گجرات کے سورت کے صلابت پورہ علاقے میں بی جے پی کارپوریٹر پر فارم-7 کا غلط استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمان ووٹروں کو ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام حذف کر وانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے پولیس میں شکایت درج کر کے کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی اننت رائے (مہاراج) نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جائیں گے، انہیں ان حراستی کیمپوں میں رکھا جائے گا اور ان سے ان کا ڈومیسائل ثابت کرنے کو کہا جائے گا۔ مغربی بنگال بی جے پی نے ایم پی کے اس تبصرے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کے بارے میں بولنے والے ملک کے پہلے بھاجپائی چیف منسٹر بننے کو کچھ لوگوں نے اس سے پہلے دیگر وزرائے اعلیٰ کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کی شکایتوں کی تصدیق کے طور پر دیکھا ہے۔ تاہم، کئی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا یوپی میں ایس آئی آر میں ’کھیل‘ کرنے کے ارمانوں کے برعکس بی جے پی کو ہی بڑے نقصان کا ڈر ستانے لگا ہے؟
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ ریاست میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بیانیہ کو چیلنج کرتی ہے۔ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جنہیں ‘باہری’ کہا جاتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ عرصے سے آباد ‘ٹھوس’ اور حقیقی شہری ہیں۔
منگل کو مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ایس آئی آر کے تحت ریاست کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ناموں کی فہرست جاری کی۔ اس میں سے 5,820,898 پہلے سے رجسٹرڈ ووٹر کے نام مختلف وجوہات -موت، ٹرانسفر، ڈپلی کیشن، گمشدگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ہٹائے گئے ہیں۔ متاثرہ لوگ 15 جنوری تک اپنے دعوے اور اعتراضات درج کر سکتے ہیں۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔
مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہار کے بھوجپور ضلع کے آرہ اسمبلی حلقہ کے 41 سالہ منٹو پاسوان کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کے تحت جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا تھا۔ 12 اگست کو پاسوان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر تنازعہ جاری ہے۔ 1 اگست کو جاری کی گئی مسودہ فہرست سے 65 لاکھ نام ہٹائے گئے ہیں۔ اپوزیشن اس پورے عمل کے خلاف سڑکوں پر ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس عمل کے شفاف نہ ہونے اور بعض طبقات کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ ڈرافٹ لسٹ کئی طرح کی بے ضابطگیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں غریب، مسلم اکثریتی اور روزی روٹی کے لیے دوسری ریاستوں میں جانے والے اضلاع سے بڑی تعداد میں ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، ہجرت اور ناموں کے ہٹائے جانے کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔
بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن کے خلاف ‘انڈیا’ الائنس کے وفد نے بدھ کی شام الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ وفد میں شامل اکثر رہنماؤں نےاس میٹنگ کو ‘مایوس کن’ اور ‘ناخوشگوار’ قرار دیا۔
بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ پر اسپیشل انٹینسو ریویژن شروع کیا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کمیشن کی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی نظرثانی ہے، جہاں ہر ہفتے نئے آرڈر آتے ہیں اور پرانے آرڈر بدل دیےجاتے ہیں؟ کیا کمیشن خود ہی طے نہیں کر پا رہا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟