Puducherry

ہندوستان: بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔

’ہمارے یہاں مسائل بھی بڑے مہذب اور با اخلاق ہوتے ہیں؛ انتخابات کے مکمل ہونے تک خاموشی سے گوشہ نشیں رہتے ہیں‘

ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔

عوام سے کفایت شعاری کی اپیل  کے باوجود وزیراعظم کی ریلیاں اور روڈ شو جاری  

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی،  اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔

پی ایم مودی کی ایندھن بچانے اور سونا نہ خریدنے کی اپیل پر اپوزیشن کا حملہ – انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔

کیا ہندوستان میں انتخابات غیر جانبدار رہ گئے ہیں؟

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی  تیواری۔

خاموش احتجاج: پدرشاہی پنچایتی نظام کے خلاف پڈوچیری کی ماہی گیر خواتین کی بغاوت

پڈوچیری کی غیر رسمی اُر (گرام) پنچایتیں ماہی گیروں کے کاروبار سے لے کر شادی اور دوسرے تنازعات تک کے معاملے طے کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ حالانکہ ان پنچایتوں میں عورتوں کی نمائندگی نہیں رہی ہے اور نہ ہی ان کی بات سنی جاتی رہی ہے۔ لیکن اب سست گام ہی سہی، تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

نو ریاستوں میں نئے گورنروں کی تقرری، الیکشن میں ٹکٹ نہ پانے والے بی جے پی لیڈروں کو عہدہ  

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سنتوش گنگوار کو جھارکھنڈ کا گورنر بنایا گیا ہے۔ چھ بار کے ایم پی گنگوار کو لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ ان کے علاوہ تریپورہ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ جشنو دیو ورما، سابق راجیہ سبھا ایم پی او پی ماتھر، سابق لوک سبھا ایم پی سی ایچ وجئے شنکر کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔

پڈوچیری: واحد خاتون وزیر نے ذات پات اور صنفی امتیاز کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا

پڈوچیری کی آل انڈیا این آر کانگریس – بھارتیہ جنتا پارٹی گٹھ بندھن سرکار میں ٹرانسپورٹ کی وزیر ایس چندیرا پریانگا نے کہا ہے کہ ‘مجھے احساس ہو رہا تھا کہ مجھے ذات اور جنس کی بنیاد پر مسلسل تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔’ ان کا تعلق دلت برادری سے ہے۔

پڈو چیری کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے، کرن بیدی کو ایل جی کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

ویڈیو:پڈوچیری میں سیاسی رسہ کشی جاری ہے ۔ایک طرف جہاں کانگریس سرکار کے ایم ایل اے پارٹی چھوڑ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ایل جی کے عہدے سے کرن بیدی کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ کرن بیدی کی جگہ پر نئی تقرری ہونے تک تلنگانہ کی گورنر تاملسائی سوندریہ راجن کو فی الحال پڈوچیری کے ایل جی کی ذمہ داری سنبھالنے کو کہا گیا ہے۔

رام چندر گہا کا کالم: دلائی لاماکوبھارت رتن سے سرفراز کیا جانا چاہیے

ہندوستان کی عوام نے دلائی لاما سے محبت کی اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا؛ بدلے میں یہی انہوں نے ہندوستانی عوام کو لوٹایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی حالیہ حکومتوں نے، چین کے خوف سے انہیں لے کر محتاط رویہ اپنایا۔ جبکہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔