دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
راشٹرپتی بھون کے دربار ہال اور اشوک ہال اب گن-تنتر منڈپ اور اشوک منڈپ کے نام سے جانے جائیں گے۔ دربار ہال وہ جگہ تھی جہاں 1947 میں آزاد ہندوستان کی پہلی حکومت نے حلف اٹھایا تھا۔
شہریوں کو فرض شناسی کی ترغیب دینا آمرانہ طرزحکومت کا محبوب مشغلہ ہے۔ اس کو پہلی بار اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے دوران متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد سے عام شہریوں کے حقوق کو پامال کرنے والی حکومتوں نے اکثر اپنے فرائض کی تکمیل کے بجائے شہریوں کے فرائض اور اس کی اہمیت پر ہی زور دیا ہے۔
فنانس سیکرٹری ہنس مکھ ادھیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قیمتی تحفہ توشہ خانہ بھجوا دیا تھا، لیکن وہ یہ نہیں بتا پائے کہ انہوں نے اس بارے میں جانچکے حکم کیوں نہیں دئے۔