ہم بھی بھارت : ایس سی ایس ٹی قانون میں تبدیلی
ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیےایس سی ایس ٹی قانون میں سپریم کورٹ کی ترمیم پردلت مفکر چندر بھان پرساد اور سپریم کورٹ کے وکیل کے ٹی ایس تلسی سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چی
ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیےایس سی ایس ٹی قانون میں سپریم کورٹ کی ترمیم پردلت مفکر چندر بھان پرساد اور سپریم کورٹ کے وکیل کے ٹی ایس تلسی سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چی
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے بڑھتے واقعات اور الیکشن کمیشن کے رول پر اٹھتے سوالات پر ونود دوا کا تبصرہ
برقع اور ٹوپی کو مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بتانے والوں کو اپنے تعصبات کے پردے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے نمو ایپ پر یوزر ڈیٹا لیک کرنے کا الزام اور کوبرا پوسٹ کے ذریعے میڈیا ہاؤس پر کیے پیڈ نیوز کے انکشاف پر ونود دوا کا تبصرہ
مجھے پتا ہے کہ بینک کے ہیڈکوارٹر والے سینئر میرا ہر مضمون پڑھنے لگے ہیں۔اس لئے یہ لائن لکھ رہا ہوں۔بتانے کے لئے کہ جھوٹ کی دکان زیادہ دنوں تک نہیں چلتی ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے فیس بک ڈیٹا چوری تنازعہ اور لوک پال کی تقرری کو لے کر انا ہزارے کے ذریعہ پھر سے آندولن پر ونود دوا کا تبصرہ
ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر آزاد صحافی نہا دکشت اور دی وائر کے اجئے آشیرواد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت
شرد یادو نے کہا کہ بی جے پی کے ذریعے پھیلائی جا رہی فرقہ پرستی کو سماجی انصاف کی تحریک ہی روک سکتی ہے۔ آج سماجی عدم مساوات کا عالم یہ ہے کہ کسان، دلت اور غریب طبقہ بےحد دقت میں ہیں۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے عراق میں قتل کیے گئے 39 ہندوستانیوں کو لے کرمرکزی حکومت کےدعوی پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے یونیورسٹی کی خودمختار یت کے سوال اور دہلی میں ہو رہے راشٹر رکشا مہایگیہ پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے این ڈی اے میں انتشار اور کانگریس کی کمزوریوں پر ونود دوا کا تبصرہ
یہ بات بالکل دو اور دو چار جیسی صاف ہے کہ کانگریس جنرل اسمبلی کے منچ سے جو بھی بولا جا رہا تھا وہ محض سیاسی بیان بازی تھی۔
ہمارے عظیم کھلاڑیوں کو عوام سرآنکھوں پر بٹھاتی ہے، مگر عوام پر جب ایسا کوئی برا وقت آتا ہےجس کے لئے حکومت یا سماج کا ایک طبقہ ذمہ دار ہو تو وہ ایسے غائب ہو جاتے ہیں، گویا اس دنیا میں رہتے نہ ہوں۔
جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کامیاب ہو جاتی ہے، وہاں یہ مبینہ چانکیہ نیتی کا ڈھول پیٹتے ہیں، جہاں ناکام ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ زیادہ اعتماد ہمیں لے ڈوبا۔
آپ اپنے سیاسی صحافیوں اور مدیروں سے یہ بھی نہیں جان پائیںگے کہ دین دیال اپادھیائے کے انتیودیہ (Antyodaya)پر چلنے والی پارٹی نے کئی سو کروڑ کا ہیڈکوارٹر بنایا ہے وہ اندر سے کتنا شاندار ہے۔
گورکھ پور میں ملی ہار یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے بڑا جھٹکا ہے۔ بی جے پی کارکن ان کو 2024 میں وزیر اعظم کی صورت میں دیکھ رہے تھے، لیکن اپنی سیٹ چھوڑو وہ اپنا بوتھ تک نہیں بچا پائے۔
گورکھ پور سے گراؤنڈ رپورٹ : مارچ 2017 کے بعد یوپی کی سیاست میں نئی تبدیلی کی جوکمزور آوازیں اٹھ رہی تھیں اس کو سنا نہیں گیا۔ یہ آوازیں اس انتخاب میں بہت جارحانہ تھیں لیکن اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اب جب اس نے اپنا اثر دکھا دیا تو سبھی حیران ہیں۔
بد عنوانی ہندوستانی سیاست کی روح ہے۔ ا س کے جسم پر راشٹرواد اور سیکولرزم اوڑھکر سب نوٹنکی کرتے ہیں۔
ایودھیا کے تعلق سے سری سری کا یہ دعویٰ کرنا کہ اگر عدالت ہندتووادیوں کی مانگ کو خارج کرتا ہے تو ہندو تشدد پر اتر آئیںگے، اس کے ذریعے وہ نہ صرف قانون کی حکومت کو چیلنج دے رہے تھے بلکہ آئینی اصولوں پر بھی سوال کھڑا کر رہے تھے۔
گجرات میں اسمبلی انتخاب کے وقت نرمدا کے پانی کو لےکر عوام کو خواب دکھائے گئے لیکن اب گرمی آنے سے پہلے حکومت نے کہہ دیا ہے کہ آب پاشی کے لئے آبی ذخیرہ کا پانی نہیں ملےگا۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ٹی ڈی پی کے آندھرا پردیش کوخصوصی ریاست کا درجہ دیے جانے کے مطالبہ پر جاری سیاسی اٹھا پٹک پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے مجسموں کی توڑ پھوڑ اور ہندوستان میں گوشت خوری پر ونود دوا کا تبصرہ
تریپورہ کے سبروم شہر میں لینن کے ایک اور مجسمہ کو نقصان پہچایاگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت دی۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے جان بوجھ کر قرض ادا نہ کرنے والے بینک ڈیفالٹرس اور نارتھ ایسٹ میں بی جے پی کی جیت پر ونود دوا کا تبصرہ
بی جے پی کارکنان پرساؤتھ تریپورہ کے بیلونیا شہر میں لگے لینن کے مجسمہ کوگرانے کا الزام۔ اس دوران بھارت ماتا کی جئے کے نعرے بھی لگائے گئے۔
آئی پی ایف ٹی کے صدر نے کہا آدیواسیوں کی حمایت کے بغیر بی جے پی کو اکثریت ملنا ممکن نہیں تھا، اس لئے ایوان کا رہنما آدیواسی ہونا چاہئے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے لوک پال سلیکشن کمیٹی سے کانگریس کا بائیکاٹ اور نمامی گنگے پر ونود دوا کا تبصرہ
آج جب دنیا میں مختلف قسم کی خرابی اجاگر ہونے کے بعد گلوبلائزیشن کی خراب پالیسیوں پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے، ہمارے یہاں انہی کو گلے لگائے رکھکر سو سو جوتے کھانے اور تماشہ دیکھنے پر زور ہے۔
ہائی کورٹ کی بنچ نے کہا کہ بلدیہ اور پولیس اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے سے ڈر کیوں رہی ہے؟ آپ کو بے خوف ہونا چاہئے اور کسی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔
ملک کے جھنڈے کو بھی کیوں فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے؟ کیا ہم لڑتےلڑتے اتنے دور آ گئے ہیں کہ ملک کے پرچم کو بھی تقسیم کر دیںگے؟
راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے، ‘ پہلے للت، پھر مالیا، اب نیرو بھی ہوا فرار۔ کہاں ہے ‘ نہ کھاؤںگا، نہ کھانے دوںگا ‘ کہنے والا ملک کا چوکیدار؟ صاحب کی خاموشی کا راز جاننے کو عوام بےقرار، ان کی خاموشی چیخ چیخ کر بتائے وہ کس کے ہیں وفادار۔ ‘
’ پہاڑ کی راجدھانی پہاڑ میں ‘کے نعرے کے ساتھ گیرسین کو راجدھانی بنائے جانے کی تحریک ایک بار پھر طول پکڑتی نظر آ رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ کے ذریعے کمیشن نے کہا کہ سیاست کو جرم سےآزاد بنانے کی سمت میں اور موثر قدم اٹھانے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہوگی جو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ دعویٰ بار بار اس لئے کیا جاتا ہے کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اپنے آخری دنوں میں گاندھی جی کانگریس اور اس کے رہنماؤں سے دور ہو گئے تھے۔
واقعی؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ پٹیل جوناگڑھ اور حیدر آباد کے بدلے پورا کشمیر پاکستان کو دینے کو تیار تھے؟
سونیا گاندھی نے کہا کہ اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف تشدد اتفاقیہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ہے تاکہ سماج کا پولرائزیشن کر گھٹیا سیاسی فائدہ لیا جا سکے۔
مدھیہ پردیش کے ایٹہ رسی میں طلبا کے ذریعے بی جے پی کو ووٹ نہ کرنے کا حلف لینے سے شروع ہوا سلسلہ پوری ریاست میں جاری ہے۔ ریاست کے الگ الگ علاقوں سے بی جے پی کو ووٹ نہ کرنے کے حلف لینے کی خبریں آ رہی ہیں۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے اتر پردیش کی بد حالی اور جموں و کشمیر میں بی جے پی ،پی ڈی پی اتحاد کی ناکامیابیوں پر ونود دوا کا تبصرہ
مدھیہ پردیش کے مُرینا سے رکن پارلیامنٹ انوپ مشرا نے پارلیامنٹ میں کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کی اسکیموں کی عمل آوری پر نگرانی کی کمی ہے۔ نگرانی ضروری ہے تبھی عوام کو ان کا فائدہ ملےگا۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے وزیراعظم کے پکوڑا بیچنے کو بھی روزگار قرار دینے والے بیان کو لے کرراجیہ سبھا میں امت شاہ کی وضاحت پر ونود دوا کا تبصرہ