ہاپوڑ ضلع میں کانوڑیوں کے ایک گروپ کی جانب سے بری طرح پیٹے گئے 24 سالہ عظیم کی 4 اگست کو دہلی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑے ایک آٹو رکشہ سے ٹکرا گئی تھی، جس میں کانوڑ یاتری سوار تھے۔ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پہلی ایف آئی آر مقتول کے والد نے درج کروائی ہے، جبکہ دوسری آٹو ڈرائیور کے والد کی شکایت پر مقتول کے خلاف درج کی گئی ہے۔
سنبھل تشدد کی جانچ کے لیےبنائے گئے تین رکنی عدالتی کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ پتہ لگائے کہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا یا پہلے سے منصوبہ بند تھا، اور کیا اس کے پس پردہ کوئی مجرمانہ سازش تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن کو یہ بھی پتہ لگانا تھا کہ یہ واقعہ کن وجوہات اور حالات میں پیش آیا۔
کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک کے معاملے میں ایک نابالغ کو دو مہینے تک بالغ قیدیوں کے ساتھ جیل میں رکھے جانے پر دی وائر کی رپورٹ کا این ایچ آر سی نے نوٹس لیا ہے۔ اس کے بعد گوتم بدھ نگر پولیس نے مذکورہ لڑکے کو ’دنیش‘ کہتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بالغ ہے۔ دنیش نابالغ کے بڑے بھائی ہیں اور ان کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں ایک ویڈیو میں اپنے بھائی کے ذریعے ان کا آدھار کارڈ چوری کرکے نوکری کرنے کی بات قبول کرنے کوکہا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک معاملےمیں 14 اپریل کو حراست میں لیے جانے کے بعد ایک نابالغ لڑکے کو تقریباً دو مہینے تک بالغ ملزمین کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔ میڈیکل جانچ میں نابالغ ثابت ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد اسے جووینائل ہوم بھیجا گیا۔ 29 مئی کو ضمانت مل جانے کے بعد بھی وہ اب تک باہر نہیں نکل سکا ہے کیونکہ اہل خانہ کے پاس ضمانت بھرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر ’افطار‘ کرنے اور مبینہ طور پر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے باقی چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔ اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمین کو ضمانت دی تھی۔
اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافے، سازگار ماحول اور مزدوروں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے دو لوگوں پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔
گزشتہ مہینے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ایک لیڈر کی شکایت پر گنگا میں افطار کرنے کے معاملے میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں کو وارانسی کی ایک سیشن کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سیشن جج نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے انجام دیا گیا تھا۔
وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر افطار پارٹی کرنے اور بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک عہدیدار کی شکایت پر درج کی گئی، جنہوں نے ان افراد پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کی ایک مسجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے اتر پردیش انتظامیہ کے حکم کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر حکام اسے نافذ نہیں کر سکتے تو انہیں اپناعہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
بریلی سے تعلق رکھنے والے حسین خان کو مبینہ طور پر پولیس نے اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا اور ان کے گھر پر بلڈوزر چلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں دو مسلح سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حسین خان یا ان کی جائیداد کے خلاف کسی بھی طرح کی تشدد کی کارروائی کے لیے ریاست کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری میں دیے گئے اپنے فیصلے پرعمل نہ کرنے کے معاملے میں بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک درخواست گزار نے رمضان کے پیش نظر اپنے نجی احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی، جسے انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے جنوری میں واضح کیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتر پردیش کے بستی ضلع میں پولیس نے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 18 پھیری والوں کو آدھار اور ووٹر آئی ڈی ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر قرار دے کر پانچ دنوں سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ مہاجرین کے حقوق کے ایک فورم نے مغربی بنگال کے حکام سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی پولیس میں بھرتی کے عمل کو ‘شفاف’ قرار دیا ہے، لیکن گزشتہ سال پیپر لیک کی وجہ سے اس امتحان کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کا انعقاد کرنے والی گجراتی کمپنی ایڈوٹیسٹ کی تاریخ داغدار رہی ہے۔ یوپی حکومت کو بھی اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا پڑا تھا۔ اس کمپنی کے بانی ڈائریکٹر کے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں سے قریبی روابط رہے ہیں۔
کانپور پولیس کے ایک مبینہ’انکاؤنٹر’میں دو افراد کے پیروں میں گولی مارنے کے تقریباً پانچ سال بعد مقامی عدالت نے پایا کہ جو ہتھیار پولیس نے ان سے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ پولیس کے مال خانے سےہی لیا گیا تھا۔ عدالت نے پولیس کی گواہی میں کئی تضادات پائے، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش نہیں کیا گیا۔
پولیس نے 23 مارچ کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کے صدر ظفر علی کو نومبر 2024 میں ہوئے تشدد کی مبینہ سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ علی کے بھائی نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان دینے سے روکنے کے لیے گرفتار کیا ہے۔
یوگی حکومت کے سات سالوں میں اتر پردیش میں جرائم کے خاتمے کے کئی بلند و بانگ دعوے کے باوجود ایسے پولیس ‘انکاؤنٹر’ کی ضرورت ختم نہیں ہو رہی جہاں فرار ہونے کی مبینہ کوشش میں ملزم کو مار گرایا جاتا ہے۔ یا پولیس جس کو زندہ گرفتار کرنا چاہتی ہے، گولی اس کے پاؤں میں لگتی ہے، ورنہ
مارچ 2017 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یوپی پولیس کے مبینہ انکاؤنٹر کے واقعات میں 190 لوگوں کی موت کے علاوہ، پولیس نے ایسے واقعات میں 5591 لوگوں کو گولی مار کر زخمی کیا ہے۔
آلٹ نیوز کے صحافی محمد زبیر کے خلاف مظفر نگر کے اسکول کے مسلمان طالبعلم کو ساتھی طالبعلموں کے ذریعے زدوکوب کرنے سے متعلق ویڈیو شیئر کرکے طالبعلم کی شناخت ظاہر کرنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا ہے۔ زبیر نے اس کو ‘بدلے کی سیاست’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے این سی پی آر کے کہنے کے بعد مذکورہ ویڈیو ہٹا دیا تھا۔
ویڈیو: اتر پردیش کے شہر الہ آباد میں گزشتہ 15 اپریل کی رات پولیس گھیرے میں موجودگینگسٹر عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے 13 اپریل کو عتیق کے بیٹے اسد احمد اور ایک دیگر شخص کو جھانسی میں ایک انکاؤنٹر کے دوران اتر پردیش پولیس نے مار گرایا تھا۔
ویڈیو: عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو الہ آباد میں اتر پردیش پولیس کی موجودگی میں میڈیا کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کے حکم دیے ہیں۔ اس واقعہ کے پیش نظر ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
ویڈیو: گزشتہ دنوں یوپی پولیس نے بتایا تھا کہ آگرہ میں رام نومی کے موقع پر گئو کشی کی ایک واردات کے سلسلے میں اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے لوگوں نے کچھ مسلم نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ بعد میں پولیس نے پایا کہ اس تنظیم کے ارکان نے مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے گئو کشی کی سازش کی تھی۔ اس معاملے پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
اتر پردیش کے آگرہ ضلع کا معاملہ۔ رام نومی پر گئو کشی کی واردات ہوئی تھی اور گائے کا گوشت برآمد کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے عہدیداروں نے کچھ مسلم نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ تاہم کال ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ملزم ایک ماہ سے زائد عرصے سے جائے وقوعہ پر نہیں گئے تھے۔
ویڈیو: مقبول بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ کو حال ہی میں پولیس نے ان کے مشہورگیت ‘یوپی میں کا با’ کے سیزن 2 کے لیے نوٹس جاری کیاتھا۔ انہوں نے گیت میں کانپور دیہات میں انسداد تجاوزات مہم میں ہوئی ماں اور بیٹی کی موت پر طنز کیا تھا۔ اس پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
معروف بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ کے انتہائی مقبول گیت’یو پی میں کا با’کے سیزن 2 کے ایک نئے گیت میں کانپور دیہات میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران ماں – بیٹی کی موت کے حوالے سے طنز کیا گیا ہے۔ یوپی پولیس نے انہیں نوٹس بھیج کر کہا ہے کہ اس گیت کی وجہ سے معاشرے میں بدامنی اور تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
بک ریویو: تحریک کے ساتھ ہی تحریکوں کو دستاویزی پیرہن عطا کرنا ایک اہم اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ صحافی مندیپ پنیا نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے سفر کو تخلیقی انداز میں حقائق کے ساتھ پیش کرکے اس سمت میں کوشش کی ہے۔
ویڈیو: لکھیم پور کھیری واقعے کے ایک سال پورے ہونے پر راکیش ٹکیت وہاں پہنچے تھے۔ ٹکیت نے حکومت کو کسان مخالف اور غریب مخالف بتایا، ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کو درپیش چیلنجز، مہنگائی، ایم ایس پی اور چارے کی قلت جیسے موضوعات پر دی وائر کے لیے اندر شیکھر سنگھ سےبات کی۔
گزشتہ سال 3 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیہ گاؤں میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا ‘ٹینی’ کے بیٹے آشیش مشراکلیدی ملزم ہیں۔
لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں اپنے بیٹے کی مبینہ شمولیت کے سلسلے میں مسلسل تنقید کی زد پر رہے مرکزی وزیر اجئے مشرا ‘ٹینی’ ایک ویڈیو میں بالواسطہ طور پر احتجاج کرنے والے کسانوں کے بارے میں یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ تیز رفتار گاڑی پر کئی بار کتے بھونکا کرتے ہیں، وہ گاڑی کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں ، یہ ان کی فطرت ہے۔
اتر پردیش میں رام پور اور اعظم گڑھ کی لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی انتخاب کے لیے جمعرات کو ووٹنگ کے دوران سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز وائرل ہو رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس مسلم ووٹروں کو پولنگ مراکز کے اندر جانے سے روک رہی ہے۔ وہیں اپوزیشن پارٹی ایس پی نے بھی مختلف علاقوں میں گڑبڑی کا الزام لگاتے ہوئے کئی ٹوئٹ کیے ہیں۔
چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔
گزشتہ سال 3 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیہ گاؤں میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا ‘ٹینی’ کے بیٹے آشیش مشرا کو 9 اکتوبر 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں 10 فروری کو ضمانت دی تھی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا ‘ٹینی’ اور دیگر کے خلاف لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیہ پولیس اسٹیشن میں ایک 24 سالہ نوجوان کے قتل کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ وہیں مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا پر گزشتہ سال ضلع میں تشدد کے دوران چار کسانوں اور ایک صحافی کو ایس یو وی سے کچل کر ہلاک کردینے کا الزام ہے۔
گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر کے گیٹ پر مذہبی نعرہ لگاتے ہوئے ایک نوجوان نے مندر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور دو سیکورٹی گارڈز پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر دیا۔ نوجوان کی شناخت احمد مرتضیٰ عباسی کے طور پر کی گئی ہے جس نے آئی آئی ٹی ممبئی سے انجینئرنگ کی ہے۔
سُلی ڈیلز اور بُلی بائی ڈیلز نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر ‘نیلامی’کے لیے ڈالی گئی تھیں۔ سُلی ڈیلزبنانے والےاومکاریشور ٹھاکر کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ ملزم نے پہلی بار جرم کیا ہے اور طویل عرصےتک قید اس کے لیے نقصاندہ ہو سکتی ہے۔
ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی وکیلوں کے ایک بین الاقوامی گروپ گورینیکا 37 نے یو ایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے پاس جمع کرائی گئی ایک درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سابق ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ اور کانپور کےایس پی سنجیو تیاگی کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔