suspend

مراٹھی نیوز چینل لوک شاہی کا لوگو۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

مرکز نے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی سیکس ٹیپ اسٹوری چلانے والے چینل کا لائسنس رد کیا

وزارت اطلاعات و نشریات نے 30 دنوں کے لیے مراٹھی نیوز چینل ‘لوک شاہی’ کا لائسنس اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ چینل کے آپریٹر وہ لوگ نہیں ہیں، جن کے نام پر لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ پچھلے سال بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے مبینہ سیکس ٹیپ پر رپورٹ کرنے کے لیے چینل کو 72 گھنٹے کی معطلی کا نوٹس وزارت کی جانب سے موصول ہوا تھا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

اترپردیش: سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت کرنے پر پولیس اہلکار معطل

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع میں ریزرو پولیس لائن میں تعینات کانسٹبل سہیل انصاری نے مبینہ طور پر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر فلسطین کے لیے مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹیٹس ڈالا تھا۔ حال ہی میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اسرائیل — فلسطین جنگ پر کسی بھی ‘متنازعہ بیان’ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: Pixabay)

گوا: ورکشاپ کے لیے طالبعلموں کو مسجد لے جانے کی وجہ سے پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل سسپنڈ

جنوبی گوا کے کیشو اسمرتی ہائر سیکنڈری اسکول کا معاملہ۔ وشو ہندو پریشد کے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ورکشاپ کا اہتمام ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے وابستہ ایک تنظیم کی دعوت پر کیا گیا تھا۔ پرنسپل کے خلاف ‘ملک مخالف سرگرمیوں کی حمایت’کے الزام میں پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی)

آرٹیکل 370 پر شنوائی کے لیے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے کشمیری لیکچرار سسپنڈ

سری نگر کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کےسینئر لیکچرار ظہور احمد بھٹ ایک وکیل بھی ہیں۔ گزشتہ 23 اگست کو وہ آرٹیکل 370 کو کمزور کرنے کے مرکز کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں جاری معاملے میں درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔ ایک سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان کے طرز عمل کی انکوائری زیر التوا ہے، انہیں فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: فلکر/ایڈم کوہن (CC BY-NC-ND 2.0)

وشو ہندو پریشد کے احتجاج کے بعد گجرات کے دو اسکولوں نے بقرعید منانے کے لیے معافی مانگی

پہلا معاملہ شمالی گجرات کے مہسانہ ضلع کے ایک پری اسکول کا ہے۔ احتجاج کے بعد اسکول کی ڈائریکٹر نے تحریری طور پرمعافی مانگی ہے۔ وہیں، ضلع کچھ کے بھج کے ایک اسکول میں بقرعید کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا تھا، جس کی بھگوا تنظیموں، والدین اور رہنماؤں نے مخالفت کی تھی۔

(علامتی تصویر، بہ شکریہ: پکسابے)

گجرات: عید کے موقع پر اسکول میں ہوئے ڈرامے پر تنازعہ، پرنسپل کو سسپنڈ کیا گیا

یہ معاملہ کچھ ضلع کے مُندرا کے ایک پرائیویٹ اسکول کا ہے، جہاں عید کے موقع پر بھائی چارے کا پیغام دینے کے لیے طالبعلموں نے ایک ڈراماپیش کیا تھا۔ اس میں کچھ طالبعلموں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی، جس کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد والدین اور دائیں بازو کی تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسکول میں ہنگامہ کیا تھا۔