساس محرومی کا شکار کروانے کے لیے اب یہ باورکرایا جا رہا ہے کہ ریاست کے نجات دہندہ ڈوگرہ حکمران تھے۔ کشمیر کے دونوں اطراف شعوری طورپر کوشش کی جارہی ہے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ اوران کے جانشین راجوں کو تاریخ کا ہیرو بناکر پیش کیاجائے۔

پاکستانی انتخابات: پارسی اقلیت کہاں کھڑی ہے؟

عام انتخابات میں رائے دہی کے اہل کروڑوں پاکستانی شہریوں میں انتہائی چھوٹی سی پارسی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ووٹر بھی شامل ہیں، جن کی اکثریت ممکنہ طور پر اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کرے گی۔