مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے میدنی پور واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے، اس دوران بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات – ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔
مغربی بنگال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے اور اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹنگ پیٹرن کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بنگال میں لوک سبھا کی 42 میں سے 30 سیٹیں جیتنے کے بی جے پی کے ہدف میں اقلیتی طبقہ رکاوٹ بنا۔
ویڈیو: مغربی بنگال میں بی جے پی کے لیڈر آف اپوزیشن سویندو ادھیکاری اور بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے سندیش خالی علاقے کے اپنے دورے کے دوران وہاں تعینات ایک سکھ آئی پی ایس افسر جسپریت سنگھ کو مبینہ طور پر ‘خالصتانی’ کہہ دیا تھا۔ اس معاملے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سویندو ادھیکاری نے سندیش خالی کے اپنے دورے کے دوران وہاں تعینات سکھ آئی پی ایس افسر جسپریت سنگھ کو مبینہ طور پر ‘خالصانی’ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ واقعہ کے وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ‘خالصتانی’ کہے جانے کے بعد اسپیشل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنگھ بی جے پی لیڈروں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔